Book Name:Sirat ul jinan jild 6

سے کفار کی طرف سے دیا جانے والاجواب پہلے ہی ارشاد فرما دیا کہ وہ آپ کی اس بات کے جواب میں  کہیں  گے کہ یہ سب  اللہ تعالیٰ ہی کاہے۔ تو آپ ان سے فرمائیں  کہ پھرتم غَیْرُ اللہ کی عبادت کرنے اور  اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے سے اور اس کے مُردوں  کو زندہ کرنے پر قادر ہونے کا انکار کرنے سے کیوں  نہیں  ڈرتے اور اس کے عذاب سے خوف کیوں  نہیں  کھاتے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۶-۸۷ ،  ص۷۶۳ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۶-۸۷ ،  ۳ / ۳۳۰ ،  ملتقطاً)

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۸)سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِؕ-قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کس کے ہاتھ ہے ہر چیز کا قابو اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں  دے سکتا اگر تمہیں  علم ہو۔اب کہیں  گے یہ  اللہ ہی کی شان ہے تم فرماؤ پھر کس جادو کے فریب میں  پڑے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں  ہے؟ اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں  دی جاسکتی ،  اگر تمہیں  علم ہے۔ اب کہیں  گے: یہ (ملکیت)  اللہ ہی کیلئے ہے۔ تم فرماؤ: تو کیسے جادو کے فریب میں  پڑے ہو؟

{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کفار سے فرمائیں ’’اگر تمہیں  علم ہے تومجھے اس بات کا جواب دو کہ ہر چیز کی ملکیت کس کے ہاتھ میں  ہے اور ہر چیز پر حقیقی قدرت و اختیار کس کا ہے؟  اللہ تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے خلاف پناہ نہیں  دی جاسکتی۔ کفار آپ کے سوال کے جواب میں  کہیں  گے کہ یہ ملکیت  اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے۔ آپ ان سے فرمائیں  کہ تو پھر تم کس جادو کے فریب میں  پڑے ہو؟ یعنی کس شیطانی دھوکے میں ہو کہ توحید اور  اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو؟ جب تم اقرار کرتے ہو کہ حقیقی قدرت اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی کو پناہ نہیں  دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعاً باطل ہے۔( تفسیر طبری ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ : ۹۰ ،  ۹ /  ۲۳۹ - ۲۴۰  ،  مدارک ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ص۷۶۳ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۰ ،  ۳ / ۳۳۰ ،  ملتقطاً)

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۹۰)مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں ۔  اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا یوں  ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق لے جاتا اور ضرور ایک دوسرے پر اپنی تَعلِّی چاہتا پاکی ہے  اللہ کو ان باتوں  سے جو یہ بناتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں ۔ اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبودہے۔ اگر ایسا ہوتا توہر معبود اپنی مخلوق لے جاتا اور ضرور ان میں  سے ایک دوسرے پر بڑائی و غلبہ چاہتا۔  اللہ ان باتوں  سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں ۔

{بَلْ: بلکہ۔} یعنی مشرکین جیساگمان کرتے ہیں  ویسا قطعاً نہیں  بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نہ اولاد ہوسکتی ہے نہ اس کا شریک ،  یہ دونوں  باتیں  محال ہیں  اور وہ بیشک جھوٹے ہیں  جو اس کیلئے شریک اور اولاد ٹھہراتے ہیں ۔(ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ۴ / ۶۲ ،  ملخصاً)

{مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ:  اللہ نے کوئی بچہ اختیار نہ کیا۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے کفار کے جھوٹا ہونے کو مزید تاکید سے بیان فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ نے کوئی بچہ اختیار نہیں  کیا ، وہ اس سے بری ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ نوع اور جنس سے پاک ہے

اور اولاد وہی ہوسکتی ہے جو ہم جنس ہو اور نہ  اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خداہے جو اُلوہِیّت میں  ا س کا شریک ہو۔ اگر بِالفرض کوئی دوسرا خدا ہوتاتو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر معبود اپنی مخلوق لے جاتا اور اسے دوسرے کے تحت ِتَصَرُّف نہ چھوڑتا اور ضرور ان میں  سے ایک دوسرے پر بڑائی و غلبہ چاہتا اوردوسرے پر اپنی برتری اور اپنا غلبہ پسند کرتا کیونکہ ایک دوسرے کے مقابل حکومتیں  اسی چیز کاتقاضاکرتی ہیں  اور ایسی صورت میں  کائنات کے نظام کی تباہی یقینی تھی۔ اس سے معلو م ہوا کہ دو خدا ہونا باطل ہے ،  خدا ایک ہی ہے اور ہر چیز اسی کے تحت ِتصرف ہے۔آیت کے آخر میں  فرمایا کہ  اللہ تعالیٰ ان شرکیہ باتوں  سے پاک ہے جو یہ کفاربیان کرتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ کے لئے شریک اور اولاد ہے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۱ ،  ص۷۶۴ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹۱ ،  ۳ / ۳۳۰ ،  ملتقطاً)

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠(۹۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جاننے والا ہر نہاں  و عیاں  کا تو اسے بلندی ہے ان کے شرک سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ اللّٰہ) ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کا جاننے والا ہے تو وہ اس سے بلند ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں ۔

{عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ: ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کا جاننے والا ہے۔} یعنی  اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر پوشیدہ اورظاہر بات کو جاننے والا ہے یعنی جومخلوق سے پوشیدہ ہے یا مخلوق پر ظاہر ہے توایسا علم والا خدا ا ن بتوں  کا شریک کیسے ہو سکتا ہے جو چھپی ہوئی کوئی بات تک نہیں  جانتے اور نہ ہی ظاہری باتوں  کی انہیں  خبر ہے یعنی مکمل بے خبر ہیں  ، لہٰذا  اللہ تعالیٰ اس شرک سے بلند و بالا ہے جو یہ مشرک کرتے ہیں ۔

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ(۹۳) رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم عرض کرو کہ اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے جو انہیں  وعدہ دیا جاتا ہے۔ تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں  کے ساتھ نہ کرنا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم عرض کرو: اے میرے رب! اگر تو مجھے وہ دکھادے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ تو اے میرے رب! مجھے ان ظالموں  میں  (شامل) نہ کرنا۔

{قُلْ رَّبِّ: تم عرض کرو: اے میرے رب!} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  



Total Pages: 235

Go To