Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اُخروی کامیابی کے اسباب کی جامع آیت:

            یہ آیتِ مبارکہ جَوَامِعُ الْکَلِمْ میں  سے ہے۔ اس کے الفاظ اگرچہ کم ہیں  لیکن اُخروی کامیابی کے تمام اسباب اس میں  جمع کر دئیے گئے ہیں ۔

ایک عیسائی کے قبولِ اسلام کا سبب:

            ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ مسجد ِنبوی شریف میں  کھڑے تھے ،  اسی دوران روم کے دِہقانوں  میں  سے ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’میں  گواہی دیتا ہوں  کہ  اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں  اور میں  گواہی دیتا ہوں  کہ بے شک محمد صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔‘‘حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس سے فرمایا: ’’کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کا کوئی خاص سبب ہے؟‘‘ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ میں  نے تورات ،  انجیل ،  زبور اور دیگر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحائف کا مطالعہ کیا ہوا ہے۔میں  نے ایک قیدی کو قرآنِ پاک کی ایک آیت پڑھتے ہوئے سنا جو سابقہ تمام کتابوں  میں  دئیے گئے احکامات کی جامع ہے ،  اس سے میں  نے جان لیا کہ قرآنِ پاک واقعی  اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے ا س سے دریافت فرمایا کہ وہ کون سی آیت ہے؟تو اس نے یہ آیت تلاوت کی ’’وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ‘‘ حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا: ’’حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے جَوَامِعُ الْکَلِمْ عطا کئے گئے ہیں۔‘‘(تفسیرقرطبی ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۶ / ۲۲۷ ،  الجزء الثانی عشر)

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىٕنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّؕ-قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاۚ-طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں  نے  اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں  حد کی کوشش سے کہ اگر تم انہیں  حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں  گے تم فرما دو قسمیں  نہ کھاؤ       مُوَافِقِ شرع حکم برداری چاہیے ،   اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورانہوں  نے پوری کوشش سے  اللہ کی قسمیں  کھائیں  کہ اگر آپ انہیں  حکم دو گے تو وہ ضرور نکلیں  گے۔ تم فرماؤ : قسمیں  نہ کھاؤ ،  شریعت کے مطابق اطاعت ہونی چاہیے ،  بیشک  اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔

{وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ: او رانہوں  نے پوری کوشش کرکے  اللہ کی قسمیں  کھائیں ۔} اس آیت سے دوبارہ منافقین کا تذکرہ شروع کیا گیا۔ جب  اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ منافقین رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے احکام کو پسند نہیں  کرتے تو منافقین حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہو کر کہنے لگے:  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اگر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں  حکم دیں  کہ ہم اپنے گھروں  سے ،  اپنے مالوں  اور اپنی عورتوں  کے پاس سے نکل جائیں  تو ہم ضرور نکل جائیں  گے اور اگر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں  جہاد کرنے کا حکم دیں  تو ہم جہاد کریں  گے ، جب ہمارا یہ حال ہے تو ہم آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے کیسے راضی نہ ہوں  گے۔ اس پر  اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان سے فرمائیں  کہ تم قسمیں  نہ کھاؤ ،  تمہیں  اس کی بجائے شریعت کے مطابق اطاعت کرنی چاہیے ،  بیشک  اللہ تعالیٰ تمہارے تمام پوشیدہ اَعمال سے خبردار ہے ، وہ تمہیں  ضرور رُسوا کرے گا اور تمہاری منافقت کی سزا دے گا۔(تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۸ / ۴۱۱-۴۱۲ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۳ / ۳۵۹ ،  ملتقطاً)

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے قول کو اپنے عمل سے سچا کرکے دکھانا چاہیے ،  صرف قسموں  سے سچا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ بارگاہِ خداوندی میں  عمل دیکھے جاتے ہیں  نہ کہ محض زبانی دعوے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْاؕ-وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۵۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ حکم مانو  اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمہ وہی ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تم پر وہ ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیا اور اگر رسول کی فرمانبرداری کرو گے راہ پاؤ گے ،  اور رسول کے ذمہ نہیں  مگر صاف پہنچا دینا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ:  اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر تم منہ پھیرو تو رسول کے ذمے وہی تبلیغ ہے جس کی ذمے داری کا بوجھ ان پر رکھا گیا ہے اور تم پر وہ (اطاعت) لازم ہے جس کا بوجھ تم پر رکھا گیاہے اور اگر تم رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمے صرف صاف صاف تبلیغ کردینا لازم ہے۔

{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان قسمیں  کھانے والوں  سے فرمادیں  کہ تم سچے دل اور سچی نیت سے  اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرو۔ اگر تم  اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ پھیرو گے تو اس میں  ان کا نہیں  بلکہ تمہارا اپناہی نقصان ہے کیونکہ رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذمے صرف دین کی تبلیغ اور احکامِ الہٰی کا پہنچا دینا ہے اور جب انہوں  نے یہ ذمہ داری اچھی طرح نبھا دی ہے تو وہ اپنے فرض سے عہد ہ برآ ہوچکے اور تمہیں  چونکہ رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و فرمانبرداری کا پابند کیا گیا ہے لہٰذا تم پر یہ لازم ہے۔ ا گراس سے روگردانی کرو گے تو  اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضی کا تمہیں  ہی سامنا کرنا پڑے گا اور اگر تم رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذمے صرف صاف صاف تبلیغ کردینا لازم ہے ،  تمہاری ہدایت ان کے ذمہ داری نہیں ۔( تفسیر طبری ،  النور  ،  تحت الآیۃ : ۵۴  ،  ۹ / ۳۴۲ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۳ / ۳۵۹-۳۶۰ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ص۷۸۷ ،  ملتقطاً)

حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت قبولیت کی چابی ہے :

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت قبولیت کے دروازے کی چابی ہے اور اطاعت کی فضیلت پر یہ بات تیری



Total Pages: 235

Go To