Book Name:Sirat ul jinan jild 6

حکمت والا ہے۔( تفسیرطبری ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۹ / ۳۴۸)

گھر میں  اجازت لے کر داخل ہونے کی ایک حکمت:

            گھر میں  اجازت لے کر داخل ہونے کی بے شمار حکمتیں  ہیں  ،  ان میں  سے ایک یہاں  ذکر کی جاتی ہے۔ چنانچہ حضرت عطا بن یسار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ ایک شخص نے رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا : کیا میں  اپنی ماں  کے پاس جاؤں  تو اس سے بھی اجازت لوں ۔ حضورِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ہاں ۔ انہوں  نے عرض کی:میں  تو اس کے ساتھ اسی مکان میں  رہتا ہی ہوں ۔ حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اجازت لے کر اس کے پاس جاؤ ،  انہوں  نے عرض کی: میں  اس کی خدمت کرتا ہوں  (یعنی بار بار آنا جانا ہوتا ہے ،  پھر اجازت کی کیا ضرورت ہے؟) رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اجازت لے کر جاؤ ،  کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اسے بَرَہْنَہ دیکھو؟‘‘ عرض کی: نہیں  ،  فرمایا: تو اجازت حاصل کرو۔( موطا امام مالک ،  کتاب الاستءذان ،  باب الاستءذان ،  ۲ / ۴۴۶ ،  الحدیث: ۱۸۴۷)

             اسی حکم سے کچھ اور احکام کی حکمت بھی سمجھ آتی ہے جیسے باپ یا بھائی اگر بیٹیوں  یا بہنوں  کو جگانے کیلئے کمرے میں  جائیں  تو کمرے کے باہر سے آواز دیں  اور جگائیں  کہ بلااجازت اندر جانا نامناسب ہے کیونکہ حالت ِ نیند میں  بعض اوقات بدن سے کپڑے ہٹ جاتے ہیں ۔

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍؕ-وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بوڑھی خانہ نشین عورتیں  جنہیں  نکاح کی آرزو نہیں  ان پر کچھ گناہ نہیں  کہ اپنے بالائی کپڑے اُتار رکھیں  جب کہ سنگار نہ چمکائیں  اور اس سے بھی بچنا ان کے لیے اور بہتر ہے ،  اور  اللہ سنتا جانتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورگھروں  میں  بیٹھ رہنے والی وہ بوڑھی عورتیں  جنہیں  نکاح کی کوئی خواہش نہیں  ان پر کچھ گناہ نہیں  کہ اپنے اوپر کے کپڑے اُتار رکھیں  جبکہ زینت کو ظاہر نہ کررہی ہوں  اور اِن کا اس سے بھی بچنا ان کے لیے سب سے بہتر ہے اور  اللہ سننے والا ،  جاننے والا ہے۔

{وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ: اورگھروں  میں  بیٹھ رہنے والی بوڑھی عورتیں ۔} ا س آیت میں  بوڑھی عورتوں  کے بارے میں  فرمایا گیاکہ ایسی بوڑھی عورتیں  جن کی عمر زیادہ ہو چکی ہو اور ان سے اولاد پیدا ہونے کی امید نہ رہی ہو اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں  نکاح کی کوئی خواہش نہ ہو تو ان پر کچھ گناہ نہیں  کہ وہ اپنے اوپر کے کپڑے یعنی اضافی چادر وغیرہ اُتار کر رکھ دیں  جبکہ وہ اپنی زینت کی جگہوں  مثلا بال ،  سینہ اورپنڈلی وغیرہ کو ظاہر نہ کررہی ہوں  اور ان بوڑھی عورتوں کا اس سے بھی بچنا اور اضافی چادر وغیرہ پہنے رہنا ان کے لیے سب سے بہترہے اور  اللہ تعالیٰ سننے والا ،  جاننے والاہے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ص۷۹۰ ،  ملخصاً)

            مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ حکم ایسی بوڑھی عورتوں  کے لئے ہے جنہیں  دیکھنے سے مردوں  کو شہوت نہ آئے ،  اگر بڑھاپے کے باوجود عورت کا اتنا حسن وجمال قائم ہے کہ اسے دیکھنے سے شہوت آتی ہو تو وہ ا س آیت کے حکم میں  داخل نہیں۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۳ / ۳۶۲)

 فتوے پر عمل کرنے سے تقوے پر عمل کرنا زیادہ اَولیٰ ہے :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ جب کسی کام میں  فتنے کا اندیشہ باقی نہ رہے تو شریعت ا س کے حکم میں  سختی ختم کر دیتی ہے اور ا س کے معاملے میں  آسان حکم اور کچھ رخصت دے دیتی ہے ، البتہ اس رخصت و اجاز ت کے باوجود تقو ی و پرہیزگاری کی وجہ سے اسی سابقہ حکم پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآىٕكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْؕ-لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًاؕ-فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةًؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: نہ اندھے پر تنگی اور نہ لنگڑے پر مضائقہ اور نہ بیمار پر روک اور نہ تم میں  کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھریا اپنے باپ کے گھریا اپنی ماں  کے گھریا اپنے بھائیوں  کے یہاں  یا اپنی بہنوں  کے گھریا اپنے چچاؤں  کے یہاں  یا اپنی پھپیوں  کے گھریا اپنے ماموؤں  کے یہاں  یا اپنی خالاؤں  کے گھریا جہاں  کی کنجیاں  تمہارے قبضہ میں  ہیں  یا اپنےدوست کے یہاں  تم پر کوئی الزام نہیں  کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ پھر جب کسی گھر میں  جاؤ تو اپنوں  کو سلام کرو ملتے وقت کی اچھی دعا  اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ  اللہ یونہی بیان فرماتا ہے تم سے آیتیں  کہ تمہیں  سمجھ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اندھے اور لنگڑے اور بیمار پر کوئی پابندی نہیں  اور تم پر بھی کوئی پابندی نہیں  کہ تم کھاؤاپنی اولاد کے گھروں  سے یا اپنے باپ کے گھروں  یا اپنی ماں  کے گھرسے یا اپنے بھائیوں  کے گھروں  یا اپنی بہنوں  کے گھروں  سے یا اپنے چچاؤں  کے گھر وں  سے یا اپنی پھوپھیوں  کے گھروں  سے یا اپنے ماموؤں  کے گھر وں  سے یا اپنی خالاؤں  کے گھروں  سے یا اس گھر سے جس کی چابیاں  تمہارے قبضہ میں  ہیں  یا اپنے دوست کے گھر سے۔تم پر کوئی پابندی نہیں  کہ تم مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ پھر جب گھروں  میں  داخل ہو تو اپنے لوگوں  کو سلام کرو ،  (یہ) ملتے وقت کی اچھی دعا ہے ،   اللہ کے پاس سے مبارک پاکیزہ (کلمہ ہے)  اللہ یونہی اپنی آیات تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

{لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ: اندھے پر کوئی پابندی نہیں ۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  تین قول ہیں  :

            پہلا قول :حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد کو جاتے تو اپنے مکانوں  کی



Total Pages: 235

Go To