Book Name:Sirat ul jinan jild 6

آیت’’وَ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں

(1)… کافروں  کا دوزخ میں  داخلہ انتہائی ذلت ورسوائی سے او ر مومنوں  کا جنت میں  داخلہ انتہائی عزت و احترام سے ہوگا۔

(2)… کافر میدانِ محشر میں  پیاسے ہوں  گے۔یاد رہے کہ مومنوں  کے لئے حوضِ کوثر کی نہر میدانِ محشرمیں  آئے گی جس سے مُرتَدّین روک دئیے جائیں  گے ،  یونہی ہر نبی کے امتیوں  کیلئے ان کے نبی کا حوض ہوگا۔

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: لوگ شفاعت کے مالک نہیں  مگر وہی جنہوں  نے رحمٰن کے پاس قرار کر رکھا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگ شفاعت کے مالک نہیں  مگر وہی جس نے رحمٰن کے پاس عہد لے رکھا ہے۔

{لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ:لوگ شفاعت کے مالک نہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جسے  اللہ تعالیٰ کی طرف سے گناہگاروں  کی شفاعت کا اِذن مل چکاہے اس کے علاوہ کوئی بندہ کسی گناہگار کی شفاعت کا مالک نہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مجرموں  میں  سے کوئی اس بات کا مالک نہیں  کہ اس کی شفاعت کی جائے البتہ ان میں  سے جو مسلمان ہے اس کی شفاعت ہوگی۔( روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ۵ / ۳۵۶)

 اللہ تعالٰی کے پاس عہد :

            یہاں  ہم دو ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں  جنہیں  بجا لانے والے بندے کا عہد  اللہ تعالیٰ کے پاس رکھ دیا جاتا ہے۔

(1)…حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  پر پانچ نمازیں  فرض فرمائی ہیں  ،  جس نے انہیں  ادا کیا اور ہلکا سمجھ کر ان میں  سے کچھ ضائع نہ کیا تو اس کا  اللہ تعالیٰ کے پاس عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں  داخل فرمائے اور جس نے انہیں  ادا نہ کیا تو اس کے لئے  اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی عہد نہیں  ،  چاہے و ہ اسے عذاب دے یا اسے جنت میں  داخل کر دے۔( ابو داؤد ،  کتاب الوتر ،  باب فیمن لم یوتر ،  ۲ / ۸۹ ،  الحدیث: ۱۴۲۰)

(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ میں  نے رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے صحابہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْسے یہ کہتے سنا کہ کیا تم اس بات سے عاجز ہوکہ ہرصبح وشام اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کے پاس سے ایک عہد لو۔ صحابہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْنے عرض کی: یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  وہ کس طرح ؟ حضور پُرنور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ صبح وشام یہ کہے ’’اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ،  عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ،  اِنِّی اَعْہَدُ اِلَیْکَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا بِاَنِّیْ اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اَنْتَ وَحْدَکَ ،  لَاشَرِیْکَ لَکَ ،  وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ ، فلَاَ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ تُبَاعِدْنِیْ مِنَ الْخَیْرِ  وتُقَرِّبْنِیْ مِنَ الشَّرِّ ،  وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلَّا بِرَحْمَتِکَ ،  فَاجْعَلْ لِیْ عِنْدَکَ عَہْدًا تُوَفِّیْنِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ،  اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادْ‘‘ توجوشخص یہ کہے گا ،  اللہ تعالیٰ اس پرمہر لگا کر عرش کے نیچے رکھ دے گا اور جب قیامت کا دن ہوگا تو ندا کرنے والا ندا کرے گا: کہاں  ہیں  وہ لوگ جن کا اللہ تعالیٰ کے پاس عہد ہے؟ پس وہ آدمی کھڑا ہوگا اور اسے جنت میں  داخل کر دیا جائے گا۔(قرطبی ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ۶ / ۶۳ ،  الجزء الحادی عشر)

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ(۸۸) لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْــٴًـا اِدًّاۙ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافر بولے رحمٰن نے اولاد اختیار کی۔بیشک تم حد کی بھاری بات لائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافروں  نے کہا: رحمٰن نے اولاد اختیار کی ہے۔ بیشک تم انتہائی ناپسندیدہ بات لائے ہو۔

{وَ قَالُوا:اور کافر وں  نے کہا۔} اس سے پہلے بتوں  کی پوجا کرنے والوں  کا رد کیا گیا اور اب ایک بار پھر ان لوگوں  کا رد کیا جارہا ہے جو  اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں   ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کافر وں  نے یہ کہا: رحمٰن نے اولاد اختیار کی ہے۔ اس آیت میں  حضرت عزیر عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو  اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے والے یہودی ،  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو  اللہ تعالیٰ کا بیٹاکہنے والے عیسائی اور فرشتوں  کو  اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  کہنے والے مشرکینِ عرب سبھی داخل ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ۷ / ۵۶۶)

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ(۹۰) اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ(۹۱) وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں  اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں  ڈھ کر۔ اس پر کہ انہوں  نے رحمٰن کے لیے اولاد بتائی۔  اور رحمٰن کے لئے لائق نہیں  کہ اولاد اختیار کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں  اور زمین بھی پھٹ جائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں ۔ کہ انہوں  نے رحمٰن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔حالانکہ رحمٰن کے لائق نہیں  کہ اولاد اختیار کرے۔

{تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ:قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں  ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا دعویٰ کرنا ایسی بے ادبی و گستاخی کا کلمہ ہے کہ ا س کی وجہ سے اگر  اللہ تعالیٰ غضب فرمائے تو وہ تمام جہان کا نظام درہم برہم کر دے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ کفار نے جب یہ گستاخی کی اور ایسا بے باکانہ کلمہ منہ سے نکالا تو جن و اِنس کے سوا آسمان  ،  زمین  ،  پہاڑ وغیرہ تمام مخلوق پریشانی سے بے چین ہو گئی اور ہلاکت کے قریب پہنچ گئی ،  فرشتوں  کو غضب ہوا اور جہنم کو جوش آگیا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱ ،  ۳ / ۲۴۷)

 



Total Pages: 235

Go To