Book Name:Sirat ul jinan jild 6

رب کا وعدہ آئے گا اور قیامت کے قریب یاجوج ماجوج کے خُروج کا وقت آپہنچے گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس دیوار کو پاش پاش کردے گا اور میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ اور اس کے علاوہ ہر وعدہ سچا ہے۔(خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۸ ،  ۳ / ۲۲۶ ،  جلالین ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۸ ،  ص۲۵۲ ،  ملتقطاً)

            یاجوج اور ماجوج کے نکلنے سے متعلق ترمذی شریف میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کوکھودتے رہتے ہیں  حتّٰی کہ جب اسے توڑنے کے قریب ہوتے ہیں  تو ان کا سردار کہتا ہے :اب واپس چلو  ، باقی کل توڑ لیں  گے ۔ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بہتر کر دیتا ہے یہاں  تک کہ جب ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور  اللہ تعالیٰ انہیں  لوگوں  پر بھیجنا چاہے گا تو ان کا سردار کہے گا: واپس لوٹ جاؤ ،  اِنْ شَآءَ  اللہ !کل تم اسے توڑ ڈالو گے۔ (یہ بات) وہ اِستثناء (یعنی اِنْ شَآءَ اللّٰہ)کے ساتھ کہے گا۔ (دوسرے دن) جب وہ واپس آئیں  گے تو اسے ویسے ہی پائیں  گے جس طرح چھوڑ کر گئے تھے ،  چنانچہ وہ اسے توڑ کر باہر لوگوں  پر نکل آئیں  گے۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الکہف ،  ۵ / ۱۰۴ ،  الحدیث: ۳۱۶۴)

دنیا فنا ہونے سے پہلے یاجوج و ماجوج کا نکلنا:

            صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں  ’’ بعد ِقتلِ دجّال حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام کو حکمِ الہٰی ہوگا کہ مسلمانوں  کو کوہِ طور پر لے جاؤ ،  اس لیے کہ کچھ ایسے لوگ ظاہر کیے جائیں  گے ،  جن سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہیں۔ مسلمانوں  کے کوہِ طور پر جانے کے بعد یاجوج و ماجوج ظاہر ہوں  گے ،  یہ اس قدر کثیر ہوں  گے کہ ان کی پہلی جماعت بُحَیْرَۂ طَبَرِیَّہ پر (جس کا طول دس میل ہو گا) جب گزرے گی ،  اُس کا پانی پی کر اس طرح سکھادے گی کہ دوسری جماعت بعد والی جب آئے گی تو کہے گی: کہ یہاں  کبھی پانی تھا!۔ پھر دنیا میں  فساد و قتل و غارت سے جب فرصت پائیں  گے تو کہیں  گے کہ زمین والوں  کو تو قتل کرلیا ،  آؤ اب آسمان والوں  کو قتل کریں  ،  یہ کہہ کر اپنے تیر آسمان کی طرف پھینکیں  گے ،  خداکی قدرت کہ اُن کے تیر اوپر سے خون آلودہ گریں  گے۔ یہ اپنی اِنہیں  حرکتوں  میں  مشغول ہوں  گے اور وہاں  پہاڑ پر حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام مع اپنے ساتھیوں  کے محصور ہوں  گے ،  یہاں  تک کہ اُن کے نزدیک گائے کے سر کی وہ وقعت ہوگی جو آج تمہارے نزدیک سو  اشرفیوں  کی نہیں  ،  اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام مع اپنے ہمراہیوں کے دعا فرمائیں  گے ،  اللّٰہتعالیٰ اُن کی گردنوں  میں  ایک قسم کے کیڑے پیدا کر دے گا کہ ایک دم میں وہ سب کے سب مر جائیں  گے ،  اُن کے مرنے کے بعد حضرت عیسیٰعَلَیْہِ  السَّلَام پہاڑ سے اتریں  گے ،  دیکھیں  گے کہ تمام زمین اُن کی لاشوں  اور بدبو سے بھری پڑی ہے ،  ایک بالشت بھی زمین خالی نہیں ۔ اُس وقت حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  السَّلَام مع ہمراہیوں  کے پھر دعا کریں  گے ،   اللہ تعالیٰ ایک قسم کے پرند بھیجے گا کہ وہ ان کی لاشوں  کو جہاں  اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ)چاہے گا پھینک آئیں  گے اور اُن کے تیر و کمان و ترکش کو مسلمان سات برس تک جلائیں  گے۔(بہار شریعت ،  حصہ اول ،  معاد وحشر کابیان ،  ۱ / ۱۲۴-۱۲۵)

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىٕذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن ہم انہیں  چھوڑ دیں  گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر ریلا دے گا اور صور پھونکا جائے گا تو ہم ان سب کو اکٹھا کر لائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس دن ہم انہیں  چھوڑ دیں  گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر سیلاب کی طرح آئے گا اور صُور میں پھونک ماری جائے گی تو ہم سب کو جمع کر لائیں  گے۔

{وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَىٕذٍ:اور اس دن ہم انہیں  چھوڑ دیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جب دیوار ٹوٹ جائے گی تو اس دن ہم یاجوج اور ماجوج کو اس طرح چھوڑ دیں  گے کہ ان کا ایک گروہ دوسرے پر اس طرح آئے گا جس طرح پانی کی لہر ایک دوسرے پر آتی ہے اور وہ اپنی کثیر تعداد کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں  گے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ۳ / ۲۲۶)

{وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ:اور صُور میں پھونک ماری جائے گی۔} اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یا جوج ماجوج کا نکلنا قربِ قیامت کے علامات میں  سے ہے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ۳ / ۲۲۶)

{فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا:تو ہم سب کو جمع کر لائیں  گے۔}یعنی ہم قیامت کے دن تمام مخلوق کو عذاب و ثواب کے لئے جمع کر لائیں  گے۔( مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ص۶۶۴ ،  روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ۵ / ۳۰۱ ،  ملتقطاً)

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاﰳۙ(۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم اس دن جہنم کافروں  کے سامنے لائیں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم اس دن جہنم کافروں  کے سامنے لائیں  گے۔

{وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَىٕذٍ:اور ہم اس دن جہنم لائیں  گے۔} یعنی جس دن ہم تمام مخلوق کو جمع کریں  گے اس دن جہنم کافروں  کے سامنے لائیں  گے تاکہ وہ اسے صاف دیکھیں  اور اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑناسنیں ۔( ابو سعود ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۰ ،  ۳ / ۴۰۷)

                ایک اور مقام پر  اللہ  تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ(۱۱) اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا‘‘(فرقان:۱۱ ، ۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والوں  کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جب وہ آگ انہیں  دور کی جگہ سے دیکھے گی تو کافر اس کا جوش مارنا اور چنگھاڑناسنیں  گے۔

            اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن جہنم کو لایا جائے گا ،  اس کی ستر ہزار لگامیں  ہوں  گی اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑ کر کھینچ رہے ہوں  گے۔( مسلم ،  کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ،  باب فی شدۃ حرّ نار جہنّم وبعد قعرہا وما تأخذ من المعذّبین ،  ص۱۵۲۳ ،   الحدیث: ۲۹(۲۸۴۲))

اَلَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠(۱۰۱)

 



Total Pages: 235

Go To