Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰى:اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں  نازل فرمایا کہ تم مشقت میں  پڑجاؤ۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں  فرمایا کہ آپ مشقت میں  پڑجائیں  اور ساری ساری رات قیام کرنے کی تکلیف اٹھائیں ۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں  بہت محنت فرماتے تھے اور پوری رات قیام میں  گزارتے یہاں  تک کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک قدم سوج جاتے ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام نے حاضر ہو کر  اللہ تعالیٰ کے حکم سے عرض کی :آپ اپنے پاک نفس کو کچھ راحت دیجئے کہ اس کا بھی حق ہے ۔ شانِ نزول کے بارے میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں  کے کفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ افسوس اور حسرت کی حالت میں  رہتے تھے اور آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک قلب پر اس وجہ سے رنج و ملال رہا کرتا تھا ،  تو اس آیت میں  فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں  کیونکہ قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لئے نازل نہیں  کیا گیا ہے۔( مدارک ،  طہ  ،  تحت الآیۃ: ۲  ،  ص۶۸۶  ،  خازن  ،  طہ  ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۲۴۸-۲۴۹ ،  ابو سعود ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۴۴۸ ،  ملتقطاً)

 اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت:

            اس آیتِ مبارکہ میں  سرکارِ دوعالَمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے محبت اور شوقِ عبادت کا بیان بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی  اللہ تعالیٰ کی آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے محبت اور اس کی بارگاہ میں  آپ کی عظمت کا بیان بھی ہے کہ حضور پُرنور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو  اللہ تعالیٰ کی محبت اور عبادت کے شوق میں  کثرت سے عبادت کرتے او رمشقت اٹھاتے ہیں  ،  جبکہ  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مشقت پر آپ کی راحت و آسانی کا حکم نازل فرماتا ہے۔

{اِلَّا تَذْكِرَةً:مگر یہ اس کیلئے نصیحت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں  فرمایا کہ آپ مشقت میں  پڑجائیں  بلکہ یہ قرآن اُس کے لئے نصیحت ہے جو  اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔( روح البیان ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳ ، ۵ / ۳۶۲ ،  خازن ،  طہ ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۲۴۹ ،  ملتقطًا)

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔

{تَنْزِیْلًا:نازل کیا ہوا ہے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی عظمت بیان فرمائی کہ یہ قرآن اس  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمینوں  اور بلند آسمانوں  کو پیدا فرمایا اور جس نے اتنی عظیم مخلوق پیدا فرمائی وہ خالق کتنا عظیم ہو گا اور جب ایسی عظیم ذات نے قرآن مجید نازل فرمایا ہے تو یہ قرآن کتنا عظمت والا ہو گا۔

قرآنِ مجید کی عظمت بیان کرنے کا مقصد:

            یہاں  قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کے معانی میں  غورو فکر کریں  اور اس کے حقائق میں  تَدَبُّر کریں  کیونکہ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ جس پیغام کو بھیجنے والا انتہائی عظیم ہو تو اس پیغام کو بہت اہمیت دی جاتی

ہے اور پوری توجہ سے اسے سنا جاتا ہے اور بھر پور طریقے سے اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔ اور جب قرآن کریم کو نازل فرمانے والا سب سے بڑا عظیم ہے تو اس کی طرف سے بھیجے ہوئے قرآن عظیم کوسب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہئے اور اس میں  انتہائی غورو فکر کرنا اور کامل طریقے سے ا س کے دئیے گئے احکام پر عمل کرنا چاہئے ۔ افسوس! آج مسلمانوں  کی ایک تعداد ایسی ہے جو تلاوتِ قرآن کرنے سے ہی محروم ہے اور جو تلاوت کرتے بھی ہیں  تو وہ درست طریقے سے تلاوت نہیں  کرتے اور صحیح طریقے سے تلاوت کرنے والوں  کا بھی حال یہ ہے کہ وہ نہ قرآن مجید کو سمجھتے ہیں   ،  نہ اس میں  غورو فکر کرتے ہیں  اور نہ ہی اس کے اَحکام پر عمل کرتے ہیں ۔

            حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :ہماری مصیبت سے بڑی کوئی مصیبت نہیں  ،  ہم میں  سے ایک شخص دن رات قرآن مجید پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں  کرتا حالانکہ یہ مکمل قرآن مجید ہماری طرف ہمارے رب کے پیغامات ہیں ۔( تنبیہ المغترین ،  الباب الرابع فی جملۃ اخری من الاخلاق ،  ومن اخلاقہم رضی  اللہ عنہم کثرۃ الاستغفار وخوف المقت ۔۔۔ الخ ،  ص۲۶۱)

            اور حضرت محمد بن کعب قرظی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : جس تک قرآن مجیدپہنچ گیا تو گویا  اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام کیا۔ جب وہ ا س بات پر قادر ہو جائے تو قرآن مجید پڑھنے ہی کو اپنا عمل قرار نہ دے بلکہ اس طرح پڑھے جس طرح کوئی غلام اپنے مالک کے لکھے ہوئے خط کو پڑھتا ہے تاکہ وہ اس میں  غوروفکر کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب آداب تلاوۃ القرآن ،  الباب الثالث فی اعمال الباطن فی التلاوۃ ،  ۱ / ۳۷۸)

                 اللہ تعالیٰ ہمیں  قرآن مجید کی تلاوت کرنے ،  اسے سمجھنے ،  اس میں  غورو فکر کرنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى(۵)لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ بڑی مہر والا اس نے عرش پر اِستواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اس کا ہے جو کچھ آسمانوں میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  اور جو کچھ ان کے بیچ میں  اور جو کچھ اس گیلی مٹی کے نیچے ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ بڑا مہربان ہے  ، اس نے عرش پر اِستواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ اس گیلی مٹی (زمین) کے نیچے ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To