Book Name:Sirat ul jinan jild 6

هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ۪-فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ‘‘(اعراف:۱۵۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اے لوگو!میں  تم سب کی طرف   اللہ کا رسول ہوں  جس کے لئے آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت ہے  ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں  ، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو ایمان لاؤ  اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں  ،  ( کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں  ہیں  ،   اللہ اور اس کی تمام باتوں  پر ایمان لاتے ہیں  اوران کی غلامی کرو تاکہ تم ہدایت پالو۔

            اورارشاد فرماتا ہے:

’’قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ‘‘(اٰل عمران۳۱ ، ۳۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! فرمادو کہ اے لوگو! اگر تم  اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبرداربن جاؤ  اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ تم فرمادو کہ  اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو پھراگر وہ منہ پھیریں  تو  اللہ کافروں  کو پسند نہیں  کرتا۔

            اور جو لوگ قرآن عظیم کی پیروی اور رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اتباع کریں  ان کے بارے میں  ارشاد فرماتاہے:  

’’اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘(اعراف :۱۵۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  وہ جواس رسول کی اتباع کریں  جو غیب کی خبریں  دینے والے ہیں  ، جو کسی سے پڑھے ہوئے نہیں  ہیں   ،  جسے یہ (اہلِ کتاب )اپنے پاس تورات اور انجیل میں  لکھا ہوا پاتے ہیں  ،  وہ انہیں  نیکی کا حکم دیتے ہیں  اور انہیں  برائی سے منع کرتے ہیں  اور ان کیلئے پاکیزہ چیزیں  حلال فرماتے ہیں  اور گندی چیزیں  ان پر حرام کرتے ہیں  اور ان کے اوپر سے وہ بوجھ اور قیدیں  اتارتے ہیں جو ان پر تھیں تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں  اور اس کی تعظیم کریں  اور اس کی مدد کریں  اور اس نور کی پیروی کریں  جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔

             اللہ تعالیٰ ہمیں  قرآنِ مجید کی پیروی کرنے اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین۔

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴)قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگانی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں  گے۔ کہے گا اے رب میرے مجھے تو نے کیوں  اندھا اٹھایا میں  تو انکھیاراتھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں  گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں  اٹھایا حالانکہ میں  تو دیکھنے والاتھا؟ 

{وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ:اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا ۔} اس آیت میں  ذکر سے مراد قرآنِ مجید پر ایمان لانا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دلائل ہیں  جنہیں  اسلام کی حقانیت کے ثبوت کے طور پر نازل کیا گیا ہے ،  اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ذکر سے سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مقدس ذات مراد ہو کیونکہ ذکر آپ ہی سے حاصل ہوتا ہے اور تنگ زندگی گزارنے کے مقام کے بارے میں  مفسرین کے 5 اَقوال درج ذیل ہیں :

(1)…دنیا میں  تنگ زندگی ہے۔ دنیا کی تنگ زندگی یہ ہے کہ بندہ ہدایت کی پیروی نہ کرے ،  برے عمل اور حرام فعل میں  مبتلا ہو ،  قناعت سے محروم ہو کر حرص میں  گرفتار ہو جائے اور مال و اَسباب کی کثرت کے باوجود بھی اس کو دل کی فراخی اور سکون مُیَسَّر نہ ہو  ،  دل ہر چیز کی طلب میں  اور حرص کے غموں  سے آوارہ ہو کہ یہ نہیں  وہ نہیں  ،  حال تاریک اور وقت خراب رہے اور توکّل کرنے والے مومن کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جسے حیاتِ طیّبہ یعنی پاکیزہ زندگی کہتے ہیں ۔

(2)…قبر میں  تنگ زندگی ہے۔ قبر کی تنگ زندگی یہ ہے کہ قبر میں  عذاب دیا جائے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا ’’یہ آیت اسود بن عبد العزیٰ مخزومی کے حق میں  نازل ہوئی اور قبر کی تنگ زندگی سے مراد قبر کا اِس سختی سے دبانا ہے جس سے ایک طرف کی پسلیاں  دوسری طرف آ جاتی ہیں ۔

            حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا’’کیا تم جانتے ہوکہ معیشت ِضَنک کیا ہے؟ صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی کہ  اللہ تعالیٰ اور اس کارسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ قبر میں  کافر کا عذاب ہے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں  میری جان ہے کافر پر ننانوے تنین مُسلَّط کئے جائیں  گے کیا تم جانتے ہو کہ تنین کیا ہیں  ؟ وہ ننانوے سانپ ہیں  ہرسانپ کے سات پھن ہیں  وہ اس کے جسم میں  پھونکیں  ماریں  گے اور قیامت تک اس کو ڈستے اور نوچتے رہیں  گے۔( مسند ابی یعلی ،  مسند ابی ہریرۃ ،  شہر بن حوشب عن ابی ہریرۃ ،  ۵ / ۵۰۸ ،  الحدیث: ۶۶۱۳)

(3)… آخرت میں  تنگ زندگی ہے۔ آخرت میں  تنگ زندگی جہنم کے عذاب میں  مبتلا ہونا ہے ،  جہاں  تھوہڑ ،  کھولتا پانی  ، جہنمیوں  کے خون اور ان کے پیپ کھانے پینے کو دئیے جائیں  گے۔

(4)…دین میں  تنگ زندگی ہے۔ دین میں  تنگ زندگی یہ ہے کہ نیکی کی راہیں  تنگ ہو جائیں  اور آدمی حرام کمانے میں  مبتلا ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ’’ بندے کو تھوڑا ملے یا زیادہ ،  اگر خوفِ خدا نہیں  تو اس میں  کچھ بھلائی نہیں  اور یہ تنگ زندگانی ہے ۔

(5)…دنیا  ،  قبر ،  آخرت اور دین سب میں  تنگ زندگی ہے۔( تفسیرقرطبی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۴ ،  ۶ / ۱۳۹ ،  الجزء الحادی عشر ،  تفسیر کبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۴ ،  ۸ / ۱۱۰-۱۱۱ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۴ ،  ۳ / ۲۶۸ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۴ ،  ص۷۰۶ ،  ملتقطًا)

{وَ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى:اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں  گے۔} آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ ہم اپنے ذکر سے اِعراض کرنے



Total Pages: 235

Go To