Book Name:Sirat ul jinan jild 6

لفظِ’’جَبّار‘‘ کے مختلف معنی:

            یاد رہے کہ جبار کا لفظ جب مخلوق کیلئے آئے تو اس کا معنی متکبر ہوتا ہے اور اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کیلئے آئے جیسے جبار اس کی صفت ہے تو اس کا معنی بالکل مختلف ہوتا ہے ،  جیسے ایک معنی ہے: وہ ذات جو اپنی مخلوق پر عالی ہے۔ دوسرا معنی ہے: وہ جو معاملات کو سدھار دیتا ہے ۔ تیسرا معنی ہے: وہ جو اپنے ارادے میں  غالب ہے۔ چوتھا معنی ہے: وہ کہ جس کی سلطنت میں  اس کے حکم کے سوا کسی کا حکم نہ چل سکے۔ یہ سب معانی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شایانِ شان ہیں ۔

 تکبر سے بچنے کی فضیلت اور عاجزی کے فضائل:

            یہاں  آیت میں  بیان ہوا کہ حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامتکبر کرنے والے نہیں  تھے ،  اس مناسبت سے تکبر سے بچنے کی فضیلت ملاحظہ ہو ،  چنانچہ حضرت ثوبان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو شخص اس حال میں  مَرا کہ وہ تین چیزوں  سے بَری تھا: تکبر ،  خیانت اور دَین (قرض) ، تو وہ جنت میں  داخل ہو گا۔(ترمذی ،  کتاب السیر ،  باب ما جاء فی الغلول ،  ۳ / ۲۰۸ ،  الحدیث: ۱۵۷۸) نیز عاجزی کے فضائل پر مشتمل 3اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت قتادہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ اتنی عاجزی اختیار کرو یہاں  تک کہ تم میں  سے کوئی کسی پرنہ فخر کرے نہ کسی پر ظلم کرے۔( مسلم ،  کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ،  باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ واہل النار ،  ص۱۵۳۳ ،  الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵))

(2)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے  ، سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ صدقہ مال میں  کمی نہیں  کرتا اور  اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کے دوسروں  کو معاف کردینے کی وجہ سے اس کی عزت میں  اضافہ فرما دیتا ہے اور جو شخص  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے  اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرماتا ہے ۔( مسلم ،  کتاب البر والصلۃ والآداب ،  باب استحباب العفو والتواضع ،  ص۱۳۹۷ ،  الحدیث: ۶۹(۲۵۸۸))

(3)… حضرت رَکْب مصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خوشخبری ہے اس کے لئے جوعیب نہ ہونے کے باوجود تواضع اختیار کرے  ، اورمسکینی کے بغیر خود کوذلیل سمجھے  ، اور اپنا جمع کیا ہوا مال نیک کاموں  میں  خرچ کرے  ،  اور بے سروسامان اور مسکین لوگوں  پررحم کرے اور علم وحکمت والے لوگوں  سے میل جول رکھے  ،  اور خوش بختی ہے اس کے لئے جس کی کمائی پاکیزہ ہو ،  باطن اچھا ہو ،  ظاہر بزرگی والا ہو اور جو لوگوں  کو اپنے شر سے محفوظ رکھے  ، اور سعادت مندی ہے اس کے لئے جواپنے علم پرعمل کرے  ،  اپنی ضرورت سے زائد مال کوراہِ خدا میں  خرچ کرے اور فضول گوئی سے رک جائے۔( معجم الکبیر ،  باب الرائ ،  رکب المصری ،  ۵ / ۷۱ ،  الحدیث: ۴۶۱۶) اللہ تعالیٰ ہمیں  تکبر سے بچنے اور عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔([1])

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اورجس دن زندہ اٹھایا جائے گا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس پر سلامتی ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ فوت ہوگا اورجس دن وہ زندہ اٹھایا جائے گا۔

{وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ:اور اس پر سلامتی ہے ۔} یعنی جس دن حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پیدا ہوئے اس دن ان کے لئے شیطان سے امان ہے کہ وہ عام بچوں  کی طرح آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکونہ چھوئے گا اور جس دن آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وفات پائیں  گے اس دن ان کے لئے عذابِ قبرسے امان ہے اور جس دن آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو زندہ اٹھایا جائے گا اس دن ان کے لئے قیامت کی سختی سے امان ہے ۔ اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ پیدا ہونے ،  وفات پانےاور زندہ اٹھائے جانے کے یہ تینوں  دن بہت وحشت ناک ہیں  کیونکہ ان دنوں  میں  آدمی وہ دیکھتا ہے جو اِس سے پہلے اُس نے نہیں  دیکھا  ،  اس لئے ان تینوں  مَواقع پرانتہائی وحشت ہوتی ہے ،  تو  اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اِکرام فرمایا کہ انہیں  ان تینوں  مواقع پر امن و سلامتی عطا فرمائی۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۳ / ۲۳۰-۲۳۱)

             حضرت سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : کہ انسان کوتین دنوں  میں  وحشت کا سامنا ہوتا ہے ،  جب وہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ماں  کے پیٹ سے باہر آکر ایک نئی دنیا کا سامنا کرتا ہے اور وہ جب مرتا ہے توایسی قوم دیکھتاہے جسے پہلے کبھی نہیں  دیکھا ہوتا اور جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو اپنے آپ کوایک عظیم محشرمیں  پائے گا جس کی مثل اس نے کبھی نہ دیکھا ہوگا تو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوان تینوں  وقتوں  میں  امان وسلامتی کا مژدہ دیا۔( بغوی ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۳ / ۱۵۹) یاد رہے کہ سلامتی تو یقینا ہر نبیعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حاصل ہے لیکن بطورِ خاص  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بشارت دینا ایک جداگانہ فضیلت رکھتا ہے۔

ولادت کے دن خوشی کرنے اور وفات کے دن غم کا اظہار نہ کرنے کی وجہ:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ولادت کے دن ان پر سلام بھیجا ، ا س سے معلوم ہو اکہ نبی عَلَیْہِ  السَّلَام کی ولادت کے دن ان پر سلام بھیجنا  اللہ تعالیٰ کی سنت ہے ،  اسی وجہ سے اہلسنّت وجماعت بارہ ربیع الاوّل کے دن  اللہ تعالیٰ کے حبیب اور تمام اَنبیاء کے سردار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ولادت کا دن مناتے ہیں  اور اس دن آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر درود وسلام کی کثرت کرتے ہیں  ،  نظم و نثر کی صورت میں آپ کی شان اور آپ کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں  ۔ فی زمانہ کچھ لوگ اسی آیتِ مبارکہ کو بیان کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں  کہ حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی وفات کے دن بھی ان پر سلام بھیجا گیا ہے اس لئے تم جس طرح رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے میلاد کا دن خوشی کا اظہار کر کے مناتے ہو اسی طرح ان کی وفات کا دن بھی غم ظاہر کر کے منایا کرو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ہمیں  قرآنِ مجید میں  اپنی نعمت کا چرچا کرنے اور اپنا فضل و رحمت ملنے پر



[1] ۔۔۔ تکبر سے بچنے اور عاجزی کے فضائل اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’تکبر‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔



Total Pages: 235

Go To