Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کی بارگاہ میں  ہی لوٹنا ہے لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ صرف ایسے قوت والے مالک کی ہی عبادت کرے اور زبان و دل سے اسی کی پاکی بیان کرے۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۶ / ۱۶۴)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُ جُ مِنْ خِلٰلِهٖۚ-وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُؕ-یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نرم نرم چلاتا ہے بادل کو پھر انہیں  آپس میں  مِلاتا ہے پھر انہیں  تہ پر تہ کر دیتا ہے تو تُو دیکھے کہ اس کے بیچ میں  سے مینہ نکلتا ہے اور اُتارتا ہے آسمان سے اس میں  جو برف کے پہاڑ ہیں  ان میں  سے کچھ اولے پھر ڈالتاہے انھیں  جس پر چاہے اور پھیردیتا ہے انھیں  جس سے چاہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھ لے جائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ  اللہ  نرمی کے ساتھ بادل کو چلاتا ہے پھر انہیں  آپس میں  ملا دیتا ہے پھر انہیں  تہہ در تہہ کردیتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان میں  سے بارش نکلتی ہے اور وہ آسمان میں  موجود برف کے پہاڑوں  سے اولے اُتارتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے اس پرانہیں  ڈال دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے انہیں  پھیر دیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھیں  لے جائے۔

{اَلَمْ تَرَ: کیا تم نے نہ دیکھا۔} اس آیت میں  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ساتھ ہر عقلمند سے بھی خطاب ہے کیونکہ جو ان چیزوں  میں  غورو فکر کرے گا تو وہ جان لے گا اور جاننے والے کا علم و یقین مزید بڑھ جائے گا کہ  اللہ تعالیٰ قدرت والا ، حکمت والا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے’’کیا تم نے نہ دیکھا کہ  اللہ تعالیٰ جس سر زمین اور جن شہروں کی طرف چاہے نرمی کے ساتھ بادل کو چلاتا ہے ،  پھر انہیں  آپس میں  ملا دیتا ہے اور ان کے جدا جدا ٹکڑوں  کو یک جا کردیتا ہے ،  پھر انہیں  تہ در تہ کردیتا ہے ،  تو تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان میں  سے بارش نکلتی ہے اور  اللہ تعالیٰ آسمان میں  موجود برف کے پہاڑوں  سے اولے اُتارتا ہے ،  پھر جس پر چاہتا ہے اس پر ڈال دیتا ہے اور جس کے جان و مال کو چاہتا ہے ان سے ہلاک و تباہ کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے اولوں  کوپھیر دیتا ہے اور اُس کے جان و مال کو محفوظ رکھتا ہے ،  قریب ہے کہ اس بادل کی بجلی کی چمک آنکھوں  کے نور کو لے جائے اور روشنی کی تیزی سے آنکھوں  کو بے کار کردے۔آگ ٹھنڈک اور پانی کی ضد ہے اور آگ کا ٹھنڈک سے ظاہر ہونا ایک شے کا اپنی ضد سے ظاہر ہونا ہے اور یہ کسی قادر و حکیم کی قدرت کے بغیر ممکن نہیں ۔( صاوی ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۴ / ۱۴۱۰-۱۴۱۱ ،  مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ص۷۸۴-۷۸۵ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۳ / ۳۵۷ ،  تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۸ / ۴۰۴-۴۰۵ ،  ملتقطاً)

{وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ: اور وہ آسمان میں  موجود برف کے پہاڑوں  سے اولے اُتارتا ہے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اس آیت کے بارے میں  مفسرین کے دو قول ہیں ،  (1)آسمان میں  اولوں  کے پہاڑ ہیں  جنہیں   اللہ تعالیٰ نے اسی طرح پیدا فرمایا ہے ،  پھر وہ ان پہاڑوں  میں  سے جتنے اولے چاہتا ہےنازل فرماتا ہے۔ یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ (2)آسمان سے مراد حقیقی آسمان نہیں  بلکہ وہ باد ل ہے جو لوگوں  کے سروں  پر بلند ہے ،  اسے بلندی کی وجہ سے آسمان فرمایا گیا کیونکہ ’’سمائ‘‘اس چیز کو کہتے ہیں  جو تجھ سے بلند ہے اور تیرے اوپر ہے۔  اللہ تعالیٰ اس بادل سے اولے نازل فرماتا ہے ،  جبکہ پہاڑوں  سے بڑے بڑے بادل مراد ہیں  کیونکہ وہ بڑا ہونے کی وجہ سے پہاڑوں  کے مشابہ ہیں  ،  جیسے مال کی وسعت کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ فلاں  آدمی مال کے پہاڑوں  کا مالک ہے (اسی طرح یہاں  بادلوں  کو بڑا ہونے کی وجہ سے پہاڑوں  کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے) اور یہ مفسرین کہتے ہیں  کہ اولے جما ہوا پانی ہیں  جسے  اللہ تعالیٰ نے بادلوں  میں  پیدا فرمایا ہے ،  پھر وہ انہیں  زمین کی طرف نازل فرماتا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں  کہ پہلا قول زیادہ مناسب ہے کیونکہ آسمان ایک مخصوص جسم کا نام ہے اور اسے بادل کا نام قرار دینا مجازی طورپر ہے اور جس طرح یہ درست ہے کہ  اللہ تعالیٰ بادلوں  میں  پانی رکھے ، پھر اسے اولوں  کی صورت میں  نازل فرمائے تو بلا شبہ یہ بھی صحیح ہے کہ آسمان میں  اولوں  کے پہاڑ ہوں  اور جب دونوں  کاموں  کا  اللہ تعالیٰ کی قدرت میں  ہونا صحیح ہے تو اس آیت کے ظاہری معنی کو ترک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔( تفسیرکبیر ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۸ / ۴۰۵)

            یاد رہے کہ امام عبد اللہ بن عمر بیضاوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے’’ تفسیر بیضاوی‘‘ میں  ،  علامہ شہاب الدین احمد بن عمر خفاجی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے بیضاوی کی شرح ’’عنایۃ القاضی‘‘ میں  اور محمد بن مصلح الدین رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے تفسیر بیضاوی پر اپنے حاشیے’’محی الدین شیخ زادہ‘‘ میں  ،  امام ابو سعود محمد بن محمد رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے’’تفسیر ابو سعود ‘‘میں  اور علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے’’ تفسیر روح البیان ‘‘میں  دوسرے قول کو اختیار فرمایا ہے کہ یہاں  آسمان سے مراد بادل ہیں ۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اللہ بدلی کرتا ہے رات اور دن کی بیشک اس میں  سمجھنے کا مقام ہے نگاہ والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اللہ رات اور دن کو تبدیل فرماتا ہے ،  بیشک اس میں  آنکھ والوں  کیلئے سمجھنے کا مقام ہے۔

{یُقَلِّبُ اللّٰهُ:  اللہ تبدیل فرماتا ہے۔} یعنی  اللہ تعالیٰ رات اور دن کوتبدیل فرماتا ہے اس طرح کہ رات کے بعد دن لاتا اور دن کے بعد رات لاتا ہے۔ بیشک بادلوں  کو چلانے ، ان سے بارش نکلنے ، آسمانوں  سے اولے برسانے ،  بادلوں  سے بجلی ظاہر کرنے اور دن رات کو تبدیل کرنے میں  غوروفکر کرنے والوں  کے لئے  اللہ تعالیٰ کے وجود ،  اس کی قدرت اور وحدانیت پر واضح دلائل موجود ہیں ۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۷۸۵ ،  ملخصاً)

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍؕ-یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور  اللہ نے زمین پر ہر چلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں  کوئی اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں  کوئی دو پاؤں  پر چلتا ہے اور ان میں  کوئی چار پاؤں  پر چلتا ہے  اللہ بناتا ہے جو



Total Pages: 235

Go To