Book Name:Sirat ul jinan jild 6

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ۪-وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗۚ-وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًاؕ-لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا(۹۷)اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں  تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے  رہا قسم ہے ہم ضرور  اسے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہائیں  گے۔  تمہارا معبود تو وہی  اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں  ہر چیز کو اس کا علم محیط ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: توتو چلا جاپس بیشک زندگی میں  تیرے لئے یہ سزا ہے کہ تو کہے گا۔ ’’نہ چھونا‘‘ اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا  ، قسم ہے :ہم ضرور اسے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہائیں  گے ۔ تمہارا معبود تو وہی  اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں  ،  اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔

{قَالَ فَاذْهَبْ:موسیٰ نے فرمایا: توتو چلاجا۔} سامری کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس سے فرمایا ’’تو یہاں  سے چلتا بن اور دور ہو جا ،  پس بیشک زندگی میں  تیرے لئے یہ سزا ہے کہ جب تجھ سے کوئی ایسا شخص ملنا چاہے جو تیرے حال سے واقف نہ ہو ،  تو تُو اس سے کہے گا ’’ کوئی مجھے نہ چھوئے اور نہ میں  کسی سے چھوؤں ۔ چنانچہ لوگوں  کو مکمل طور پر سے ملنا منع کر دیا گیا اور ہر ایک پر اس کے ساتھ ملاقات  ،  بات چیت  ،  خرید و فروخت حرام کر دی گئی اور اگر اتفاقاً کوئی اس سے چھو جاتا تو وہ اور چھونے والا دونوں  شدید بخار میں  مبتلا ہوتے  ،  وہ جنگل میں  یہی شور مچاتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے نہ چھوئے اور وہ وحشیوں  اور درندوں  میں  زندگی کے دن انتہائی تلخی اور وحشت میں  گزارتا تھا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ص۷۰۱  ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۳ / ۲۶۲ ،  ملتقطاً)

{وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا:اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مزید فرمایا کہ اے سامری! تیرے شرک اور فساد انگیزی پر دنیا کے اس عذاب کے بعد تیرے لئے آخرت میں  بھی عذاب کا وعدہ ہے جس کی تجھ سے خلاف ورزی نہ کی جائے گی اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو سارا دن ڈٹ کر بیٹھا رہا اور اس کی عبادت پر قائم رہا  ، قسم ہے :ہم ضرور اسے آگ سے جلائیں  گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں  بہا دیں  گے ،  چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس بچھڑے کے ساتھ ایسا ہی کیا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ص۷۰۱ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ۳ / ۲۶۲-۲۶۳ ،  ملتقطاً)

{اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ:تمہارا معبود تو وہی  اللہ ہے۔}یعنی تمہاری عبادت اور تعظیم کا مستحق صرف وہی  اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں  اور اس کا علم ہر چیز کا اِحاطہ کئے ہوئے ہے۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۸ ،  ۳ / ۲۶۳)

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَۚ-وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ(۹۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم ایسا ہی تمہارے سامنے اگلی خبریں  بیان فرماتے ہیں  اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے حبیب!)ہم تمہارے سامنے اسی طرح پہلے گزری ہوئی خبریں  بیان کرتے ہیں  اور بیشک ہم نے تمہیں  اپنے پاس سے ایک ذکر عطا فرمایا ۔

{ كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ:ہم تمہارے سامنے اسی طرح خبریں  بیان کرتے ہیں ۔}اس سے پہلی آیات میں  فرعون اور سامری کے ساتھ ہونے والا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ بیان کیا گیا اور اب یہاں  سے ارشاد فرمایا گیا کہ اے حبیب!صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جس طرح ہم نے آپ کے سامنے یہ واقعات بیان کئے اسی طرح ہم آپ کے سامنے سابقہ امتوں  کی خبریں  اور ان کے احوال بیان کرتے ہیں  تاکہ آپ کی شان  ،  آپ کی نشانیوں ا ور معجزات میں  اضافہ ہو اور لوگ ان میں  زیادہ غوروفکر کر سکیں  اور بے شک ہم نے آپ کو اپنے پاس سے قرآن کریم عطافرمایا کہ یہ ذکر ِعظیم ہے اور جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس کتابِ کریم میں  نجات اور برکتیں  ہیں  اور اس مقدس کتاب میں  سابقہ امتوں  کے ایسے حالات کا ذکر و بیان ہے جو فکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے لائق ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ۸ / ۹۷ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۹۹ ،  ص۷۰۲ ،  ملتقطاً)

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ(۱۰۰) خٰلِدِیْنَ فِیْهِؕ-وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ(۱۰۱)

ترجمۂ کنزالایمان: جو اس سے منہ پھیرے تو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بوجھ اٹھائے گا۔وہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں  کیا ہی برا بوجھ ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو اس سے منہ پھیرے گاتو بیشک وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا ۔ وہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔

{مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ:جو اس سے منہ پھیرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ جو اس قرآن سے منہ پھیرے اور اس پر ایمان نہ لائے اور اس کی ہدایتوں  سے فائدہ نہ اٹھائے تووہ قیامت کے دن گناہوں  کا ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔( بغوی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۰ ،  ۳ / ۱۹۴)

{خٰلِدِیْنَ فِیْهِ:وہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے۔} یعنی وہ ہمیشہ اس گناہ کے عذاب میں  رہیں  گے اور وہ قیامت کے دن ان کیلئے بہت برا بوجھ ہوگا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۱۰۱ ،  ۳ / ۲۶۳)

            یہاں  یہ بات یاد رہے ہمیشہ عذاب میں  وہ شخص رہے گا جس کا خاتمہ کفر کی حالت میں  ہوا ہو گا اور جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا وہ اگرچہ کتنا ہی گنہگار ہواسے ہمیشہ عذاب نہ ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ زُرْقًاۚۖ(۱۰۲) یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن صُور پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں  کو اٹھائیں  گے نیلی آنکھیں  ۔ آپس میں  چپکے چپکے کہتے ہوں  گے کہ تم دنیا میں  نہ رہے مگر دس رات۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن صُور میں  پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں  کو اس حال میں  اٹھائیں  گے کہ ان کیآنکھیں  نیلی ہوں  گی۔ وہ آپس میں  آہستہ آہستہ باتیں  کریں  گے کہ تم دنیا میں  صرف دس رات رہے ہو۔

 



Total Pages: 235

Go To