Book Name:Sirat ul jinan jild 6

اس کا کھانا پینا حرام ہو ، اس کا لباس حرام ہو ، اس کی غذا حرام ہو تو ا س کی دعا کہاں  قبول ہو گی۔( مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیّب وتربیتہا ،  ص۵۰۶ ،  الحدیث: ۶۵(۱۰۱۵))

             اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو حلال رزق کھانے اور حرام رزق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین۔

حلال رزق پانے اور نیک کاموں  کی توفیق ملنے کی دعا:

            حضرت حنظلہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جبریل امین عَلَیْہِ  السَّلَام نے مجھ سے عرض کی کہ آپ یہ دو دعائیں  مانگا کریں : ’’اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ طَیِّبًا وَّ اسْتَعْمِلْنِیْ صَالِحًا‘‘ یعنی اے  اللہ ! ،  مجھے پاکیزہ رزق عطا فرما اور مجھے نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔( نوادر الاصول ،  الاصل الثانی والستون المائۃ ،  ۱ / ۶۳۹ ،  الحدیث: ۸۹۶)

عبادت کرنے سے کو ئی مُسْتَغنی نہیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بھی عبادات فرض تھیں  ،  لہٰذا کوئی شخص خواہ وہ کسی درجہ کا ہوعبادت سے مستغنی نہیں  ہو سکتا۔اس سے ان لوگوں  کو عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی بہت ضرورت ہے جو فقیروں  کالبادہ اوڑھ کر اور  اللہ تعالیٰ کے کامل اولیاء جیسی شکل و صورت بنا کر یہ دعوے کرتے ہیں  کہ ہم  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  قرب کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں  کہ اب ہم پر کوئی عبادت فرض نہیں  رہی۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  جو مقام انبیاء کرام اور رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حاصل ہے وہ کسی ولی اورصحابی کو حاصل نہیں  ہو سکتا اور نہ ہی کوئی کامل ولی ان کے مقام تک پہنچنے کا دعویٰ کر سکتا ہے تو جب انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر عبادات فرض رہیں  اور انہیں  کوئی عبادت معاف نہ ہوئی تو یہ بناوٹی صوفی کس منہ سے دعویٰ کر رہا ہے کہ اب اس پر کوئی عبادت فرض نہیں  رہی۔  اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں  کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے ، اٰمین۔

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں  تمہارا رب ہوں  تو مجھ سے ڈرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یہ تمہارا دین ایک ہی دین ہے اور میں  تمہارا رب ہوں  تو مجھ سے ڈرو۔

{وَ اِنَّ هٰذِهٖ: اور بیشک یہ۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے لوگو! تم جس دین پر ہو یعنی دین ِاسلام ،  یہ ایک ہی دین ہے ،  اسی دین پر تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والے تھے۔( تفسیرسمرقندی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۲ / ۴۱۵)  مراد یہ ہے کہ اصولی عقائد میں  کسی کا اختلاف نہیں  ،  اس اعتبار سے سب متفق ہیں  ،  البتہ ان کی شریعتوں  میں فروعی احکام اور عبادت کے طریقوں  میں  جو اختلاف ہے اسے دین میں  اختلاف نہیں  کہا جاتا۔

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًاؕ-كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کی امتوں  نے اپنا کام آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر خوش ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کی امتوں  نے اپنے دین کو آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کرلیا ،  ہرگروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔

{فَتَقَطَّعُوْا: تو ان کی امتوں  نے ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔} یعنی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دین ایک ہی ہے البتہ ان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امتوں  نے اپنے دین کو آپس میں  ٹکڑے ٹکڑے کرلیا اور یہودی ،  عیسائی ،  مجوسی وغیرہ فرقے فرقے ہوگئے۔ معنی یہ ہے کہ ہر قوم نے ایک کتاب کو مضبوطی سے تھام لیا ،  صرف اسی پر ایمان لائے اور دیگر کتابوں  کا انکار کر دیا۔ ہر گروہ اس پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے اور اپنے ہی آپ کو حق پر جانتا ہے اور دوسروں  کو باطل پر سمجھتا ہے۔ اس طرح اُن کے درمیان دینی اختلافات ہیں ۔( تفسیرسمرقندی ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۲ / ۴۱۵ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۳ / ۳۲۷ ،  ملتقطاً)

            اسی طرح امتیں  یوں  بھی ٹکڑوں  میں  بٹیں  کہ فرقوں  میں  بٹ گئیں  اور اپنے دین کی اپنی اپنی تشریحات بنالیں  جیسے یہودیوں  اور عیسائیوں  میں  ہوا کہ بیسیوں  فرقوں  میں  بٹ گئے۔دین کی یہ تفریق بھی حرام ہے۔ اس حوالے سے یہاں  دو اَحادیث ذکر کی جاتی ہیں ۔

(1)… حضرت معاویہ بن سفیان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا’’خبردار ہو جاؤ!تم سے پہلے اہلِ کتاب بہتر فرقوں  میں  بٹ گئے تھے اور عنقریب یہ امت تہتر فرقوں  میں  بٹ جائے گی ، بہتر فرقے تو جہنم میں  جائیں  گے اور ایک ہی فرقہ جنت میں  جائے گا اوروہ سب سے بڑی جماعت ہے۔‘‘ ایک روایت میں  یہ بھی ہے کہ عنقریب میری امت میں  ایسے لوگ نکلیں  گے کہ گمراہی ان میں  یوں  سرایت کر جائے گی جیسے باؤلے کتے کے کاٹے ہوئے آدمی کے جسم میں  زہر سرایت کر جاتا ہے۔ایک روایت میں  یوں  ہے کہ جیسے کتے کے کاٹے ہوئے کے جسم میں  زہر داخل ہو جاتا ہے کہ کوئی رگ اور کوئی جوڑ اس سے نہیں  بچتا۔( ابو داؤد ،  کتاب السنّۃ ،  باب شرح السنّۃ ،  ۴ / ۲۶۳ ،  الحدیث: ۴۵۹۷)

(2)…حضرت عرباض بن ساریہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :ایک دن صبح کی نماز کے بعد نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  انتہائی بلیغ وعظ فرمایا جس سے ہر آنکھ سے آنسو رواں  ہو گئے اور سب کے دل لرز گئے۔ایک صحابی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی: یہ تو ا س شخص کی نصیحت کی طرح ہے جو رخصت ہو رہا ہو۔ یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ہمیں  کس بات کا حکم دیتے ہیں  ؟حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’میں  تمہیں   اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں  اور اگر کوئی حبشی غلام تمہارا امیر مقرر کر دیا جائے تو ا س کا بھی حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا۔بے شک تم میں  سے جو شخص زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تم (شریعت کے خلاف) نئی باتوں  سے بچتے رہنا کیونکہ یہ گمراہی ہے۔تم میں  جو شخص یہ زمانہ پائے اسے میرا اور میرے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والے خُلفاء کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور تم سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔( ترمذی ،  کتاب العلم ،  باب ما جاء فی الاخذ بالسنّۃ واجتناب البدع ،  ۴ / ۳۰۸ ،  الحدیث: ۲۶۸۵)

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ(۵۴)

 



Total Pages: 235

Go To