Book Name:Sirat ul jinan jild 6

(اور فرماتا ہے)

’’ وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ- اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ‘‘(عنکبوت:۳۳)

(ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے توانہیں  فرشتوں  کا آنا برا لگا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اورفرشتوں  نے کہا: آپ نہ ڈریں  اور نہ غمگین ہوں  ،  بیشک ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں  کو بچانے والے ہیں  سوائے آپ کی بیوی کے کہ پیچھے رہ جانے والوں  میں  سے ہے۔)

            ان تمام آیتوں  سے معلوم ہوا کہ فرشتے انبیاءِ کرام کی خدمت میں  انسانی شکل بشری صورت میں  حاضر ہوتے تھے ،  مگر اس کے باوجود وہ نور بھی ہوتے تھے ،  غرضیکہ نورانیت و بشریت ضدیں  نہیں ۔( رسائل نعیمیہ ،  رسالہ نور ،  ص۷۸-۷۹)

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا(۱۸)قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بولی میں  تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں  اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ بولا میں  تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں  کہ میں  تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مریم بولی: میں  تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں  اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ کہا: میں  توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں  تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔

{قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ:مریم بولی: میں  تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں ۔} جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے خَلْوَت میں  اپنے پاس ایک بے ریش نوجوان کو دیکھا تو خوفزدہ ہوگئیں  اور فرمایا کہ میں تجھ سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتی ہوں  ،  اگر تم میں  کچھ خدا خوفی ہے تویہاں  سے چلے جاؤ۔ اس کلام سے آپ کی انتہائی پاکدامنی اور تقویٰ کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے چیخ کر کسی او ر کو آواز نہ دی بلکہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگی تاکہ اس واقعہ کی کسی کو خبر نہ ہو ۔

{قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ: کہا:میں  توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں ۔} جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا خوفزدہ ہوئیں  تواس وقت حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامنے کہا کہ میں  فرشتہ ہوں  اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں  تاکہ میں  تمہیں  ایک ستھرا اور پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔

آیت’’لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 3 باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)…  اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے  اللہ تعالیٰ کے بعض کاموں  کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں  ،  جیسے کسی کوبیٹا دینا در حقیقت  اللہ تعالیٰ کا کام ہے لیکن حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامنے فرمایا کہ میں  تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں ۔

(2)… اللہ تعالیٰ کے بعض کام اس کے بندوں  کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں  ،  لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنت دیتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ کے اَولیاء اولاد دیتے ہیں  ،  وغیرہ۔

(3)…  اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں  کو اولاد عطا کرنے کی طاقت اور اجازت دیتا ہے اور وہ  اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت واجازت سے اولاد عطا بھی کرتے ہیں  ،  جیسے  اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَامکو بیٹا دینے کی طاقت اور اجازت دی اور آپ عَلَیْہِ  السَّلَامنے  اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی طاقت اور اجازت سے حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کو بیٹا عطا کیا۔

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بولی میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا مجھے تو نہ کسی آدمی نے ہاتھ لگایا نہ میں  بدکار ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مریم نے کہا: میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں  اور نہ ہی میں  بدکار ہوں۔

{قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ:کہا: میرے لڑکا کہاں  سے ہوگا؟} حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام نے جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکوبیٹے کی خوشخبری دی توآپ حیران ہوگئیں  اور کہنے لگیں : کسی عورت کے ہاں  اولاد ہونے کا جو ظاہری سبب ہے وہ مجھ میں  پایا نہیں  جا رہا کیونکہ نہ تو میرا کسی سے نکاح ہوا ہے اور نہ ہی میں  بدکار عورت ہوں  تو پھر میرے ہاں  لڑکا کہاں  سے ہو گا؟ یاد رہے کہ حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکی یہ حیرانی اس وجہ سے نہ تھی کہ آپ  اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ کام بعید سمجھتی تھیں  بلکہ آپ اس لئے حیران ہوئی تھیں  کہ باپ کے بغیر اولاد کا ہونا خلافِ عادت تھا اور عادت کے برخلاف کام ہونے پر حیرت زدہ ہو جانا ایک فِطرتی امر ہے۔

قَالَ كَذٰلِكِۚ-قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌۚ-وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّاۚ-وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا یونہی ہے تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لیے کہ ہم اسے لوگوں  کے واسطے نشانی کریں  اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ٹھہرچکا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جبرئیل نے کہا : ایسا ہی ہے۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے اوپر بہت آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں  کیلئے نشانی بنادیں  اور اپنی طرف سے ایک رحمت (بنادیں ) اور یہ ایسا کام ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

{قَالَ كَذٰلِكِ:جبرئیل نے کہا : ایسا ہی ہے۔} حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام نے جواب دیا: اے مریم! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ،   اللہ تعالیٰ کی مرضی یہی ہے کہ وہ آپ کو کسی مرد کے چھوئے بغیر ہی لڑکا عطا فرمائے اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا کے رب عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ آپ کو بغیر باپ کے بیٹا دینا میرے اوپر بہت آسان ہے ،  کیونکہ میں  اَسباب اور واسطوں  کا    محتاج نہیں  ہوں  اور آپ کو اس طرح بیٹا دینے میں  ایک حکمت یہ ہے کہ ہم اسے لوگوں  کیلئے نشانی اور اپنی قدرت کی بُرہان بنا دیں  اور اُن لوگوں  کے لئے اپنی طرف سے ایک رحمت بنا دیں  جو اِس کے دین کی پیروی کریں  اور اِس پر ایمان لائیں  اور یہ ایسا کام ہے جس کا  اللہ تعالیٰ کے علم میں  فیصلہ ہوچکا ہے جو کہ اب نہ رد ہو سکتا ہے اور نہ بدل سکتا ہے ۔ جب حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا  کو اطمینان ہوگیا اور ان کی پریشانی جاتی رہی تو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ  السَّلَام نے ان کے گریبان میں  ،  ،  یا ،  ،  آستین میں   ،  ،  یا ،  ،  دامن میں  ،  ،  یا ،  ،  منہ میں  دم کیا اور آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا  اللہ



Total Pages: 235

Go To