Book Name:Sirat ul jinan jild 6

چاہیے کہ معاف کردیں  اور دَرگزرکریں  ،  کیا تم اس بات کو پسند نہیں  کرتے کہ  اللہ  تمہاری بخشش فرمادے اور  اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{وَ لَا یَاْتَلِ: اور قسم نہ کھائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ تم میں  جو دین میں  فضیلت اور منزلت والے ہیں  اور مال و ثروت میں  گنجائش والے ہیں یہ قسم نہ کھائیں  کہ وہ اپنے رشتے داروں  ،  مسکینوں  اور  اللہ تعالیٰ کی راہ میں  ہجرت کرنے والوں  کو اپنے مال سے نہ دیں  گے اور ان فضیلت والوں کو چاہیے کہ معاف کردیں  اور درگزرکریں  ،  کیا تم اس بات کو پسند نہیں  کرتے کہ  اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش فرمادے اور  اللہ عَزَّوَجَلَّ بخشنے والا مہربان ہے۔شانِ نزول: یہ آیت حضرتِ ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے حق میں  نازل ہوئی ،  آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے قسم کھائی تھی کہ حضرت مِسطَح رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے ساتھ حسنِ سلوک نہ کریں  گے۔ حضرت مِسطَح رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی خالہ کے بیٹے تھے ،  نادار تھے ،  مہاجر تھے ،  بدری تھے اورحضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ ہی اُن کا خرچ اُٹھاتے تھے مگر چونکہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا پر تہمت لگانے والوں  کے ساتھ انہوں  نے مُوَافَقَت کی تھی اس لئے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ قسم کھائی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

جب یہ آیت حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پڑھی تو حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا :بے شک میری آرزو ہے کہ  اللہ تعالیٰ میری مغفرت کرے اور میں  حضرت مِسطَح رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے ساتھ جو سلوک کرتا تھا اس کو کبھی موقوف نہ کروں  گا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اس کو جاری فرمادیا۔( بخاری ، کتاب المغازی ، باب حدیث الافک ، ۳ / ۶۱ ، الحدیث:۴۱۴۱ ، خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۳ / ۳۴۴-۳۴۵)

آیت ’’وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے :

(1)… جو شخص کوئی کام نہ کرنے کی قسم کھائے پھر معلوم ہو کہ اس کا کرنا ہی بہتر ہے تو اسے چاہیے کہ اس کام کو کرلے ،  لیکن یہ یاد رہے کہ اسے قسم کا کَفَّارَہ دینا ہو گا جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص قسم کھائے اور دوسری چیز اُس سے بہتر پائے توقسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کرلے۔‘‘( مسلم ، کتاب الایمان والنذور ، باب ندب من حلف یمیناً فرأی غیرہا خیراً منہا۔۔۔الخ ، ص۸۹۸ ، الحدیث:۱۲(۱۶۵۰))

 (2)… اس آیت سے حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی فضیلت ثابت ہوئی اوراس سے آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کی بلند شان اور مرتبہ ظاہر ہوتا ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے آپ کو اُولُوا الْفَضْلِفرمایا۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۳ / ۳۴۵)

(3)… رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (اور دیگر انبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ تمام مخلوق سے افضل ہیں ۔( روح البیان ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۶ / ۱۳۳)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں  انجان پارسا ایمان والیوں  کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں  اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ جو انجان ،  پاکدامن ،  ایمان والی عورتوں  پربہتان لگاتے ہیں  ان پر دنیا اور آخرت میں  لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ: بیشک وہ جو۔} اِس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات میں  تہمت لگانے والے منافقین کی سزابیان کی گئی ہے ،  اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورتیں  جوبدکاری اور فِسق و فُجور کو جانتی بھی نہیں  اور بُرا خیال اُن کے دل میں  بھی نہیں  گزرتا اور وہ پاکدامن اورایمان والی ہیں  ،  ایسی پاکیزہ عورتوں  پر بدکاری کا بہتان لگانے والوں  پر دنیا اور آخرت میں  لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا کہ آیت میں  عورتوں  کے بیان کردہ اوصاف سید المرسلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مطہرات کے اوصاف ہیں  ،  اور ایک قول یہ ہے کہ ا س سے تمام ایماندار اور پارسا عورتیں  مراد ہیں  ،  انہیں  عیب لگانے والوں  پر  اللہ تعالیٰ لعنت فرماتا ہے۔( مدارک ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ص۷۷۵)

            اور تفسیر ِخازن میں  ہے کہ اس آیت میں  جووعید ذکر کی گئی یہ عبد اللہ بن اُبی بن سلول منافق کے حق میں  ہے۔(خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۳ / ۳۴۵) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ آیت کا شانِ نزول اگرچہ خاص ہے لیکن معنیٰ اور حکم سب کو عام ہے۔

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن ان پر گواہی دیں  گی ان کی زبانیں  اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں  جو کچھ کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں  اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں  ان کے اعمال کی گواہی دیں  گے۔

{یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ: جس دن ان کے خلاف گواہی دیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں  ،  ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں  گے۔زبانوں  کا گواہی دینا تو اُن کے مونہوں  پر مُہریں  لگائے جانے سے پہلے ہوگا اور اس کے بعد مونہوں  پر مُہریں  لگادی جائیں  گی جس سے زبانیں  بند ہوجائیں  گے اور اعضاء بولنے لگیں  گے اور دنیا میں  جو عمل کئے تھے وہ ان کی خبر دیں  گے۔( خازن ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۳ / ۳۴۵)

یَوْمَىٕذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اس دن  اللہ انہیں  ان کی سچی سزا پوری دے گا اور جان لیں  گے کہ  اللہ ہی صریح حق ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن  اللہ انہیں  ان کی پوری سچی سزا دے گا اور وہ جان لیں  گے کہ  اللہ ہی صریح حق ہے۔

{یَوْمَىٕذٍ: اس دن۔} منافقین کی سزا کے بیان میں  ہی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ انہیں  ان کی پوری سچی سزا دے گا جس کے وہ قانونی طور پرمستحق ہیں  اوروہ جان لیں  گے کہ  



Total Pages: 235

Go To