Book Name:Sirat ul jinan jild 6

آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حقیقی باپ تھا ،  بعض کہتے ہیں  کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام تارح ہے اور اس کا لقب آزر ہے ،  بعض کہتے ہیں  کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قومی زبان میں ان کے باپ کا نام تارخ تھا اور دوسری زبانوں  میں  تارخ کو آزر بولا جاتا تھا ،  بعض کہتے ہیں  کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باپ کا نام نہیں  بلکہ قوم کے بڑے بت کا نام آزر تھا اور بعض کہتے ہیں  کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد کا نام تارخ تھا جبکہ آزر آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا کا نام تھا اور بڑوں  کی یہ عادت معروف تھی کہ وہ چچا کو باپ کہہ کر پکارتے تھے۔ اور یہ آخری بات ہی درست ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حقیقی باپ نہیں  بلکہ چچا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نور پاک لوگوں  کی پشتوں  سے پاک عورتوں  کے رحموں  کی طرف مُنْتقل ہوا اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام چونکہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آباؤ اَجداد سے ہیں  اس لئے آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حقیقی والد کفرو شرک کی نجاست سے آلودہ کیسے ہو سکتے ہیں  ،  چنانچہ علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’ علمائِ اہلسنّت میں  سے ایک جَمِّ غفیر کی رائے یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا والد نہ تھا کیوں  کہ حضور اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے آباؤ اجداد میں  کوئی کافر نہ تھا ،  جیساکہ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے کہ’’ میں  ابتداہی سے آخر تک پاک لوگوں  کی پشتوں  سے پاک خواتین کے رحموں  میں  مُنْتقل ہوتا چلا آیا ہوں  جبکہ مشرک تونَجَس ہیں  ۔اورامام رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کایہ کہنا کہ یہ شیعہ کامذہب ہے درست نہیں ۔ امام رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے اچھی طرح چھان بین نہیں  کی اس لیے ان سے یہ غلطی ہوگئی۔ علمائِ اہلسنّت کی اکثریت کاقول یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے چچا کا نام ہے اور ’’اَبْ‘‘ کا لفظ چچا کے معنی میں  عام استعمال ہوتا ہے۔( روح المعانی ،  الانعام ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ۴ / ۲۵۳)

            صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ فرماتے ہیں  : قاموس میں  ہے کہ آزر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  َالسَّلَام کے چچا کانام ہے۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی(رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  )نے ’’مَسَالِکُ الْحُنَفَاءُ‘‘ میں  بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ چچا کو باپ کہنا تمام ممالک میں  معمول ہے بالخصوص عرب میں  ،  قرآنِ کریم میں  ہے (جیسا کہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے) ’’نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا‘‘ اس میں  حضرت اسماعیل (عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کوحضرت یعقوب( عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)کے آباء میں  ذکر کیا گیا ہے باوجودیکہ آپ عَم (یعنی چچا) ہیں ۔ حدیث شریف میں  بھی حضرت سیّدِ عالَم صَلَّی  اللہ عَلَیْہ وَسَلَّمَ نے حضرت عباس رَضِیَ  اللہ عَنْہُ کواَبْ (یعنی باپ) فرمایا ،  چنانچہ ارشاد کیا  ’’رُدُّوْاعَلَیَّ اَبِیْ ‘‘ اور یہاں  اَبِیْ سے حضرت عباس( رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ) مراد ہیں ۔(خزائن العرفان ،  الانعام ،  تحت الآیۃ: ۷۴ ،  ص۲۶۱) لہٰذا ثابت ہوا کہ آیت میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باپ (آزر) سے ان کا چچا مراد ہے حقیقی والد مراد نہیں  ہیں ۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے باپ بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تجھے نہ آیا تو تُو میرے پیچھے چلا آ میں  تجھے سیدھی راہ دکھاؤں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا جو تیرے پاس نہیں  آیا تو تُو میری پیروی کر  ، میں  تجھے سیدھی راہ دکھادوں  گا۔

{یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ:اے میرے باپ! بیشک میرے پاس وہ علم آیا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آزر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک میرے پاس میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اس کی معرفت کا وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں  آیا ،  تو تُو میرا دین قبول کر کے میری پیروی کر  ، میں  تجھے سیدھی راہ دکھادوں  گا جس سے تو  اللہ تعالیٰ کے قرب کی اس منزل تک پہنچ سکے گا جو مقصود ہے۔

            اس آیت میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے جس علم کا ذکرہوا اس کے بارے میں  ایک قول تفسیر میں  ذکر ہوا کہ اس سے مراد  اللہ تعالیٰ کی معرفت کا علم ہے  ،  اور ایک قول یہ ہے کہ اس علم سے مراد وہ وحی ہے جو فرشتہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس لے کر آتا تھا  ،  ، یا ،  ،  اس سے مراد آخرت کے اُمور اور اُخروی ثواب و عذاب کا علم ہے  ،  ، یا ،  ،  اس سے مراد  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صرف  اللہ تعالیٰ کے اِلٰہ ہونے اور صرف اسی کے عبادت کا مستحق ہونے کا علم ہے۔(البحر المحیط ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۶ / ۱۸۲)اِن اَقوال میں  باہم کوئی تَضاد نہیں  ہے کہ حقیقت میں  آپ عَلَیْہِ  السَّلَام کو یہ سارے علوم عطا کئے گئے۔

 

آیت’’یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… اگر کوئی شخص عمر میں  بڑا ہوا اور اسے دین کا علم حاصل نہ ہو جبکہ اس کی اولاد یا قریبی عزیزوں  میں  سے کوئی عمر میں  اگرچہ چھوٹا ہے لیکن وہ دین کا علم رکھتا ہو تو اس سے علمِ دین سیکھنے میں  شرم و عار محسوس نہیں  کرنی چاہئے۔

(2)…اگر چھوٹی عمر والا بڑی عمر والے کو کوئی اچھی نصیحت کرے تو چھوٹی عمر کی وجہ سے اس کی اچھی نصیحت کو نظر انداز کرنے کی بجائے اسے قبول کرنا چاہئے۔

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا(۴۴)یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے باپ شیطان کا بندہ نہ بن بیشک شیطان رحمٰن کا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ میں  ڈرتا ہوں  کہ تجھے رحمٰن کا کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا رفیق ہوجائے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے باپ! شیطان کا بندہ نہ بن ،  بیشک شیطان رحمٰن کا بڑا نافرمان ہے۔ اے میرے باپ! میں  ڈرتا ہوں  کہ تجھے رحمٰن کی طرف سے کوئی عذاب پہنچے تو تُو شیطان کا دوست ہوجائے۔

{یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ:اے میرے باپ! شیطان کا بندہ نہ بن۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آزر سے تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ تو شیطان کابندہ نہ بن اور اس کی



Total Pages: 235

Go To