Book Name:Sirat ul jinan jild 6

مختلف حکمتوں  کی وجہ سے حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ابلیس کا واقعہ بیان ہو ا اور اب یہاں  سے چھٹی بار ان کا واقعہ بیان کیا جا رہاہے اور اسے ذکر کرنے میں  یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں  کو معلوم ہو جائے شیطان انسانوں  کا بڑ اپرانا دشمن ہے ا س لئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ شیطان کی فریب کاریوں  سے ہوشیار رہے اور اس کے وسوسوں  سے بچنے کی تدابیر اختیار کرے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس زمانے سے پہلے تاکیدی حکم دیا تھا کہ وہ ممنوعہ درخت کے پاس نہ جائیں  لیکن یہ حکم انہیں  یاد نہ رہا اور آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ممنوعہ درخت کے پاس چلے گئے البتہ اس جانے میں  ان کی طرف سے  اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔

آیت ’’وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ‘‘ سے معلوم ہونے والے عقائد و مسائل:

            اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جان بوجھ کر ممنوعہ درخت سے نہیں  کھایا بلکہ اس کی وجہ  اللہ تعالیٰ کا حکم یاد نہ رہنا تھا اور جو کام سہواً ہو وہ نہ گناہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی مُؤاخذہ ہوتا ہے۔

             اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’قرآن عظیم کے عُرف میں  اِطلاقِ معصیت عمد (یعنی جان بوجھ کر کرنے ) ہی سے خاص نہیں  ،  قال  اللہ تعالٰی ’’وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ‘‘( طہٰ:۱۲۱) آدم نے اپنے رب کی معصیت کی۔ حالانکہ خود فرماتا ہے ’’فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا‘‘ آدم بھول گیا ہم نے اس کا قصد نہ پایا۔ لیکن سہو نہ گناہ ہے نہ اس پر مؤاخذہ۔( فتاوی رضویہ ،  ۲۹ / ۴۰۰)

                اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ آیت ِ مبارکہ حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عِصمت کو بڑے واضح طور پر بیان کرتی ہے کیونکہ خود  اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھول گئے تھے اور ان کا نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں  تھا۔

(2)… ہم جیسوں  کے لئے بھول چوک معاف ہے مگر انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پران کی عظمت و شان کی وجہ سے اس بنا پر بھی بعض اوقات پُرسش ہوجاتی ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’جتنا قرب زائد اسی قدر احکام کی شدت زیادہ ۔ ع

جن کے رتبے ہیں  سوا اُن کو سوا مشکل ہے۔

            بادشاہِ جبّار ،  جلیل القدر ایک جنگلی گنوار کی جو بات سن لے گا (اور اس کے ساتھ) جو برتاؤ گوارا کرے گا (وہ) ہر گز شہریوں  سے پسند نہ کرے گا (اور) شہریوں  میں  بازاریوں  سے معاملہ آسان ہوگا اور خاص لوگوں  سے سخت اور خاصوں  میں  درباریوں  اور درباریوں  میں  وزراء  ،  (الغرض) ہر ایک پربار دوسرے سے زائد ہے ،  اس لیے وارد ہوا ’’حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘نیکوں  کے جو نیک کام ہیں  مقربوں  کے حق میں  گناہ ہیں ۔ وہاں  ترکِ اَولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترک اولیٰ ہر گز گناہ نہیں ۔( فتاوی رضویہ ،  ۲۹ / ۴۰۰)

(3)… ہر شخص شیطان سے ہوشیار رہے کہ حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم تھے اور جنت محفوظ جگہ تھی پھر بھی ابلیس نے اپنا کام کردکھایا ،  تو ہم لوگ کس شمار میں  ہیں ۔

 وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى(۱۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ہم نے فرشتوں  سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں  گرے مگر ابلیس اس نے نہ مانا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ہم نے فرشتوں  سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو توابلیس کے سوا سب سجدے میں  گرگئے ،  اس نے انکار کردیا۔

{وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ:اور جب ہم نے فرشتوں  سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  وہ وقت یاد کریں  جب ہم نے فرشتوں  سے فرمایا کہ حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ کرو تو فرشتوں  کے ساتھ رہنے والے ابلیس کے سوا سب فرشتے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سجدے میں  گرگئے اور ابلیس نے یہ کہہ کر حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوسجدہ کرنے سے انکار کردیا کہ میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بہتر ہوں ۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۶ ،  ۵ / ۴۳۴-۴۳۵ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۱۶ ،  ص۲۶۸ ،  ملتقطاً)

تعظیم کے طور پر غیرِ خدا کو سجدہ کرنا حرام اور اس سے بچنا فرض ہے:

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’سجدۂ تحیت ،  اگلی شریعتوں  میں  جائز تھا۔ ملائکہ نے بحکمِ الہٰی حضرت سیدنا آدم عَلَیْہِ  السَّلَام کو سجدہ کیا۔ حضرت سیدنا یعقوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی زوجہ مقدسہ اور ان کے گیارہ صاحبزادوں  نے حضرت یوسف عَلَیْہِ  السَّلَام کو سجدہ کیا۔ ۔۔۔ ہاں  ہماری شریعت ِمطہرہ نے غیرِ خدا کے لئے سجدۂ تحیت حرام کیا ہے اس سے بچنا فرض ہے۔( فتاوی رضویہ ،  ۲۲ / ۴۱۷-۴۱۸)

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷)اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ(۱۱۸) وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَاوَ لَا تَضْحٰى(۱۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے فرمایا اے آدم بیشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں  کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں  پڑے ۔ بیشک تیرے لیے جنت میں  یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔ اور یہ کہ تجھے نہ اس میں  پیاس لگے نہ دھوپ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے فرمایا ،  اے آدم! بیشک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے تو یہ ہرگز تم دونوں  کو جنت سے نہ نکال دے ورنہ تو مشقت میں  پڑجائے گا۔ بیشک تیرے لیے جنت میں  یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہوگا اور نہ ہی ننگا ہوگا۔اور یہ کہ نہ کبھی تو اس میں  پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔

{فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ:تو ہم نے فرمایا ،  اے آدم!}اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس کے انکار کے بعد  اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا ’’اے آدم! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  بیشک یہ ابلیس تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے ،  تو یہ ہرگز تم دونوں  کو جنت سے نکال دئیے جانے کا سبب نہ بن جائے ورنہ تم مشقت میں  پڑجاؤ گے اور اپنی غذا اور



Total Pages: 235

Go To