Book Name:Sirat ul jinan jild 6

پاس جو کچھ جادو کے مکر و حیلے ہیں  پہلے وہ سب ظاہر کرلیں  اس کے بعد آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنا معجزہ دکھائیں  اور جب حق باطل کو مٹائے اور معجزہ جادو کو باطل کردے تو دیکھنے والوں  کو بصیرت و عبرت حاصل ہو۔ چنانچہ جادوگروں  نے رسیاں  لاٹھیاں  وغیرہ جو سامان وہ لائے تھے سب ڈال دیا اور لوگوں  کی نظر بندی کر دی توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دیکھا کہ زمین سانپوں  سے بھر گئی اور میلوں  کے میدان میں  سانپ ہی سانپ دوڑ رہے ہیں  اور دیکھنے والے اس باطل نظر بندی سے مَسحور ہو گئے ،  اور کہیں  ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی اس نظر بندی کے گرویدہ ہو جائیں  اور معجزہ نہ دیکھیں   ، اس وجہ سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے دل میں  قوم کے حوالے سے خوف محسوس کیا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انسانی فطرت کےمطابق اپنے دل میں  اس بات کا خوف محسوس کیا کہ  کہیں  وہ سانپ ان کی طرف ہی نہ آ جائیں ۔  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایاـ: تم ڈرو نہیں   ، بے شک تم ہی ان پر غالب آؤ گے اور تمہیں  ہی ان پر غلبہ و کامیابی نصیب ہو گی۔(مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۶-۶۸ ،  ص۶۹۵-۶۹۶ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۶-۶۸ ،  ۳ / ۲۵۷-۲۵۸ ،  ملتقطاً)

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاؕ-اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ڈال تو دے جو تیرے دہنے ہاتھ میں  ہے وہ ان کی بناوٹوں  کو نگل جائے گا وہ جو بناکر لائے ہیں  وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں  ہوتا کہیں  آوے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم بھی اسے ڈال دو جو تمہارے دائیں  ہاتھ میں  ہے وہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں  کو نگل جائے گا۔ بیشک جو انہوں  نے بنایا ہے وہ تو صرف جادوگروں  کا مکروفریب ہے اور جادوگر کامیاب نہیں  ہوتا جہاں  بھی آجائے۔

{وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ:اور تم بھی اسے ڈال دو جو تمہارے دائیں  ہاتھ میں  ہے۔}  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  تم ان کی رسیوں  لاٹھیوں  کی کثرت کی پرواہ نہ کرو اور تم بھی اپنا وہ عصا ڈال دو جو تمہارے دائیں  ہاتھ میں  ہے ،  وہ ان کی بنائی ہوئی چیزوں  کو نگل جائے گا۔ بیشک جو انہوں  نے بنایا ہے وہ تو صرف جادوگروں  کا مکر وفریب ہے اور جادوگر کامیاب نہیں  ہوتا جہاں  بھی آجائے۔ پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ جادوگروں  کے تمام اژدہوں  اور سانپوں  کو نگل گیا اور آدمی اس کے خوف سے گھبرا گئے اور جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے اپنے دست ِمبارک میں  لیا تو پہلے کی طرح عصا ہو گیا۔ یہ دیکھ کر جادوگروں  کو یقین ہوگیا کہ یہ معجزہ ہے جس سے جادو مقابلہ نہیں  کر سکتا اور جادو کی فریب کاری اس کے سامنے قائم نہیں  رہ سکتی۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ص۶۹۶ ،  تفسیر کبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۸ / ۷۴-۷۵ ،  ملتقطاً)

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو سب جادوگر سجدے میں  گرالئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو سب جادوگر سجدے میں  گرا دئیے گئے ،  وہ کہنے لگے: ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔

{فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا:تو سب جادوگر سجدے میں  گرا دئیے گئے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا معجزہ دیکھ کر جاد وگر اتنی تیزی سے سجدے میں  گئے کہ اس سے یوں  محسوس ہوا جیسے انہیں  پکڑ کر سجدے میں  گرا دیا گیا ہو ،  پھروہ کہنے لگے کہ ہم حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے رب عَزَّوَجَلَّپر ایمان لائے۔ سُبْحَانَ اللّٰہ! کیا عجیب حال تھا کہ جن لوگوں  نے ابھی کفر و انکار اور سرکشی کے لئے رسیاں  اور لاٹھیاں  ڈالی تھیں  ،  ابھی معجزہ دیکھ کر انہوں  نے شکر و سجود کے لئے اپنے سر جھکا دیئے اور اپنی گردنیں  ڈال دیں  ۔ منقول ہے کہ اس سجدے میں  انہیں  جنت اور دوزخ دکھائی گئی اور انہوں  نے جنت میں  اپنے منازل دیکھ لئے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ص۶۹۶)

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْؕ-اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ-فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ٘-وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى(۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: فرعون بولا کیا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں  تمہیں  اجازت دوں  بیشک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے ضرور میں  تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں  کاٹوں  گا اور تمہیں  کھجور کے ڈنڈ پر سُولی چڑھاؤں  گا اور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں  کس کا عذاب سخت اور دیرپا ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: فرعون بولا: کیا تم اس پر ایمان لائے اس سے پہلے کہ میں  تمہیں  اجازت دوں  ،  بیشک وہ تمہارا بڑاہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا تو مجھے قسم ہے میں  ضرورتمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں  کاٹ دوں  گا اور تمہیں  کھجور کے تنوں  پر پھانسی دیدوں گااور ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں  کس کا عذاب زیادہ شدید اورزیادہ باقی رہنے والاہے ۔

{ قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ:فرعون بولا: کیا تم اس پر ایمان لائے۔} فرعون نے جادو گروں  کے ایمان لانے کا منظر دیکھ کرانہیں  ڈانٹتے ہوئے کہا: کیا تم میری اجازت ملنے سے پہلے ہی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ایمان لے آئے ہو! بیشک وہ جادو میں  استادِ کامل اور تم سب سے فائق ہے اور اس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے  ،  (اور سورۂ اَعراف میں  یہ بھی ہے کہ فرعون نے کہا کہ یہ تم سب کی سازش ہے جو تم نے میرے خلاف بنائی ہے تاکہ یہاں  کے رہنے والوں  کو اِس سرزمین سے نکال دو) تو مجھے قسم ہے ،  میں  ضرور تمہارے دائیں  طرف کے ہاتھ اور بائیں  طرف کے پاؤں  کاٹ دوں  گا اور تمہیں  کھجور کے تنوں  پر پھانسی دیدوں  گا اور اس وقت ضرور تم جان جاؤ گے کہ ہم میں  کس کا عذاب زیادہ شدید اور زیادہ باقی رہنے والاہے ۔اس سے فرعون ملعون کی مراد یہ تھی کہ اس کا عذاب سخت تر ہے یا ربُّ العالَمین کا عذاب زیادہ سخت ہے۔

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍؕ-اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے ہم ہرگز تجھے ترجیح نہ دیں  گے ان روشن دلیلوں  پر جو ہمارے پاس آئیں  ہمیں  اپنے پیدا کرنے والے کی قسم تو تُو کر چُک جو تجھے کرنا ہے تو اس دنیا ہی کی زندگی میں  تو کرے گا ۔

 



Total Pages: 235

Go To