Book Name:Sirat ul jinan jild 6

تعالیٰ کی قدرت سے اسی

وقت حاملہ ہوگئیں ۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۱-۲۲ ،  ۳ / ۲۳۱ ،  مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ص۶۷۰ ،  روح البیان ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۵ / ۳۲۳ ،  ملتقطاً)

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اب مریم نے اسے پیٹ میں  لیا پھر اسے لیے ہوئے ایک دور جگہ چلی گئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر مریم حاملہ ہوگئیں  تواسے لے کر ایک دور کی جگہ چلی گئی۔

{فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا:پھر مریم حاملہ ہوگئیں  تواسے لے کر ایک دور کی جگہ چلی گئی۔} جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کوحمل کے آثار ظاہر ہوئے تو  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکو اِلہام کیا کہ وہ اپنی قوم سے علیحدہ چلی جائیں   ، اس لئے وہ بیتُ اللّحم میں  چلی گئیں ۔

یوسف نجار کے سوال کا جواب:

            منقول ہے کہ سب سے پہلے جس شخص کو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکے حمل کا علم ہواوہ ان کا چچا زاد بھائی یوسف نجار تھا جو مسجد بیت المقدس کا خادم تھا اور بہت بڑا عابد شخص تھا ۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا حاملہ ہیں  تواسے نہایت حیرت ہوئی ۔ وہ جب چاہتا کہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پر تہمت لگائے تو اُن کی عبادت و تقویٰ ،  ان کا ہر وقت کا حاضر رہنا اور کسی وقت غائب نہ ہونا یاد کرکے خاموش ہوجاتا تھا اور جب حمل کا خیال کرتا تو اُن کو بَری سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ۔ بالآخر اُس نے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا سے کہا کہ میرے دِل میں  ایک بات آئی ہے ہر چند چاہتا ہوں  کہ زبان پر نہ لاؤں  مگر اب صبر نہیں  ہوتا ہے  ،  آپ اجازت دیجئے کہ میں  کہہ گزروں  تاکہ میرے دل کی پریشانی رفع ہو۔ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہانے کہا کہ اچھی بات کہو۔ تو اُس نے کہا کہ اے مریم! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،  مجھے بتاؤ کہ کیا کھیتی بغیر بیج کے اور درخت بغیر بارش کے اور بچہ بغیر باپ کے ہوسکتا ہے؟ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہانے فرمایا کہ ہاں  ،  کیا تجھے معلوم نہیں  کہ  اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلے کھیتی پیدا کی وہ بغیربیج ہی کے پیدا کی اور درخت اپنی قدرت سے بغیر بارش کے اگائے ،  کیا تو یہ کہہ سکتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ پانی کی مدد کے بغیر درخت پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ یوسف نے کہا :میں  یہ تو نہیں  کہتا بے شک میں  اس کا قائل ہوں  کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہر شے پر قادر ہے  ، جسے کُن فرمائے وہ ہوجاتی ہے۔ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے کہا کہ کیا تجھے معلوم نہیں  کہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اُن کی بیوی کو بغیر ماں  باپ کے پیدا کیا۔ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکے اس کلام سے یوسف کا شُبہ رفع ہوگیا اور حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا حمل کے سبب سے ضعیف ہوگئیں  تھیں  اس لئے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کی نِیابَت کے طور پر مسجد کی خدمت وہ سر انجام دینے لگا۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ، ۳ / ۲۳۲)

تمام مخلوقات کو پہلی بار  اللہ تعالٰی نے پیدا کیا:

            یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ نے کائنات میں  جتنی مخلوقات پیدا فرمائیں  ان تمام کی پہلی بار پیدائش اس نے اپنی قدرتِ کاملہ سے فرمائی اور اس کے بعد جن مخلوقات کی افزائش منظور تھی ان کی افزائش کے لئے ظاہری اَسباب مقرر فرمائے اور ان اَسباب کے ذریعے مخلوقات کی افزائش ہوئی ،  نیز اَسباب مقرر کرنے کے بعد بھی  اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اِظہار کے لئے بعض مخلوقات کو ان کے ظاہری سبب کے بغیر پیدا فرمایا جیسے حضرت حوّا رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی پسلی سے پیدا فرما یا اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ کائنات میں  اَشیاء کے پہلی بار وجود میں  آنے سے متعلق یہ وہ مُعْتَدِل نظریہ ہے جو عقل اور شریعت کے عین موافق ہے جبکہ اس کے برعکس دَہْرِیّوں  کے نظریات عقل و نظر کے صریح مخالف ہیں  کہ ان کے نظریات کی رُو سے کسی شے کی کوئی ابتداء بنتی ہی نظر نہیں  آتی۔

            یہاں  یہ بھی یاد رہے کہ  اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی چیزوں  میں  غورو فکر کرنا اور ان چیزوں  میں   اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل تلاش کرنے کے لئے تحقیق اور جستجو کرنا بہت عمدہ کام ہے کیونکہ اس سے  اللہ تعالیٰ کی قدرت دلائل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے اور یوں  کفار کے لئے  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ا س کی وحدانیت کا اعتراف کرنے اور  اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی راہیں  کھلتی ہیں  اور مسلمانوں  کا اپنے رب تعالیٰ پر ایمان مزید مضبوط ہوتا ہے۔

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ-قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَاوَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے جننے کا درد ایک کھجور کی جڑ میں  لے آیا بولی ہائے کسی طرح میں  اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری ہوجاتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا تو اس نے کہا: اے کاش کہ میں  اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں  کوئی بھولی بسری ہوجاتی۔

{فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِۚ:پھر بچے کی پیدائش کا درد اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔} جب ولادت کاوقت قریب آیا اور درد کی شدت زیادہ ہوئی تو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکھجور کے ایک سوکھے درخت کے پاس آکر بیٹھ گئیں  ۔ اب درد کی بھی شدّت تھی اور دوسری طرف مستقبل کے معاملات بھی تھے کہ اگرچہ میں  تو مطمئن ہوں  مگرلوگوں  کوکیسے مطمئن کروں  گی چنانچہ اسی پریشانی کی شدّت سے کہا کہ اے کاش میں  اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی یابھولی بسری ہوجاتی تا کہ یہ تمام معاملات پیش نہ آتے ۔

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اسے اس کے تلے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بہا دی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اسے اس کھجورکے درخت کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک نہر بنا دی ہے۔

{فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ:تو اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کھا۔} جب حضرت مریم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے درد کی شدت سے مرنے کی تمنا کی تواس وقت حضرت جبرئیل



Total Pages: 235

Go To