Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کرکے گمراہی کے گڑھے اور بددینی کی گمراہیوں  میں  جا پڑے ،  انہوں  نے کہیں  دیکھا ’’ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى‘‘ کہ اس میں  عصیاں  اور بظاہر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے رو گردانی کی نسبت حضرت آدم عَلَیْہِ  السَّلَام کی جانب کی گئی ہے۔ کہیں  سنا ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ جس سے ذنب یعنی گناہ اور ا س کی بخشش کی نسبت کا حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جنابِ والا کی جانب گمان ہوتا ہے۔ کبھی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام اور قومِ فرعون کے قبطی کا قصہ یاد آیا کہ آپ نے قبطی کو ظلم پر آمادہ پاکر ایک گھونسا مارا اور وہ قبطی (مر کر) قبر کی گہرائی میں  پہنچا۔ کبھی حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کے ایک اُمتی اور یّاہ کا فسانہ سن پایا حالانکہ یہ حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر یہودیوں  کا الزام تھا جسے انہوں  نے خوب اچھالا اور عوام الناس کی زبان پر عام ہوگیا حتّٰی کہ اس کی شہرت کی بنا پر احوال کی تحقیق اور تفتیش کے بغیر بعض مفسرین نے اس واقعہ کو من و عن بیان فرما دیا ،  جب کہ امام رازی فرماتے ہیں  کہ یہ واقعہ میری تحقیق میں  سراسر باطل و لغو ہے۔ غرض بے عقل  ، بے دینوں  اور بے دین بدعقلوں  نے یہ افسانہ سن پایا توچون و چرا  کرنے لگے ،  پھر خدا و رسول کی ناراضی کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا؟ اور اُلٹا ’’خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا‘‘ (اور تم بے ہودگی میں  پڑے جیسے وہ پڑے تھے)نے ’’وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ‘‘ (مگر عذاب کا قول کافروں  پر ٹھیک اُترا)کا دن دکھایا۔

            مسلمان ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھیں  کہ حضرات انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکبیرہ گناہوں  سے مُطلَقاً اور گناہِ صغیرہ کے عمداً ارتکاب ،  اور ہر ایسے امر سے جو مخلوق کے لیے باعثِ نفرت ہو اور مخلوقِ خدا اِن کے باعث اُن سے دور بھاگے ،  نیز ایسے افعال سے جو وجاہت و مروت اور معززین کی شان و مرتبہ کے خلاف ہیں  قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت بِالاجماع معصوم ہیں ۔( فتاوی رضویہ ،  رسالہ: اعتقاد الاحباب ،  عقیدۂ خامسہ ،  ۲۹ / ۳۵۹-۳۶۰)

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى(۱۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے اس کے رب نے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمائی اور اپنے قربِ خاص کی راہ دکھائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اس کے رب نے اسے چن لیا تو اس پر اپنی رحمت سے رجوع فرمایا اور خصوصی قرب کا راستہ دکھایا۔

{ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ:پھر اس کے رب نے اسے چن لیا۔} زمین پر تشریف آوری کے بعد حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   اللہ تعالیٰ کی توفیق سے توبہ و اِستغفار میں  مشغول ہوئے اور جب انہوں  نے  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سرکار دو عالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیلہ سے دعا کی تو  اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما کران پر اپنی رحمت سے رجوع فرمایا اور انہیں  اپنے خاص قرب کاراستہ دکھایا۔

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى ﳔ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى(۱۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا کہ تم دونوں  مل کر جنت سے اترو تم میں  ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگر تم سب کو میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہو ا وہ نہ بہکے نہ بدبخت ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ نے فرمایا: تم دونوں  اکٹھے جنت سے اتر جاؤ ،  تمہارے بعض بعض کے دشمن ہوں  گے پھر (اے اولادِ آدم) اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بدبخت ہوگا۔

{قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا:فرمایا: تم دونوں  اکٹھے جنت سے اترجاؤ۔} جب حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے لغزش صادر ہوئی تو ا س کے بعد  اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور حضرت حواء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاسے فرمایا: تم دونوں  اپنی ذُرِّیَّت کے ساتھ مل کر اکٹھے جنت سے زمین کی طرف اترجاؤ ،  تمہاری اولاد میں  سے بعض بعض کے دشمن ہوں  گے  ، دنیا میں  ایک دوسرے سے حسد اور دین میں  اختلاف کریں  گے ،  پھر اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس میری طرف سے کتاب اور رسول کی صورت میں  کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ دنیا میں  نہ گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں  بدبخت ہوگا کیونکہ آخرت کی بدبختی دنیا میں  حق راستے سے بہکنے کا نتیجہ ہے تو جو کوئی  اللہ تعالیٰ کی کتاب اوراس کے برحق رسول کی پیروی کرے اور ان کے حکم کے مطابق چلے وہ دنیا میں  گمراہ ہونے سے اور آخرت میں  اس گمراہی کے عذاب و وبال سے نجات پائے گا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۳ ،   ۵ / ۴۴۰-۴۴۱ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۲۳ ،  ص۷۰۶ ،  ملتقطاً)

دنیا میں  گمراہی اور آخرت میں  بدبختی سے بچنے کا ذریعہ:

            اِس سے معلوم ہوا کہ اِس امت کے لوگوں  کا قرآنِ مجید میں  دئیے گئے اَحکامات پر عمل کرنا اور سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اطاعت کرنا انہیں  دنیا میں  گمراہی سے بچائے گا اور آخرت میں  بدبختی سے نجات دلائے گا ،  لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ قرآنِ مجید کی پیروی کرے اور حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِتباع کرے تاکہ وہ گمراہ اور بدبخت ہونے سے بچ جائے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی پیروی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘(انعام: ۱۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور یہ (قرآن)وہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے  ،  بڑی برکت والا ہے تو تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘(زمر:۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیزتمہاری طرف نازل کی گئی ہے اس کی اس وقت سے پہلے پیروی اختیار کرلو کہ تم پر اچانک عذا ب آجائے اور تمہیں  خبر (بھی) نہ ہو۔

            اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ارشاد فرماتا ہے: ’’قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا



Total Pages: 235

Go To