Book Name:Sirat ul jinan jild 6

مذہبی نہیں  بلکہ صرف لہوولعب کامیلہ ہے تو محض تجارت کی غرض سے جانا فی نفسہٖ ناجائز وممنوع نہیں  جبکہ یہ کسی گناہ کی طرف نہ لے جاتا ہو۔ پھر بھی کراہت سے خالی نہیں  کہ وہ لوگ ہروقت مَعَاذَ اللہ لعنت اترنے کامحل ہیں  اس لئے اُن سے دوری ہی بہتر ہے۔۔۔نیز یہ جواز بھی اُسی صورت میں  ہے کہ اسے وہاں  جانے میں  کسی معصیت کاارتکاب نہ کرنا پڑے مثلاً جلسہ ناچ رنگ کا ہو اور اسے اس جلسے سے دور اور لاتعلق علاقے میں  جگہ نہ ہو تو یہ جانا معصیت کو مستلزم ہوگا اور ہر وہ چیز جو معصیت کو مستلزم ہووہ معصیت ہوتی ہے اور یہ جانا محض تجارت کی غرض سے ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیت سے کیونکہ اس نیت سے جانا مطلقاً ممنوع ہے اگرچہ وہ مجمع غیرمذہبی ہو۔(فتاوی رضویہ ،  ۲۳ / ۵۲۳-۵۲۶ ، ملخصاً)

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى(۶۰)قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍۚ-وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان:تو فرعون پھرا اور اپنے دانؤں  اکٹھے کیے پھر آیا ۔ان سے موسیٰ نے کہا تمہیں  خرابی ہو  اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تمہیں  عذاب سے ہلاک کردے اور بیشک نامراد رہا جس نے جھوٹ باندھا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا تو اپنے مکروفریب کو جمع کرنے لگا پھر آیا ۔ان سے موسیٰ نے فرمایا: تمہاری خرابی ہو  ،  تم  اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں  عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔

{فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ:تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا۔} جب مقابلہ کادن طے ہوگیا تو فرعون منہ پھیر کر چلا گیا اور اس نے مقابلے کے لیے کثیر تعداد میں  جادوگروں  کوجمع کیا اور انہیں  طرح طرح کے انعامات کا لالچ دیا حتّٰی کہ انہیں  اپنا مُقرب بنانے کا وعدہ کیا ۔ اس کے بعد پھر بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنی فوج کولے کر وعدے کے دن میدان میں  پہنچ گیا۔

{قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ:ان سے موسیٰ نے فرمایا: تمہاری خرابی ہو۔} جب فرعون اور اس کے جمع کردہ جادو گر مقابلہ کے لیے پہنچ گئے توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان جادو گروں  سے فرمایا ’’ تمہاری خرابی ہو  ،  تم کسی کو  اللہ تعالیٰ کا شریک کر کے اس پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ وہ تمہیں  اپنے پاس موجود عذاب سے ہلاک کردے گا اور بیشک وہ ناکام ہوا جس نے  اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔( جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ص۲۶۳-۲۶۴)

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى(۶۲)قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى(۶۳)فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّاۚ-وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اپنے معاملہ میں  باہم مختلف ہوگئے اور چھپ کر مشورت کی۔ بولے بیشک یہ دونوں  ضرور جادوگر ہیں  چاہتے ہیں  کہ تمہیں  تمہاری زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں  اور تمہارا اچھا دین لے جائیں ۔ تو اپنا دانؤں پکا کرلو پھر پرا باندھ  کر آؤ اور آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو وہ اپنے معاملہ میں  باہم مختلف ہوگئے اور انہوں  نے چھپ کر مشورہ کیا۔ کہنے لگے: بیشک یہ دونوں  یقینا جادوگر ہیں  ،  یہ چاہتے ہیں  کہ تمہیں  تمہاری سرزمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں  اور تمہارا بہت شرف و بزرگی والا دین لے جائیں  ۔ تو تم اپنا داؤ جمع کرلو پھر صف باندھ کر آ جاؤ اور بیشک آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔

{فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ:تو وہ اپنے معاملہ میں  باہم مختلف ہوگئے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادوگروں  نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ کلام سنا تو آپس میں  ان کا اختلاف ہو گیا  ،  بعض کہنے لگے کہ یہ بھی ہماری طرح جادوگر ہیں   ،  بعض نے کہا کہ یہ باتیں  جادوگروں  کی ہیں  ہی نہیں   ،  کیونکہ وہ  اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے سے منع کررہے ہیں  ۔ انہوں  نے چھپ کر مشورہ کیا تاکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو معلوم نہ چلے اور ا س مشورے میں  بعض جادو گر دوسروں  سے کہنے لگے: بیشک حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں  یقینا جادوگر ہیں   ،  یہ چاہتے ہیں  کہ اپنے جادوکے زور سے تم پر غالب آ کر تمہیں  تمہاری سرزمین مصر سے نکال دیں  اور تمہارا بہت شرف و بزرگی والا دین لے جائیں  ۔تو تم اپنے لائے ہوئے جا دو کے تمام داؤ جمع کرلو پھر صف باندھ کر آ جاؤ تاکہ تمہاری ہیبت زیادہ ہو اور بیشک آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب آئے گا۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۲-۶۴ ،  ۵ / ۴۰۰ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۲-۶۴ ،  ۳ / ۲۵۷ ،  ملتقطاً)

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے کہا: اے موسیٰ ! یا تم (عصا نیچے) ڈالو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں ۔

{قَالُوْا یٰمُوْسٰى:انہوں  نے کہا اے موسیٰ!} جب جادو گروں  نے صف بندی کر لی تو انہوں  نے کہا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  آپ پہلے اپنا عصا زمین پر ڈالیں  گے یاہم پہلے اپنے سامان ڈال دیں  ۔ جادوگروں  نے ادب کی وجہ سے مقابلے کی ابتداء کرنا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی رائے مبارک پر چھوڑا اور اس کی برکت سے آخر کار  اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے مشرف فرما دیا۔( مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ص۶۹۵)

قَالَ بَلْ اَلْقُوْاۚ-فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى(۶۶)فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى(۶۷)قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى(۶۸)

ترجمۂ کنزالایمان: موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں  ڈالو جبھی ان کی رسیاں  اور لاٹھیاں  ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں  دوڑتی معلوم ہوئیں  ۔ تو اپنے جی میں  موسیٰ نے خوف پایا۔ ہم نے فرمایا ڈر نہیں  بیشک تو ہی غالب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: بلکہ تمہی ڈالو تواچانک ان کی رسیاں  اور لاٹھیاں  ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کے خیال میں  یوں  لگیں  کہ وہ دوڑ رہی ہیں ۔ تو موسیٰ نے اپنے دل میں  خوف محسوس کیا۔ توہم نے فرمایا: ڈرو نہیں  بیشک تم ہی غالب ہو۔

{قَالَ بَلْ اَلْقُوْا:موسیٰ نے فرمایا: بلکہ تمہی ڈالو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جادو گروں  سے یہ اس لئے فرمایا کہ اُن کے



Total Pages: 235

Go To