Book Name:Sirat ul jinan jild 6

چہارم ،  ص۴۸۴)

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِؕ-قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے ذوالقرنین کو پوچھتے ہیں  تم فرماؤ میں  تمہیں  اس کا مذکور پڑھ کر سناتا ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ تم فرماؤ: میں  عنقریب تمہارے سامنے اس کا ذکر پڑھ کر سناتا ہوں ۔

{وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ:اور آپ سے سوال کرتے ہیں ۔} سورۂ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 85 کی تفسیر میں  بیان ہو اتھا کہ کفارِ مکہ نے یہودیوں  کے مشورے سے سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اصحابِ کہف اور حضرت ذوالقر نین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے بارے میں  سوال کیا۔ سورۂ کہف کی ابتدا میں  اصحابِ کہف کا قصہ تفصیل سے بیان کر دیا گیا اور اب حضرت ذوالقر نینرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے بارے میں  بتایا جارہا ہے۔

حضرت ذوالقرنینرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا مختصر تعارف:

             آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کا نام اسکندر اور ذوالقر نین لقب ہے۔ مفسرین نے اس لقب کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں  ،  ان میں  سے 4 یہاں  بیان کی جاتی ہیں :

(1)…آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی جگہ تک پہنچے تھے۔

(2)… آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے سر پر دو چھوٹے ابھار سے تھے ۔

(3)…انہیں  ظاہری و باطنی علوم سے نوازا گیا تھا ۔

(4)… یہ ظلمت اور نور میں  داخل ہوئے تھے۔

            یہ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خالہ زاد بھائی ہیں  ،  اُنہوں  نے اسکندریہ شہر بنایا اور اس کا نام اپنے نام پر رکھا۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے وزیر اور صاحبِ لِواء تھے۔ دنیا میں  چار بڑے بادشاہ ہوئے ہیں   ،  ان میں  سے دو مومن تھے ،  حضرت ذوالقرنینرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  اور حضرت سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دو کافر تھے نمرود اور بُختِ نصر ،  اور پانچویں  بڑے بادشاہ حضرت امام مہدی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ ہوں  گے ،  اُن کی حکومت تمام روئے زمین پر ہوگی۔ حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی نبوت میں  اختلاف ہے  ،  حضرت علی کَرَّمَ  اللہ  تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ وہ نہ نبی تھے نہ فرشتے بلکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کرنے والے بندے تھے ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں  محبوب بنایا۔(جمل ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۳ ،  ۴ / ۴۵۱ ،  مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۳ ،  ص۶۶۱ ،  قرطبی ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۳ ، ۵ / ۳۴۰ ،  الجزء العاشر ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۳ ،  ۳ / ۲۲۲-۲۲۳)

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ(۸۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اسے زمین میں  قابو دیا اور ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اسے زمین میں  اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک سامان عطا فرمایا۔

{اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ:بیشک ہم نے اسے زمین میں  اقتدار دیا۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کو زمین میں  اقتدار دیا اور اسے ہر چیز کا ایک سامان یا اس کے حصول کا ایک طریقہ عطا فرمایا اور جس چیز کی مخلوق کو حاجت ہوتی ہے اور جو کچھ بادشاہوں  کو ملک اور شہر فتح کرنے اور دشمنوں  کے ساتھ جنگ کرنے میں  درکار ہوتا ہے وہ سب عنایت کیا۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ۳ / ۲۲۳)

فَاَتْبَعَ سَبَبًا(۸۵)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا۬ؕ-قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا(۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان:تو وہ ایک سامان کے پیچھے چلا ۔ یہاں  تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں  ڈوبتا پایا اور وہاں  ایک قوم ملی ہم نے فرمایا اے ذوالقرنین یا تو تُو انہیں  سزا دے یا ان کے ساتھ بھلائی اختیار کرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو وہ ایک راستے کے پیچھے چلا ۔ یہاں  تک کہ جب سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچا تواسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں  ڈوبتا ہوا پایا اور اس چشمے کے پاس ہی ایک قوم کو پایا توہم نے فرمایا: اے ذوالقرنین! یا تو تُو انہیں  سزا دے یا ان کے بارے میں  بھلائی اختیار کرو۔

{سَبَبًا:سبب۔}سبب سے مراد وہ چیز ہے جو مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ ہوخواہ وہ علم ہو  ،  قدرت ہو یا آلات ہوں  ،  تو حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے جس مقصد کا ارادہ کیا اسی کا سبب اختیار کیا ،  چنانچہ جب آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے مغرب کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو اس کے لئے وہ راستہ اختیار کیا جو انہیں  وہاں  تک پہنچا دے  ، جیسا کہ اس آیت میں  ہے  ،  اور جب انہوں  نے مشرق کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو وہ اس راستے پر چلے جو انہیں  مشرق تک پہنچا دے۔( مدارک ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ص۶۶۲ ،  بیضاوی ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۸۵ ،  ۳ / ۵۲۰ ،  ملتقطاً)

{وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ:اسے ایک سیاہ کیچڑ کے چشمے میں  ڈوبتا ہواپایا ۔} حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں  نے کتابوں  میں  دیکھا تھا کہ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹے سام کی اولاد میں  سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ یہ دیکھ کر وہ چشمۂ حیات کی طلب میں  مغرب و مشرق کی طرف روانہ ہوئے  ،  اس سفر میں  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کے ساتھ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبھی تھے ،  وہ تو چشمۂ حیات تک پہنچ گئے اور انہوں  نے اس میں  سے پی بھی لیا مگر حضرت ذوالقرنین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ