Book Name:Sirat ul jinan jild 6

والی کثیر ،  واضح اور عظیم نشانیاں  ہیں ۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۵ / ۳۹۶)

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں  بنایا اور اسی میں  تمہیں  پھر لے جائیں  گے اور اسی سے تمہیں  دوبارہ نکالیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے زمین ہی سے تمہیں  بنایا اور اسی میں  تمہیں  پھر لوٹائیں  گے اور اسی سے تمہیں  دوبارہ نکالیں  گے۔

{مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ:ہم نے زمین ہی سے تمہیں  بنایا ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے جد ِاعلیٰ  ، حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو زمین سے پیدا کر کے تمہیں  اس سے ہی بنایا اور تمہاری موت اور دفن کے وقت اسی زمین میں  تمہیں  پھر لوٹائیں  گے اور قیامت کے دن اسی زمین سے تمہیں  دوبارہ نکالیں  گے۔( جلالین ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۵ ،  ص۲۶۳)

میت کی تدفین کے بعد ایک مُسْتحب عمل:

            یہاں  ایک بات یاد رہے کہ جب کسی مسلمان کو انتقال کے بعد دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پرتختے لگانے کے بعد مٹی دی جائے تو اس وقت مستحب یہ ہے کہ ا س کے سرہانے کی طرف دونوں  ہاتھوں  سے تین بار مٹی ڈالیں ۔ پہلی بار کہیں ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ دوسری بار ’’ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ‘‘ اورتیسری بار ’’ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى‘‘ کہیں۔(عالمگیری ،  کتاب الصلاۃ ،  الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ،  الفصل السادس ،  ۱ / ۱۶۶)

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى(۵۶)قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى(۵۷) فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں  دکھائیں  تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا۔ بولا کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں  اپنے جادو کے سبب ہماری زمین سے نکال دو اے موسیٰ۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں  گے تو ہم میں  اور اپنے میں  ایک وعدہ ٹھہرا دو جس سے نہ ہم بدلہ لیں  نہ تم ہموار جگہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں  دکھائیں  تو اس نے جھٹلایا اور نہ مانا ۔ کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں  اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین سے نکال دو۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں  گے تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں  اور نہ تم۔ایسی جگہ جو برابر فاصلے پر ہو۔

{وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا:اور بیشک ہم نے اس کواپنی سب نشانیاں  دکھائیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے فرعون کو وہ تمام نو نشانیاں  دکھا دیں  جو  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوعطا فرمائی تھیں  تو اس نے انہیں  جھٹلایا اور نہ مانا اور ان نشانیوں  کو جادو بتایا اور حق قبول کرنے سے انکار کیا اور کہنے لگا: اے موسیٰ! کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں  اپنے جادو کے ذریعے ہماری سرزمین مصرسے نکال کر خود اس پر قبضہ کرلو اور بادشاہ بن جاؤ۔ تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں  گے اور جادو میں  ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک مدت اور جگہ مقرر کرلو جس کی خلاف ورزی نہ ہم کریں  اور نہ تم اور وہ جگہ ہموار ہو اور اس میں  دونوں  فریقین کے درمیان برابر فاصلہ ہو تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ مقابلہ دیکھ سکیں ۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۶-۵۸ ،  ۳ / ۲۵۶ ،  مدارک ،   ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۶-۵۸ ،  ص۶۹۴ ،  ملتقطاً)

            فرعون حضرت موسیٰعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات دیکھ کر سمجھ تو گیا تھا کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحق پر ہیں  اور جادوگر نہیں  ہیں  کیونکہ اس کے ملک میں  اس سے پہلے بھی کئی جادوگر موجود تھے جو خود اس کے ماتحت تھے اور کسی نے بھی کبھی ایسی بات نہ کی تھی لیکن پھر بھی اس نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شکست ہوجائے اور اس کی سلطنت بچ جائے۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: موسیٰ نے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں ۔

{قَالَ:موسیٰ نے فرمایا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرعون کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور اس دن یہ بھی ہونا چاہئے کہ لوگ دن چڑھے جمع کرلئے جائیں  تاکہ خوب روشنی پھیل جائے اور دیکھنے والے اطمینان کے ساتھ دیکھ سکیں  اور انہیں  ہر چیز صاف صاف نظر آئے ۔ اس آیت میں  جس میلے کا ذکر ہوا اس سے فرعونیوں  کا وہ میلہ مراد ہے جو ان کی عید تھی اور اس میں  وہ بہت سج سنور کر جمع ہوتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ وہ دن عاشوراء یعنی دسویں  محرم کا تھا۔ اس سال یہ تاریخ ہفتے کے دن واقع ہوئی تھی اور اس دن کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اس لئے معین فرمایا کہ یہ دن ان کی انتہائی شوکت کا دن تھا اور اسے مقرر کرنے میں  اپنی قوت کےکمال کا اظہار ہے ،  نیز اس میں  یہ بھی حکمت تھی کہ حق کا ظہور اور باطل کی رسوائی کے لئے ایسا ہی وقت مناسب ہے جب کہ اَطراف و جوانب کے تمام لوگ اکھٹے ہوں ۔(خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۳ / ۲۵۶-۲۵۷ ،  مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ص۶۹۴ ،  جمل ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۵ / ۸۰ ،  ملتقطاً)

کفار کے میلے میں  جانے کا شرعی حکم:

            اس سے معلوم ہوا کہ شرعی ضرورت کے وقت مسلمان کو کفا رکے میلے میں  جانا جائز ہے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مقابلہ کے لئے کفار کے میلہ میں  گئے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت شکنی کے لئے بت خانہ میں  گئے۔ اور شرعی ضرورت کے علاوہ تجارت یاکسی اور غرض سے جانے کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ میلہ کفار کا مذہبی ہے جس میں  جمع ہوکر اعلانِ کفر اور شرکیہ رسمیں  ادا کریں  تو تجارت کی غرض سے بھی جانا ناجائز ومکروہِ تحریمی ہے ،  اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ ،  اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اور اگر وہ مجمع کفار کا



Total Pages: 235

Go To