Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ: جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔} یعنی خدا کی قسم! اگر تم نے اس کے احکاما ت کی پیروی کی تو ا س صورت میں  اپنے آپ کوذلت میں  ڈال کر تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۶ / ۸۲)

کافر بہت بڑا بے عقل ہے:

             اللہ تعالیٰ کے نبی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی سے دونوں  جہاں  میں  سعادتیں  نصیب ہوتی ہیں  لیکن ان بیوقوفوں  نے نبی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اطاعت میں  اپنی ناکامی جبکہ پتھروں  کی عبادت میں  کامیابی سمجھی ،  اس سے معلوم ہوا کہ کافر بہت بڑا بے عقل ہوتا ہے۔

اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَﭪ(۳۵)هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَﭪ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تمہیں  یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں  ہوجاؤ گے اس کے بعد پھر نکالے جاؤ گے۔ کتنی دُور ہے کتنی دُور ہے جو تمہیں  وعدہ دیا جاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تمہیں  یہ وعدہ دیتا ہے کہ تم جب مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں  ہوجاؤ گے( اس کے بعد پھر) تم نکالے جاؤ گے۔ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ بہت دور ہے وہ بہت دور ہے۔

{اَیَعِدُكُمْ: کیا تمہیں  یہ وعدہ دیتا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے کافر سرداروں  نے حشر کے صحیح ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا’’ کیا تمہیں  یہ کہا جاتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور تمہارا گوشت پوست سب مٹی ہو جائے گا اور ہڈیاں  باقی رہ جائیں  گی ،  اس کے بعد پھر تم قبروں  سے زندہ نکالے جاؤ گے۔ انہوں  نے صرف اتنی بات کہنے کو کافی نہ سمجھا بلکہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو بہت بعیدجانا اور کہا’’قبروں  سے نکالے جانے کاجو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ بہت دور ہے ،  وہ بہت دور ہے۔( تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶ ،  ۸ / ۲۷۶ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶ ،  ۶ / ۸۲ ،   ملتقطاً)

اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَﭪ(۳۷)اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ ﰳافْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ تو نہیں  مگر ہماری دنیا کی زندگی کہ ہم مرتے جیتے ہیں  اور ہمیں  اٹھنا نہیں ۔ وہ تو نہیں  مگر ایک مرد جس نے  اللہ پر جھوٹ باندھا اور ہم اسے ماننے کے نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: زندگی تو صرف ہماری دنیا کی زندگی ہے ،  ہم مرتے ہیں  اور جیتے ہیں  اور ہم اٹھائے جانے والے نہیں  ہیں ۔ یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس نے  اللہ پر جھوٹ باندھاہے اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں  ہیں ۔

{اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا: زندگی تو صرف ہماری دنیا کی زندگی ہے۔} اُن سرداروں  نے مرنے کے بعد زندہ ہونے کو بہت بعید جانا اور سمجھا کہ ایسا کبھی ہونے والا ہی نہیں  اور اسی باطل خیال کی بنا پر کہنے لگے کہ زندگی تو صرف ہماری دنیا کی زندگی ہے۔ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دُنْیَوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں  صرف اتنا ہی ہے ،  ہم مرتے جیتے ہیں  کہ ہم میں  کوئی مرتا ہے کوئی پیدا ہوتا ہے اور ہم مرنے کے بعداٹھائے جانے والے نہیں  ہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۳ / ۳۲۵ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۷۵۷ ،  ملتقطاً)

{اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ: یہ تو صرف ایک مرد ہے۔} کافر سرداروں  نے اپنے رسول حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  یہ کہا کہ وہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس نے  اللہ عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھاہے کہ اپنے آپ کو اس کا نبی بتایا اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کی خبر دی اور ہم اس کی بات کا یقین کرنے والے نہیں  ہیں ۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۷۵۷)

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ(۳۹)قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ(۴۰) فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءًۚ-فَبُعْدًالِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: عرض کی کہ اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں  نے مجھے جھٹلایا۔ اللہ نے فرمایا کچھ دیر جاتی ہے کہ یہ صبح کریں  گے پچتاتے ہوئے۔ تو انہیں  آلیا سچی چنگھاڑ نے تو ہم نے انہیں  گھاس کوڑا کردیا تو دُور ہوں  ظالم لوگ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عرض کی: اے میرے رب !میری مدد فرماکیونکہ انہوں  نے مجھے جھٹلایاہے۔ اللہ نے فرمایا: تھوڑی دیر میں  یہ پچھتانے والے ہوجائیں  گے۔ تو سچی چنگھاڑ نے انہیں  پکڑ لیا تو ہم نے انہیں  سوکھی گھاس کوڑا بنادیا تو ظالم لوگوں  کیلئے دوری ہو۔

{قَالَ: عرض کی۔} جب حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اُن کے ایمان لانے کی امید نہ رہی اور انہوں  نے دیکھا کہ قوم انتہائی سرکشی پر ہے تو اُن کے خلاف دعا کی اور بارگاہِ الہٰی میں  عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میری مدد فرما اور انہیں  ہلاک کر دے کیونکہ انہوں  نے مجھے جھٹلایاہے اور وہ اسی پر قائم ہیں ۔( ابوسعود ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۴ / ۴۸)

{ قَالَ:  اللہ نے فرمایا۔}  اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا قبول فرمائی اور ان سے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ تھوڑی دیر میں  جب  اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھیں  گے تو یہ اپنے کفر اور تکذیب پر پچھتانے والے ہوجائیں  گے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۷۵۷)

{فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ: تو سچی چیخ نے انہیں  پکڑ لیا۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی قوم کے لوگ عذاب اور ہلاکت میں  گرفتار کئے گئے اور وہ ہلاک ہو کر گھاس کوڑے کی طرح ہوگئے تو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرنے والے ظالم لوگوں  کے لئے خدا کی رحمت سے دوری ہے۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ:۴۱ ،  ۳ / ۳۲۵ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۶ / ۸۳ ،  ملتقطاً)

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ(۴۲) مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَاوَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگتیں  پیدا کیں ۔ کوئی اُمت اپنی میعاد سے نہ پہلے جائے نہ پیچھے رہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ہم نے دوسری بہت سی قومیں  پیدا کیں ۔ کوئی امت اپنی مدت سے نہ پہلے جاتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں ۔

 



Total Pages: 235

Go To