Book Name:Sirat ul jinan jild 6

یہ تیری اس بندے کے ساتھ نرمی ہے جو کہتا ہے: میں  تم لوگوں  کا سب سے اعلیٰ رب ہوں  تو اس بندے کے ساتھ تیری نرمی کا کیا عالَم ہو گا جو کہتا ہے :میرا وہ رب پاک ہے جو سب سے بلند ہے۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۶۹۲)

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى(۴۵)قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: دونوں  نے عرض کیا اے ہمارے رب بیشک ہم ڈرتے ہیں  کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا شرارت سے پیش آئے۔فرمایا ڈرو نہیں  میں  تمہارے ساتھ ہوں  سنتا اور دیکھتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: دونوں  نے عرض کیا: اے ہمارے رب! بیشک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں  کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا سرکشی سے پیش آئے گا۔  اللہ نے فرمایا: تم ڈرو نہیں  ،  بیشک میں  تمہارے ساتھ ہوں  میں  سن رہا ہوں  اور دیکھ بھی رہا ہوں ۔

{قَالَا رَبَّنَا:دونوں  نے عرض کیا: اے ہمارے رب!} جب  اللہ تعالیٰ نے موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو یہ وحی فرمائیاس وقت حضرت ہارونعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممصر میں  تھے ،   اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکم دیا کہ وہ حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آئیں  اور حضرت ہارون عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو وحی کی کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملیں  ،  چنانچہ وہ ایک منزل (یعنی تقریباً 18 میل) چل کر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملے اور جو وحی انہیں  ہوئی تھی اس کی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اطلاع دی ۔فرعون چونکہ ایک ظالم وجابر شخص تھا اس لیے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی: اے ہمارے رب! بیشک ہم اس بات سے ڈرتے ہیں  کہ وہ ہمیں  رسالت کی تبلیغ کرنے سے پہلے ہی قتل کر کے ہم پر زیادتی کرے گایا مزید سرکشی پر اتر آئے گا اور تیری شان میں  نازیبا کلمات کہنے لگے گا۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۳ / ۲۵۵ ،  روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۵ / ۳۹۰ ،  ملتقطاً)

مخلوق سے اِیذا کا خوف توکّل کے خلاف نہیں :

             اس سے معلوم ہوا کہ اَسباب  ،  مُوذی انسان اور موذی جانوروں  سے خوف کرنا شانِ نبوت اور توکل کے خلاف نہیں ۔ وہ جو کثیر آیتوں  میں  ’’لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ‘‘فرمایا گیا ہے  ، وہ اس کے خلاف نہیں  کیونکہ ان آیات میں  خوف نہ ہونے سے مراد قیامت کے دن خوف نہ ہونا ہے  ، یااِس سے اُس خوف کا نہ ہونا مراد ہے جو نقصان دِہ ہو اور خالق سے دور کردے ،  جبکہ انہیں  مخلوق کی طرف سے ایذاء پہنچنے کا خوف ہو سکتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں  ایک حکایت ملاحظہ ہو ،  چنانچہ کسی شخص نے حضر ت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے کہا کہ عامر بن عبد اللہ اپنے ساتھیوں  کے ساتھ ایک مرتبہ شام کی طرف جا رہے تھے کہ ان کو پیاس لگی اور وہ ایک جگہ پانی پیناچاہتے تھے مگر پانی اور ان کے درمیان ایک شیر حائل تھا وہ پانی کی طرف گئے اور پانی پی لیا تو ان سے کسی نے کہا کہ آپ نے اپنی جان خطرہ میں  ڈالی تو عامر بن عبداللّٰہنے کہا کہ اگر میرے پیٹ میں  نیزے گھونپ دئیے جائیں  تووہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہیں  کہ میں  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی سے ڈروں ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے اس شخص کوجواب دیا کہ جوشخص عامر بن عبد اللہ سے بہت افضل تھے وہ تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے غیر سے ڈرے تھے اور وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں ۔( قرطبی ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۶ / ۹۹ ،  الجزء الحادی عشر)

            مراد یہ ہے کہ خوفِ خدا کا یہ مطلب نہیں  کہ آدمی دُنْیَوی مُوذی اَشیاء سے بھی نہ ڈرے  ،  اگر یہ مطلب ہوتا توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوف کا اظہار نہ کرتے۔ البتہ یہاں  یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بعض بندگانِ خدا پر بعض اوقات بعض خاص اَحوال طاری ہوتے ہیں  جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے بے خوفی کے افعال کرتے ہیں  اور وہ احوال بھی ناپسندیدہ نہیں  ہیں  بلکہ بہت مرتبہ وہ کرامت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ۔

{قَالَ لَا تَخَافَا:فرمایا: تم ڈرو نہیں ۔} حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عرض کے جواب میں   اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تم ڈرو نہیں  ،  بیشک میں  اپنی مدد کے ذریعے تمہارے ساتھ ہوں  اور میں  سب سن رہا ہوں  اور سب دیکھ بھی رہا ہوں ۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْؕ-قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَؕ-وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى(۴۷)اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں  تو اولادِ یعقوب کو ہمارے ساتھ چھوڑ دے اور انہیں  تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لائے ہیں  اور سلامتی اسے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوئی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس تم اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں  تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں  تکلیف نہ دے بیشک ہم تیرے رب کی طرف سے ایک نشانی لائے ہیں  اوراس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

{فَاْتِیٰهُ:پس تم اس کے پاس جاؤ ۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ تم ڈرو نہیں  اور فرعون کے پاس جاکر کہو : ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّکے بھیجے ہوئے ہیں   ، لہٰذا اے فرعون  ،  تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں بندگی و اَسیری سے رہا کر دے اور ان سے محنت و مشقت کے سخت کام لے کر انہیں  تکلیف نہ دے۔ بیشک ہم تیرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے معجزات لے کر آئے ہیں  جو ہماری نبوت کی صداقت کی دلیل ہیں ۔ فرعون نے کہا: وہ معجزات کیا ہیں ؟ تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہاتھ روشن ہونے کا معجزہ دکھایا (اور فرمایا) جو ہدایت کی پیروی کرے اس کے لئے دونوں  جہان میں  سلامتی ہے اور وہ عذاب سے محفوظ رہے گا ۔بیشک ہماری طرف وحی ہوتی ہے کہ عذاب اس پر ہے جو ہماری نبوت کو اور ان اَحکام کو جھٹلائے جو ہم لائے ہیں  اور ہماری ہدایت سے منہ پھیرے۔(مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ص۶۹۲ ،  جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸ ،  ص۲۶۳ ،  ملتقطاً)

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى(۴۹)قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بولا تو تم دونوں  کا خدا کون ہے اے موسیٰ۔ کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر راہ دکھائی ۔

 



Total Pages: 239

Go To