Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم ان کو چھوڑ دو ان کے نشہ میں  ایک وقت تک۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم انہیں  ایک مدت تک ان کی گمراہی میں  چھوڑ دو۔

{فَذَرْهُمْ: تو تم ان کو چھوڑ دو۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کفار ِمکہ کو ان کے کفرو گمراہی اور ان کی جہالت و غفلت میں  ان کی موت کے وقت تک چھوڑ دیں  اور ان پر جلد عذاب نازل کرنے کا مطالبہ نہ فرمائیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۳ / ۳۲۷ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۶ / ۸۹ ،  ملتقطاً)

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ(۵۵) نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِؕ-بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا یہ خیال کررہے ہیں  کہ وہ جو ہم ان کی مدد کررہے ہیں  مال اور بیٹوں  سے۔یہ جلد جلد ان کو بھلائیاں  دیتے ہیں  بلکہ انہیں  خبر نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا یہ خیال کررہے ہیں  کہ وہ جو ہم مال اور بیٹوں  کے ساتھ ان کی مدد کررہے ہیں ۔ تو یہ ہم ان کیلئے بھلائیوں  میں  جلدی کررہے ہیں ؟ بلکہ انہیں  خبر نہیں ۔

{اَیَحْسَبُوْنَ: کیا یہ خیال کررہے ہیں۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  کفارِ مکہ کے بارے میں  فرمایا گیا کہ کیا وہ یہ خیال کررہے ہیں  کہ ہم جو مال اور بیٹوں  کے ساتھ ان کی مدد کررہے ہیں  تو یہ ہم ان کیلئے بھلائیوں  میں  جلدی کررہے ہیں  اور ہماری یہ نعمتیں  ان کے اعمال کی جزاء ہیں  یا ہمارے راضی ہونے کی دلیل ہیں  ؟ایسا ہر گز نہیں  ، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ انہیں  خبر ہی نہیں  کہ ہم انہیں  مہلت دے رہے ہیں ۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶ ،  ۳ / ۳۲۷ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۵-۵۶ ،  ۶ / ۸۹ ،  ملتقطاً)

کفار کی ترقی  اللہ تعالٰی کے راضی ہونے کی دلیل نہیں :

             اس سے معلوم ہو اکہ کفار کے پاس مال اور اولاد کی کثرت  اللہ تعالیٰ کے ان سے راضی ہونے کی دلیل نہیں  بلکہ یہ  اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں  ڈھیل ہے۔دوسری آیت میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ‘‘(التوبہ:۸۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے مال اوراولاد تمہیں  تعجب میں  نہ ڈالیں ۔  اللہ یہی چاہتا ہے کہ انہیں  اس کے ذریعے دنیا میں  سزا دے اور کفر کی حالت میں  ان کی روح نکل جائے۔

                 فی زمانہ کفار کی دُنْیَوی علوم و فنون میں  ترقی اور مال ودولت کی بہتات دیکھ کر بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں  کہ  اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے جبھی تو وہ اس قدر ترقی یافتہ ہیں  ، اگر  اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہ ہوتا تو وہ ا س قدر آسائشوں  میں  تھوڑی ہوتے۔ اگر انہوں  نے قرآن پاک کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو شاید ایسی باتیں  ان کی زبان پر کبھی نہ آتیں ۔  اللہ تعالیٰ انہیں  عقلِ سلیم اور فہم عطا فرمائے ، اٰمین۔

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ(۵۷) وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ(۵۸) وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے سہمے ہوئے ہیں ۔ اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور وہ جو اپنے رب کا کوئی شریک نہیں  کرتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ جو اپنے رب کے ڈر سے خوفزدہ ہیں ۔ اور وہ جو اپنے رب کی آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں ۔اور وہ جو اپنے رب کے ساتھ( کسی کو)شریک نہیں  کرتے۔ٍ

{اِنَّ الَّذِیْنَ: بیشک وہ جو۔} گزشتہ آیات میں  کفار کی مذمت بیان فرمانے کے بعد اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں  ایمان والوں  کے اَوصاف بیان فرمائے جا رہے ہیں ۔چنانچہ ان کاایک وصف یہ ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے خوفزدہ ہیں ۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا کہ مومن نیکی کرنے کے باوجود  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا ہے جبکہ منافق گناہ کرنے کے باوجود بے خوف رہتا ہے۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں  اور اس کی تمام کتابوں  کو مانتے ہیں ۔ تیسرا وصف یہ ہے کہ وہ عرب کے مشرکوں  کی طرح اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں  کرتے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ،  ۳ / ۳۲۷ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۹ ،  ص۷۶۰ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو دیتے ہیں  جو کچھ دیں  اور ان کے دل ڈر رہے ہیں  یوں  کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں  نے جو کچھ دیا وہ اس حال میں  دیتے ہیں  کہ ان کے دل اس بات سے ڈر رہے ہیں  کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ: اور وہ جو دیتے ہیں ۔} اس آیت میں  ایمان والوں  کا چوتھاوصف بیان فرمایا کہ وہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جو کچھ زکوٰۃ و صدقات دیتے ہیں  یا جو نیک اعمال بجالاتے ہیں  ،  اس وقت ان کاحال یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل اس بات سے ڈر رہے ہوتے ہیں  کہ کہیں  ان کے اعمال رد ہی نہ کر دئیے جائیں  ،  کیونکہ انہیں  یقین ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۳ / ۳۲۷)

            ترمذی کی حدیث میں  ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہا نے دو عالَم کے سردار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ کیا اس آیت میں  ان لوگوں  کا بیان ہے جو شرابیں  پیتے ہیں  اور چوری کرتےہیں ؟ ارشاد فرمایا: اے صدیق کی بیٹی! ایسا نہیں  ،  اس آیت میں  اُن لوگوں  کا بیان ہے جو روزے رکھتے ہیں  ، نمازیں  پڑھتے ہیں ، صدقے دیتے ہیں  اور ڈرتے رہتے ہیں  کہ کہیں  یہ اعمال نامقبول نہ ہوجائیں ۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ المؤمنین ،  ۵ / ۱۱۸ ،  الحدیث: ۳۱۸۶)

نیکی کرنا اور ڈرنا ،  ایمان کے کمال کی علامت ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ نیکی کرنا اور ڈرنا ،  کمالِ ایمان کی علامت ہے۔

 



Total Pages: 235

Go To