Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان گھروں  میں  ہے جن کی تعظیم کرنے اوران میں   اللہ کا نام ذکر کئے جانے کا  اللہ نے حکم دیا ہے ،  ان میں  صبح و شام  اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔

{فِیْ بُیُوْتٍ: گھروں  میں ۔} اس آیت کا تعلق اس سے پہلے والی آیت کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہے کہ نورِ الہٰی کی مثال اس طاق کی طرح ہے جوان گھروں  میں  ہے جنہیں  بنانے ،  اُن کی تعظیم و تطہیر کرنے اوران میں   اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کئے جانے کا  اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اُن گھروں  سے مسجدیں  مرادہیں ۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۳ / ۳۵۵)

مسجدسے متعلق4احادیث:

            آیت کی مناسبت سے یہاں  مسجد بنانے کے حکم ،  مسجد بنانے کے فضائل اور انہیں  پاک صاف رکھنے سے متعلق 4احادیث ملاحظہ ہوں  ،

(1)… حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا: مسجدیں  زمین میں   اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں  ،  یہ آسمان والوں  کے لئے ایسے روشن ہوتی ہیں  جیسے زمین والوں  کے لئے آسمان کے ستارے روشن ہوتے ہیں ۔( معجم الکبیر ،  ومن مناقب عبد  اللہ بن عباس واخبارہ ،  ۱۰ / ۲۶۲ ،  الحدیث: ۱۰۶۰۸)

(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مَحلُّوں  میں  مسجدیں  تعمیر کرنے اور انہیں  پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب اتخاذ المساجد فی الدور ،  ۱ / ۱۹۷ ،  الحدیث: ۴۵۵)

(3)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو  اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے مسجد بنائے  اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں  گھر بناتا ہے۔‘‘( ابن ماجہ ،  کتاب المساجد والجماعات ،  باب من بنی للّٰہ مسجداً ،  ۱ / ۴۰۷ ،  الحدیث: ۷۳۵)

(4)… حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی مسجدوں کو بچوں  ، پاگلوں  ،  (مسجد میں ) خرید و فروخت کرنے ، شور کرنے ،  حد جاری کرنے اور تلواریں  ننگی کرنے سے محفوظ رکھو۔‘‘( ابن ماجہ ،  کتاب المساجد والجماعات ،  باب ما یکرہ فی المساجد ،  ۱ / ۴۱۵ ،  الحدیث: ۷۵۰)

{یُسَبِّحُ لَهٗ:  اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔} تسبیح سے مراد نمازیں  ہیں  ، صبح کی تسبیح سے فجر اور شام سے ظہر ،  عصر ،  مغرب اور عشاء کی نمازیں  مراد ہیں ۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۷۸۲)

صبح یا شام مسجد میں  جانے کی فضیلت:

             حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو صبح یا شام مسجد میں  گیا  اللہ تعالیٰ جنت میں  ا س کے لئے مہمانی کا اہتمام کرے گا جب بھی وہ صبح یا شام کو جائے۔‘‘( بخاری ،  کتاب الاذان ،  باب فضل من غدا الی المسجد وراح ،  ۱ / ۲۳۷ ،  الحدیث: ۶۶۲)

رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ ﭪ--یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ(۳۷) لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ مرد جنہیں  غافل نہیں  کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت  اللہ کی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے ڈرتے ہیں  اس دن سے جس میں  اُلٹ جائیں  گے دل اور آنکھیں ۔ تاکہ  اللہ انہیں  بدلہ دے اُن کے سب سے بہتر کام کا اور اپنے فضل سے انہیں  انعام زیادہ دے اور  اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ مرد جن کو تجارت اور خریدوفروخت  اللہ کے ذکر اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں  کرتی ،  وہ اس دن سے ڈرتے ہیں  جس میں  دل اور آنکھیں  اُلَٹ جائیں  گے۔تاکہ  اللہ انہیں  ان کے بہتر کاموں  کا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں  مزید عطا فرمائے اور  اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا فرماتا ہے۔

{رِجَالٌ:  مرد۔} اس آیت میں  نور سے ہدایت حاصل کرنے والوں  کے چند ظاہری و باطنی اعمال ذکر فرمائے گئے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ نور سے ہدایت حاصل کرنے والے وہ مرد ہیں  جنہیں  تجارت اور خریدوفروخت  اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے قلبی و لسانی ذکر اور نماز کے اوقات پر مسجدوں  کی حاضر ی سے ،  نماز قائم کرنے اور انہیں  وقت پر ادا کرنے سے اور زکوٰۃ کووقت پر دینے سے غافل نہیں  کرتی۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۷۸۳ ،  خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۳ / ۳۵۵ ،  ملتقطاً)

نماز سے متعلق صحابہ ٔکرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا حال:

            حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا بازار میں  تھے ،  مسجد میں  نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے دیکھا کہ بازار والے اُٹھے اور دوکانیں  بند کرکے مسجد میں  داخل ہوگئے۔ یہ دیکھ کرآپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا کہ آیت ’’رِجَالٌۙ-لَّا تُلْهِیْهِمْ‘‘ ایسے ہی لوگوں  کے حق میں  ہے۔( تفسیر ابن ابی حاتم ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۸ / ۲۶۰۷) سُبْحَانَ اللّٰہ! ان مقدس ہستیوں  کے

نزدیک نما زکی اہمیت عملی طور پر تجارت ،  کاروبار اور دوکانداری سے بڑھ کر تھی اسی لئے یہ اقامت کی آواز سنتے ہی سب کچھ بند کر کے نماز کے لئے حاضر ہوجاتے تھے اور اب کے مسلمانوں  کا حال سب کو معلوم ہے کہ دوکان کے پاس مسجد ہونے کے باوجود جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے حاضر ہونے کی بجائے اپنی دوکانداری میں  مصروف رہتے ہیں  اور اس اندیشے سے بھی نماز کے لئے حاضر نہیں  ہوتے کہ پیچھے سے کوئی گاہک آ جائے اور وہ خالی چلا جائے۔  اللہ تعالیٰ انہیں  نماز کی اہمیت سمجھنے اور اسے وقت پر ،  جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

وقت پر اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے 3فضائل:

             آیت کی مناسبت سے یہاں  وقت پر اور جماعت کے ساتھ نما زادا کرنے کے 3 فضائل ملاحظہ ہوں  ،

(1)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ،  میں  نے رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا :اعمال میں   اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کیا



Total Pages: 235

Go To