Book Name:Sirat ul jinan jild 6

تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو عالَم کہتے ہیں  اور اس میں  یہ سب داخل ہیں ۔

            نیز مسلم شریف میں  حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَآفَّۃً ‘‘ یعنی میں  تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔( مسلم ،  کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ،  ص۲۶۶ ،  الحدیث: ۵(۵۲۳))

            علامہ علی قاری رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اس کی شرح میں  فرماتے ہیں : ’’یعنی تمام موجودات کی طرف (رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں  ،  خواہ) جن ہوں  یا انسان یا فرشتے یا حیوانات یا جمادات۔‘‘(مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الفضائل  ،  باب فضائل سیّد المرسلین صلوات  اللہ و سلامہ علیہ  ،  الفصل الاول  ،  ۱۰  /  ۱۴ ،  تحت الحدیث: ۵۷۴۸)

الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جس کے لیے ہے آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت اور اس نے نہ اختیار فرمایا بچہ اور اس کی سلطنت میں  کوئی ساجھی نہیں  اس نے ہر چیز پیدا کرکے ٹھیک اندازہ پر رکھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جس کے لیے آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت ہے اور اس نے نہ اولاد اختیارفرمائی اور نہ اس کی سلطنت میں  کوئی اس کا شریک ہے اوراس نے ہر چیز کوپیدا فرمایاپھر اسے ٹھیک اندازے پر رکھا۔

{اَلَّذِیْ لَهٗ: وہ جس کے لیے ہے۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات بیان ہوئی ہیں :

(1)… آسمانوں  اور زمین کی بادشاہت خالصتاً  اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔

(2)…  اللہ تعالیٰ نے اولاد اختیار نہ فرمائی۔اس میں  ان یہودیوں اور عیسائیوں  کا رَد ہے جو حضرت عزیز اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں  ،  مَعَاذَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ۔

(3)… اللہ تعالیٰ کی سلطنت میں  کوئی اس کا شریک نہیں  ہے۔اس میں  بت پرستوں کا رَد ہے جو بتوں  کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔

(4)…ہر چیز کو صرف  اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔

 (5)…ہر چیز کو اس کے حال کے مطابق ٹھیک اندازے پر رکھا۔( خازن ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۳۶۶ ،  ملخصاً)

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں  نے اس کے سوا اَور خدا ٹھہرالیے کہ وہ کچھ نہیں  بناتے اور خود پیدا کیے گئے ہیں  اور خود اپنی جانوں  کے بُرے بھلے کے مالک نہیں  اور نہ مرنے کا اختیار نہ جینے کا نہ اُٹھنے کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں  نے اس کے سوا بہت سے معبود بنالئے جو کسی شے کو پیدا نہیں  کرتے بلکہ خود انہیں  بنایا جاتا ہے اور وہ اپنے لئے کسی نقصان اور نفع کے مالک نہیں  ہیں  اور نہ وہ (کسی کی) موت اور زندگی کے اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا اختیاررکھتے ہیں ۔

{وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً: اور لوگوں  نے اس کے سوا بہت سے معبود بنالئے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے جو معبود ،  خالق ،  مالک اور قادر ہونے میں  یکتا ہے ،  بت پرست اس کی عبادت کرنے پربتوں  کی عبادت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں  حالانکہ وہ بت ایسے عاجز اور بے قدرت ہیں  کہ کسی شے کو پیدا ہی نہیں  کرسکتے بلکہ خود انہیں  بنایا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ سے کوئی ضَرَر دُور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں  نہ ہی خود کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں  ، کسی کو موت اور زندگی دینے کے مالک ہیں  نہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں ۔( مدارک ،  الفرقان ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ص۷۹۵)

مسلمان ولیوں  کے مزارات کا احترام کرتے ہیں  ،  پوجتے ہر گز نہیں  :

            یاد رہے کہ مشہور اور مُعْتَبَر تمام مفسرین نے نقصان دُور نہ کر سکنے اور نفع نہ پہنچا سکنے کا وصف بتوں  کے لئے ثابت کیا ہے کسی نے بھی ا س سے  اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے مزارات مراد نہیں  لئے ، فی زمانہ بعض لوگ اس آیت سے  اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے مزارات مراد لیتے ہیں  جو کہ انتہائی غلط اور قرآنی آیات کے معنی اپنی رائے سے گھڑنے کے مُتَرَادِف ہے۔

بتوں  کے بارے میں  نازل ہونے والی آیتیں  انبیاء کرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یا اولیاءِ عِظام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم پر چسپاں  کرنا خارجیوں  کا طریقہ ہے۔مسلمان ولیوں  کے مزارات کا احترام کرتے ہیں  پوجتے ہر گز نہیں  ،  احترام اور پوجنے میں  بڑا فرق ہے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ ﰳافْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَۚۛ-فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کافر بولے یہ تو نہیں  مگر ایک بہتان جو انہوں  نے بنالیا ہے اور اس پر اور لوگوں  نے انہیں  مدد دی ہے بیشک وہ ظلم اور جھوٹ پر آئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر وں  نے کہا: یہ قرآن تو صرف ایک بڑا جھوٹ ہے جو انہوں  نے خود بنالیا ہے اور اس پر دوسرے لوگوں  نے (بھی) ان کی مدد کی ہے توبیشک وہ (کافر) ظلم اور جھوٹ پر آگئے ہیں ۔

{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور کافر وں  نے کہا۔} اس سے پہلی آیات میں   اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں  کلام کیا گیا اور ا س کے بعد بت پرستوں  کا رَد کیاگیا اور اب یہاں  سے قرآنِ مجید اور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر کفار کی طرف سے ہونے والے اعتراضات ذکر کر کے ان کا جواب دیا جا رہاہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں  نے قرآنِ کریم کے بارے میں  کہا کہ یہ قرآن تو صرف ایک بڑا جھوٹ ہے جو رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود بنالیا ہے اور اس پر یہودیوں  اور عداس و یسار وغیرہ اہلِ کتاب نے بھی ان کی مدد کی ہے۔  اللہ تعالیٰ نے ان کے رَد میں  ارشاد فرما یاکہ وہ یعنی نضر بن حارث وغیرہ مشرکین جو یہ بے ہودہ بات کہہ رہے ہیں  ،  ظلم اور جھوٹ پر آگئے ہیں  کیونکہ انہوں  نے اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والے کلام کو یہودیوں  کے تعاون سے گھڑا ہوا جھوٹ کہا اور اس مقدس کلام کی طرف وہ بات منسوب کی جو اس کی شان کے لائق ہی



Total Pages: 235

Go To