Book Name:Sirat ul jinan jild 6

طہارت وپاکی پر خود گواہی دیں  اور عزت واِمتیاز ان کا بڑھائیں ۔(فتاوی رضویہ ،  رسالہ: تجلی الیقین ،  ۳۰ / ۱۶۹)

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ۪-وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّاﳚ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس نے مجھے مبارک کیا میں  کہیں  ہوں  اور مجھے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب تک جیوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس نے مجھے مبارک بنایا ہے خواہ میں  کہیں  بھی ہوں  اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید فرمائی ہے جب تک میں  زندہ رہوں ۔

{وَ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا:اور اس نے مجھے مبارک بنایا ہے ۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ مجھے نبوت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ  اللہ تعالیٰ نے مجھے لوگوں  کے لئے نفع پہنچانے والا ،  خیر کی تعلیم دینے والا  ،   اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا اور اس کی توحید اور عبادت کی دعوت دینے والا بنایا ہے خواہ میں  کہیں  بھی ہوں  اور جب تک میں  زمین پر زندہ رہوں  تب تک اس نے مجھے نماز کا مُکَلَّف ہونے پر اسے قائم کرنے اور زکوٰۃ کے قابل مال ہونے کی صورت میں  اس کی زکوٰۃ ادا کرنے کاحکم دیا ہے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۳ / ۲۳۴ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۶۷۲ ،  ملتقطاً)

تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکات:

            حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے مبارک ہونے کاخود اعلان فرمایا جبکہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکات کو خو د  اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے  ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ‘‘(اٰل عمران:۱۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک  اللہ نے ایمان والوں  پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں  ایک رسول مبعوث فرمایا جو انہی میں  سے ہے۔وہ ان کے سامنے  اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اورانہیں  پاک کرتا ہے اور انہیں  کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناکھلی گمراہی میں  پڑے ہوئے تھے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں  سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں  پڑنا بہت بھاریگزرتا ہے ،  وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ،  مسلمانوں پر بہت مہربان ،  رحمت فرمانے والے ہیں ۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا‘‘(النساء:۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ  اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں  پر ظلم کربیٹھے تھے تو اے حبیب! تمہاری بارگاہ میں  حاضر ہوجاتے پھر  اللہ سے معافی مانگتے اور رسول(بھی) ان کی مغفرتکی دعافرماتے تو ضرور  اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا ،  مہربان پاتے۔

            اسی طرح نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت پر رحمت و شفقت کی انتہا اور  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و عبادت کی دعوت دینے کا جذبہ ایساتھا کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب!

’’فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا‘‘(کہف)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں  تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ختم کردو ۔

            سر ِدست یہ چند آیات ذکر کی ہیں  ورنہ قرآنِ مجید میں  سینکڑوں  آیات ایسی ہیں  جن میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکات کو بیان فرمایا ہے۔

آدمی کب تک شرعی اَحکام کا پابند ہے؟

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب تک آدمی زندہ ہے اور کوئی ایسا شرعی عذر نہیں  پایا جا رہا جس سے عبادت ساقط ہو جائے تب تک شریعت کی طرف سے لازم کی گئی عبادات اور دئیے گئے احکامات کا وہ پابند ہے۔ اس میں  ان لوگوں  کے لئے بڑی نصیحت ہے جو شیطان کے بہکاوے میں  آکر لوگوں  سے یہ کہتے ہیں  کہ ہم  اللہ تعالیٰ کی معرفت کے اتنے اعلیٰ مقام پر فائز ہو چکے ہیں  کہ اب ہم پر کوئی عبادت لازم نہیں  رہی اور ہر حرام وناجائز چیز ہمارے لئے مباح ہو چکی ہے۔ جب مخلوقمیں اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ معرفت رکھنے والی اور سب سے مقرب ہستیوں  یعنی اَنبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عبادات ساقط نہیں  ہوئیں  بلکہ پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سب زیادہ مقرب بندے اور سب سے زیادہ  اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے یعنی ہمارے آقا ،  محمد مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بھی عبادات ساقط نہیں  ہوئیں  تو آج کل کے جاہل اور بناوٹی صوفیا کس منہ سے کہتے ہیں  کہ ہم سے عبادات ساقط ہو چکی ہیں ۔ایسے بناوٹی صوفی شریعت کے نہیں  بلکہ شیطان کے پیروکار ہیں  اور اس کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں  کے دین مذہب اور ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ ایسے شریروں  کے شر سے ہمیں  محفوظ فرمائے ، اٰمین۔

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ٘-وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا(۳۲)

 



Total Pages: 235

Go To