Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(4)…بہترین اور قابل لوگوں  کی صحبت اختیار کرنا اور انہیں  اپنا وزیر بنانا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا پسندیدہ عمل ہے۔

(5)…اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنا اور اپنی قوت و شوکت پر غرور کرنا درست نہیں  ہے۔

(6)…جو چیز اپنے لئے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرنی چاہئے۔

(7)…نیکیاں  زیادہ کرنے کے معاملے میں  نیک آدمی کی صحبت اختیار کرنے کا بڑا عمل دخل ہے۔

(8)…  اللہ تعالیٰ کا ذکر جماعت کے ساتھ مل کر کرنا اور بزرگوں  کے پاس بیٹھ کرکرنا بہت افضل ہے۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: فرمایا اے موسیٰ تیری مانگ تجھے عطا ہوئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ! تیرا سوال تجھے عطا کردیا گیا۔

{ قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ: اللہ نے فرمایا: تجھے عطا کردیا گیا۔}حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس درخواست پر  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  تجھے وہ تمام چیزیں  عطا کر دی گئیں  جن کا تو نے ہم سے سوال کیا ہے۔(مدارک ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۶۹۰ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۳ / ۲۵۳ ،  ملتقطاً)

علماء اور نیک بندوں  کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب:

            یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو جاہلوں  کی صحبت سے محفوظ فرما دے اور علماء و صلحا کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق عطا کر دے تو یہ اس کا بہت بڑا احسان اور انعام ہے کیونکہ یہ حضرات بندے سے گناہوں  کے بوجھ اتارنے میں  معاون و مددگار اور نیک اعمال کی راہ پر آسانی سے چلنے میں  ہادی و رہنما ہوتے ہیں  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ علماء اور نیک لوگوں  کی صحبت اختیار کرے اور جو لوگ نیک اور پرہیزگار ہیں  وہ بھی علماء اور نیک لوگوں  کو ہی اپنا ہم نشین بنائیں  کیونکہ تلوار جتنی بھی عمدہ اور اعلیٰ ترین ہو اسے تیز کرنے کی ضرورت بہر حال پڑتی ہے۔ نیز ان آیات میں  ارباب ِاختیار اور سلطنت و حکومت پر قائم افراد کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے کہ وہ اپنی وزارت اور مشاورت کے لئے ان افراد کا انتخاب کریں  جو نیک اور پارسا ہیں ۔ سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ تاجدار رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم میں  سے جو شخص حاکم ہو پھر  اللہ تعالیٰ اس کی بھلائی چاہئے تو  اللہ تعالیٰ اس کے لئے نیک وزیر بنا دے گا ،  اگر حکمران کوئی بات بھول جائے تو وہ اسے یاد دلا دے گااور اگر وہ یاد رکھے تو وہ اس کی مدد کرے گا۔( نسائی ،  کتاب البیعۃ ،  وزیر الامام ،  ص۶۸۵ ،  الحدیث: ۴۲۱۰)

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک بار اور احسان فرمایا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تجھ پر ایک مرتبہ اور بھی احسان فرمایا تھا۔

{وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ:اور بیشک ہم نے تجھ پر احسان فرمایا۔} اس آیت میں  گویا کہ  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا’’ اے موسیٰ! عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  ہم نے آپ کے سوال کرنے سے پہلے بھی آپ کی مَصلحت کی نگہبانی فرمائی ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کے سوال کرنے کے بعد ہم آپ کی مراد آپ کو عطا نہ کریں  ،  اور جب ہم نے آپ کو پچھلے زمانے میں  آپکی ضرورت کی ہر چیز آپ کو عطا فرمائی اور پہلی حالت سے بلند درجہ عطا کیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم نے آپ کو اس بلند ،  اہم اور عظیم رتبے پر فائز کیا ہے کہ جس پر فائز شخص کو اس کی طلب کی گئی چیز سے منع نہیں  کیا جاتا۔( تفسیرکبیر ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۸ / ۴۶)

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: جب ہم نے تیری ماں  کو الہام کیا جو الہام کرنا تھا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جب ہم نے تمہاری ماں  کے دل میں  وہ بات ڈال دی جو اس کے دل میں  ڈالی جانی تھی۔

{اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ:جب ہم نے تمہاری ماں  کے دل میں  وہ بات ڈال دی ۔} اس سے پہلی آیت میں   اللہ تعالیٰ نے جس احسان کا تذکرہ فرمایا یہاں  سے اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب آپ کی ولادت کے وقت آپ کی ماں  کویہ اندیشہ ہوا کہ فرعون آپ کو قتل کر ڈالے گا تو ہم نے اس کے دل میں  ڈال کر یا خواب کے ذریعے سے اِلہام کیا کہ اس بچے کو صندوق میں  رکھ کر دریائے نیل میں  ڈال دے ،  پھر دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا تاکہ اسے وہ فرعون اٹھالے جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ نے ایک صندو ق بنایا اور اس میں  روئی بچھائی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس میں  رکھ کر صندوق بند کر دیا اور اس کی درزیں  قیر کے روغن سے بند کر دیں  ،  پھر اس صندوق کو دریائے نیل میں  بہا دیا۔ اس دریا سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں  سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارہ بیٹھا تھا  ،  اس نے نہر میں  صندوق آتا دیکھ کر غلاموں  اور کنیزوں  کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو اس میں  ایک نورانی شکل کا فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا ، اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں  بے پناہ محبت پیدا ہوئی۔( خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹ ،  ۳ / ۲۵۳)

            نوٹ:یہاں  ایک بات یاد رہے کہ وحی صرف انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف ہوتی ہے اور قرآن مجید

میں  جہاں  بھی وحی کا لفظ غیر نبی کے لئے آیا ہے وہاں  اس سے ’’ اِلہام کرنا‘‘ مراد ہو تا ہے۔

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗؕ-وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ ﳛ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ اس بچے کو صندوق میں  رکھ کر دریا میں  ڈال دے تو دریا اسے کنارے پر ڈالے کہ اسے وہ اٹھا لے جو میرا دشمن اور اس کا دشمن اور میں  نے تجھ پر اپنی طرف کی محبت



Total Pages: 235

Go To