Book Name:Sirat ul jinan jild 6

پہلے زمانے کے اور موجودہ زمانے کے لوگوں  کا حال:

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’پہلے زمانے کے لوگ دن رات عبادت کرتے اور جو بھی عمل کرتے دل میں  خوفِ خدا رہتا تھا کہ انہوں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ،  وہ رات دن عبادت میں  گزارنے کے باوجود اپنے نفسوں  کے بارے میں  خوف زدہ رہتے تھے ،  وہ بہت زیادہ تقویٰ اختیار کرتے اور خواہشات اور شبہات سے بچتے تھے ،  اس کے باوجود وہ تنہائی میں  اپنے نفسوں  کے لئے روتے تھے۔

            لیکن اب حالت یہ ہے کہ تم لوگوں  کو مطمئن ،  خوش اوربے خوف دیکھو گے حالانکہ وہ گناہوں  پر اوندھے گرتے ہیں  ،  دنیا میں  پوری توجہ رکھے ہوئے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ سے منہ پھیر رکھا ہے ،  ان کا خیال ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر کامل یقین رکھتے ہیں  ،  اس کے عفوودرگزر اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں  گویا ان کا گمان یہ ہے کہ انہوں  نے جس طرح  اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کی معرفت حاصل کی ہے اس طرح انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور پہلے بزرگوں  کو بھی حاصل نہ تھی۔ اگر یہ بات محض تمنا اور آسانی سے حاصل ہوجاتی ہے تو ان بزرگوں  کے رونے ،  خوف کھانے اور غمگین ہونے کا کیا مطلب تھا۔حضرت معقل بن یسار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’لوگوں  پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں  قرآن پاک ان کے دلوں  میں  ایسے پرانا ہوجائے گا جیسے بدن پر کپڑے پرانے ہو جاتے ہیں  ،  ان کے تما م کام لالچ کی وجہ سے ہوں  گے جس میں  خوف نہیں  ہوگا ،  اگر ان میں  سے کوئی اچھا عمل کرے گا تو کہے گا یہ مقبول ہوگا اور اگر برائی کرے گا تو کہے گا میری بخشش ہوجائے گی۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب ذمّ الغرور ،  بیان ذمّ الغرور وحقیقتہ وامثلتہ ،  ۳ / ۴۷۴)

            یہ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے آج سے تقریباً    900 سال پہلے کے حالات لکھے ہیں  اور فی زمانہ تو حالات

اس سے کہیں  زیادہ نازک ہو چکے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے اور نیک اعمال کے سلسلے میں  اپنے بزرگوں  کی راہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ،  اٰمین۔

اُولٰٓىٕكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ لوگ بھلائیوں  میں  جلدی کرتے ہیں  اور یہی سب سے پہلے انہیں  پہنچے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ لوگ بھلائیوں  میں  جلدی کرتے ہیں  اور یہی بھلائیوں  کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ۔

{اُولٰٓىٕكَ: یہ لوگ۔} یعنی جن لوگوں  کے اَوصاف سابقہ آیات میں  بیان ہوئے وہ بہت رغبت اور اہتمام کے ساتھ نیک اعمال کرتے ہیں  اور ان میں  ا س لئے جلدی کرتے ہیں  کہ کہیں  ان کا وقت ختم نہ ہو جائے اور اس نیک عمل کی ادائیگی میں  کوئی کوتاہی واقع نہ ہو جائے اور وہ نیک اعمال کرنے میں  دوسروں  پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مفسرین نے آیت کے اس حصے ’’وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ‘‘ کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں  کہ وہ اپنی نیکیوں  کے اجر میں  سبقت کرنے والے ہیں  یعنی انہیں  ان کے نیک اعمال کا اجر آخرت سے پہلے دنیا میں  بھی مل جاتا ہے یا وہ نیکیوں  کی وجہ سے جنتوں  کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ۔(روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۶ / ۹۱ ،  تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۸ / ۲۸۴ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ص۷۶۰ ،  ملتقطاً)

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم کسی جان پر بوجھ نہیں  رکھتے مگر اس کی طاقت بھر اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کہ حق بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں  رکھتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق بیان کرتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

{وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا: اور ہم کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں  رکھتے۔} یعنی سابقہ آیت میں  نیک لوگوں  کے جو اَوصاف بیان ہوئے یہ ان کی طاقت اور وسعت سے باہر نہیں  ،  یونہی ہر وہ چیز جو  اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  پر لازم فرمائی ہے وہ ان کی طاقت سے زیادہ نہیں  ہے اور یہ  اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں  پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں  ڈالتا ،  ورنہ اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ جو چاہے کرے ، اس بارے میں  کسی کو سوال کرنے کی مجال نہیں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ص۷۶۰ ،  صاوی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۱۳۶۹-۱۳۷۰ ،  ملتقطاً)

            مزیدارشاد فرمایا کہ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو حق ہی بیان کرتی ہے ،  اس میں  ہر شخص کا عمل لکھا ہواہے ،  اور وہ لوحِ محفوظ ہے اور عمل کرنے والوں پر کوئی ظلم نہ ہوگا ،  نہ کسی کی نیکی گھٹائی جائے گی اورنہ بدی بڑھائی جائے گی۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۳ / ۳۲۷-۳۲۸)

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ ان کے دل اس سے غفلت میں  ہیں  اور ان کے کام ان کاموں  سے جدا ہیں  جنہیں  وہ کررہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ کافروں  کے دل اس قرآن سے غفلت میں  ہیں  اور کافروں  کے کام ان اعمال کے علاوہ ہیں  جنہیں  یہ کررہے ہیں ۔

{بَلْ قُلُوْبُهُمْ: بلکہ ان کے دل۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ کافروں  کے دل اس قرآن شریف سے غفلت میں  ہیں  اور اِن کافروں  کے خبیث کام جنہیں  یہ کررہے ہیں  ان کاموں  کے خلاف ہیں  جو مذکورہ بالا آیات میں  ایمانداروں  کے ذکر کئے گئے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کافروں  کے دل اس قرآن سے غفلت میں  ہیں  اور وہ اس عظیم غفلت کے علاوہ اور بھی بہت سے خبیث کام کر رہے ہیں ۔(جمل مع جلالین ، المؤمنون ،  تحت الآیۃ:۶۳ ،  ۵ / ۲۴۶-۲۴۷ ،  روح البیان ، المؤمنون ،  تحت الآیۃ:۶۳ ، ۶ / ۹۲ ،  ملتقطاً)

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْــٴَـرُوْنَؕ(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یہاں  تک کہ جب ہم نے ان کے امیروں  کو عذاب میں  پکڑا تو جبھی وہ فریاد کرنے لگے۔

 



Total Pages: 235

Go To