Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کی نرم دلی اور امت پر شفقت ورحمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

’’فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْ‘‘ (اٰل عمران:۱۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں ۔

            اور ارشاد فرمایا

’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک تمہارے پاس تم میں  سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں  پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے ،  وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ،  مسلمانوں  پر بہت مہربان ،  رحمت فرمانے والے ہیں ۔

            اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی کمال درجے کی نرم دلی  ،  امت کی بھلائی کی حرص اور مسلمانوں  پر شفقت و رحمت عطا کی ہے ۔

نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پاک کرنے والے ہیں :

             اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنی طرف سے انہیں  پاکیزگی دی۔ اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بارے میں  ارشاد فرمایا :

’’لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ‘‘(اٰل عمران:۱۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک  اللہ نے ایمان والوں  پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں  ایک رسول مبعوث فرمایا جو انہی میں  سے ہے۔وہ ان کے سامنے  اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اورانہیں  پاک کرتا ہے اور انہیں  کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناکھلی گمراہی میں  پڑے ہوئے تھے۔

 نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خوفِ خدا:

            اس آیت میں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بارے میں  ارشاد ہو اکہ وہ  اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے  ، اس مناسبت سے یہاں  حبیبِ خدا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خوفِ خدا کی تین روایات ملاحظہ ہوں  ،  چنانچہ

حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ خدا کی قسم! میں  تم سب میں   اللہ عَزَّوَجَلَّسے زیادہ ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں ۔( بخاری ،  کتاب النکاح ،  باب الترغیب فی النکاح ،  ۳ / ۴۲۱ ،  الحدیث: ۵۰۶۳)

            حضرت براء بن عازب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : ہم حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ ایک جنازے میں  شریک تھے ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اقدس سے نکلنے والے آنسوؤں  سے مٹی نم ہوگئی ۔ پھر ارشاد فرمایا ’’اے بھائیو! اس قبر کے لئے تیاری کرو۔( ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب الحزن والبکاء ،  ۴ / ۴۶۶ ،  الحدیث: ۴۱۹۵)

            حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہافرماتی ہیں : جب آندھی اور بادل والا دن ہوتا تورسولِ اکرمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرہ ٔ اقدس کا رنگ مُتَغَیّر ہوجاتا اور آپ کبھی حجرہ سے باہر تشریف لے جاتے اور کبھی واپس آجاتے ،  پھر جب بارش ہو جاتی تو یہ کَیْفِیّت ختم ہوجاتی۔ میں  نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ’’( اے عائشہ! رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا ، ) مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں  یہ بادل ،   اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجا گیا ہو۔(شعب الایمان ،  الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۵۴۶ ،  الحدیث: ۹۹۴)

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے ماں  باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا اور زبردست و نافرمان نہ تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ اپنے ماں  باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا اور وہ متکبر  ،  نافرمان نہیں  تھا۔

{وَ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ:اور وہ اپنے ماں  باپ سے اچھا سلوک کرنے والاتھا۔} اس آیت میں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مزید 3صفات بیان کی گئی ہیں ۔

(1)… آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ماں  باپ کے فرمانبردار اور ان سے اچھا سلوک کرنے والے تھے کیونکہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے بعد والدین کی خدمت سے بڑھ کرکوئی طاعت نہیں  اور اس پر  اللہ تعالیٰ کایہ قول دلالت کرتاہے:

 

’’وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘‘(بنی اسرائیل:۲۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں  باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔

(2 ، 3)… آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تکبرکرنے والے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نافرمان نہیں  بلکہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عاجزی وانکساری کرنے والے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّکی اطاعت کرنے والے تھے ۔یہاں  جَبّارکے معنی متکبر کے ہیں  اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جَبّار وہ شخص ہوتاہے جوغصہ میں  مارے اور قتل کرے۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۳ / ۲۳۰)

 



Total Pages: 235

Go To