Book Name:Sirat ul jinan jild 6

نہیں  اور کسے پہلے جہنم میں  پھینکا جائے گا اورکسے بعد میں ۔

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں  کوئی ایسا نہیں  جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم میں  سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔یہ تمہارے رب کے ذمہ پر حتمی فیصلہ کی ہوئی بات ہے۔

{وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا:اور تم میں  سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔} اس آیت سے متعلق مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،  ان میں  سے 3قول درج ذیل ہیں :

(1)… اس آیت میں  کافروں  سے خطاب ہے( اور جہنم پر وارد ہونے سے مراد جہنم میں  داخل ہونا ہے۔)

(2)… اس میں  خطاب تمام لوگوں  سے ہے اور جہنم پر وارد ہونے سے مراد جہنم میں  داخل ہونا ہے البتہ (جنت میں  جانے والے) مسلمانوں  پر جہنم کی آگ ایسے سرد ہو جائے گی جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر دنیا میں  آگ سرد ہوئی تھی اور ان کا یہ داخلہ عذاب پانے کے طور پر نہ ہو گا اور نہ ہی یہ وہاں  خوفزدہ ہوں  (بلکہ ان کا یہ داخلہ صرف  اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تصدیق کے لئے ہوگا۔)( تاویلات اہل السنہ ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ۳ / ۲۷۴-۲۷۵)

(3)…علامہ ابوحیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں  خطاب عام مخلوق سے ہے (یعنی اس خطاب میں  نیک و بد تمام لوگ داخل ہیں ) اور جہنم پر وارد ہونے سے (نیک و بد) تمام لوگوں  کا جہنم میں  داخل ہونا مراد نہیں  (بلکہ اس سے مراد جہنم کے اوپر سے گزرنا ہے ، جیسا کہ ) حضرت عبد اللہ بن مسعود ،  حضرت حسن اور حضرت قتادہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْسے روایت ہے کہ جہنم پر وارد ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو کہ جہنم کے او پر بچھایا گیا ہے۔( البحر المحیط ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ۶ / ۱۹۷)

{كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا: یہ تمہارے رب کے ذمہ پر حتمی فیصلہ کی ہوئی بات ہے۔} یعنی جہنم پر وارد ہونا  اللہ تعالیٰ کا وہ حتمی فیصلہ ہے جو اس نے اپنے تمام بندوں  پر لازم کیا ہے۔

پل صراط سے متعلق چند اہم باتیں :

            اس آیت کی تفسیر میں پل صراط سے گزرنے کا بھی ذکر ہوا ،  اس مناسبت سے یہاں  پل صراط سے متعلق چند اہم باتیں  ملاحظہ ہوں  ،  چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’صراط حق ہے ۔یہ ایک پل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا۔ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا ۔ جنت میں  جانے کا یہی راستہ ہے۔ سب سے پہلے نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وَسَلَّمَ گزر فرمائیں  گے ،  پھر اور اَنبیا و مُرسَلین ،  پھر یہ اُمت پھر اور اُمتیں  گزریں  گی  اور حسبِ اِختلافِ اعمال پل صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں  گے ،  بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں  گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہوا کی طرح ،  کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہے اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے ،  یہاں  تک کہ بعض شخص سرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا اور پل صراط کے دونوں  جانب بڑے بڑے آنکڑے ( اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے) لٹکتے ہوں  گے ،  جس شخص کے بارے میں  حکم ہوگا اُسے پکڑلیں  گے ،  مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں  گے اور بعض کو جہنم میں  گرا دیں  گے   اور یہ ہلاک ہوا۔ یہ تمام اہلِ محشر تو پل پر سے گزرنے میں  مشغول ،  مگر وہ بے گناہ ،  گناہگاروں  کا شفیع پل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمتِ عاصی کی نجات کی فکر میں  اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: ’’رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ‘‘ الہٰی! ان گناہگاروں  کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اُس دن تمام مواطن میں  دورہ فرماتے رہیں  گے ،  کبھی میزان پر تشریف لے جائیں  گے ،  وہاں  جس کے حسنات میں  کمی دیکھیں  گے ،  اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں  گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں   ،  پیاسوں  کو سیراب فرما رہے ہیں  اور وہاں  سے پل پر رونق افروز ہوئے اور گرتوں  کو بچایا۔ غرض ہر جگہ اُنھیں  کی دوہائی ،  ہر شخص اُنھیں  کو پکارتا ،  اُنھیں  سے فریاد کرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے۔۔۔؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں  ہے ،  دوسروں  کو کیا پوچھے ،  صرف ایک یہی ہیں  ،  جنہیں  اپنی کچھ فکر نہیں  اور تمام عالَم کا بار اِن کے ذمے۔( بہار شریعت ،  حصہ اول ،  معاد وحشر کا بیان ،  ۱ / ۱۴۷-۱۴۹)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ اس وقت کی منظر کَشی کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں :

 

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں  گے            آپ روتے جائیں  گے ہم کو ہنساتے جائیں  گے

کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ نعمتِ خُلد اپنے صَدقے میں  لٹاتے جائیں  گے

خاک اُفتادو! بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے         خود وہ گر کر سجدہ میں  تم کو اٹھاتے جائیں  گے

آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گِریاں  آئے ہیں              لَوحِ دل سے نقشِ غم کو اب مٹاتے جائیں  گے

پائے کوباں  پل سے گزریں  گے تری آواز پر          رَبِّ سَلِّمْ کی  صَدا  پر  وَجد  لاتے  جائیں   گے

پل صراط کاخوفناک منظر:

            یاد رہے کہ پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ انتہائی مشکل اور اس کا منظر بہت خوفناک ہے ،  امام محمد غزالی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : (جب قیامت کے دن ) لوگوں  کو پل صراط کی طرف لے جایا جائے گا جو کہ جہنم کے اوپر بنایا ہوا ہے اور وہ تلوار سے زیادہ تیز ،  بال سے زیادہ باریک ہے۔ تو جو شخص اس دنیا میں  صراطِ مستقیم پر قائم رہا وہ آخرت میں  پل صراط پر ہلکا ہوگا اور نجات پاجائے گا اور جو دنیا میں  اِستقامت کی راہ سے ہٹ گیا ،  گناہوں  کی وجہ سے اس کی پیٹھ بھاری ہوئی اور وہ نافرمانی کرتا رہا تو پہلے قدم پر ہی وہ پل صراط سے پھسل کر (جہنم میں ) گر جائے گا۔ تو اے بندے! ذرا سوچ کہ اس وقت تیرا دل کس قدر گھبرائے گا جب تو پل صراط اور اس کی باریکی دیکھے گا ،  پھر اس کے نیچے جہنم کی سیاہی پر تیری نظر پڑے گی ،  اس کے نیچے آگ کی چیخ اور اس کا غصے میں  آنا سنے گا اور کمزور حالت کے باوجود تجھے پل صراط پر چلنا ہوگا ،  چاہے تیرا دل بے قرار ہو ،  قدم پھسل رہے ہوں  اور پیٹھ پر اتنا وزنی بوجھ ہو جو زمین پر چلنے سے رکاوٹ



Total Pages: 235

Go To