Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ص۷۵۶)

            اس آیت میں  اشارہ ہے کہ ہر مسلمان کو  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایسی برکت والی جگہ کی دعامانگنی چاہئے جس میں  اس کے لئے دین اور دنیا دونوں  کی برکتیں  ہوں ۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۶ / ۸۱)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اس میں  ضرو ر نشانیاں ہیں  اور بیشک ضرور ہم جانچنے والے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس میں  ضرو ر نشانیاں  ہیں اور بیشک ہم ضرور آزمانے والے تھے۔

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ: بیشک اس میں ۔} یعنی حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے میں  اور اس میں  جو دشمنانِ حق کے ساتھ کیا گیا ضرور نشانیاں  ،  عبرتیں  ،  نصیحتیں  اور  اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں  اور بیشک ہم حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو اس قوم میں  بھیج کر اور ان کو وعظ و نصیحت پر مامُور فرما کر انہیں  ضرور آزمانے والے تھے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ عذاب نازل ہونے سے پہلے کون نصیحت قبول کرتا اور تصدیق و اطاعت کرتا ہے اور کون نافرمان تکذیب و مخالفت پر ڈٹا رہتا ہے۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۳ / ۳۲۴ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۷۵۶ ،  ملتقطاً)

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ(۳۱) فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر ان کے بعد ہم نے اور سنگت  پیدا کی۔ تو ان میں  ایک رسول انہیں  میں  سے بھیجا کہ  اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں  تو کیا تمہیں  ڈر نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ان کے بعد ہم نے ایک دوسری قوم پیدا کی۔ تو ہم نے ان میں  ایک رسول انہیں  میں  سے بھیجا کہ  اللہ کی عبادت کرو ،  اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  تو کیا تم ڈرتے نہیں ؟

{ثُمَّ: پھر۔} یعنی حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر عذاب نازل کرنے اور اِس کی ہلاکت کے بعد ہم نے پھر ایک دوسری قوم پیدا کی اور وہ حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم عاد ہے۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۶ / ۸۱)

            نوٹ: حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور قومِ عاد کا واقعہ سورۂ اَعراف آیت نمبر65تا72 اور سورۂ ہود آیت نمبر50تا60 میں  گزر چکا ہے۔

{فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا: تو ہم نے ان میں  ایک رسول بھیجا۔} یعنی ہم نے قومِ عاد میں  انہیں  میں  سے ایک رسول بھیجا ،  جن کا نام حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہے اور اُن کی معرفت اُس قوم کو حکم دیا کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو ،  اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  تو کیا تم  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے نہیں ؟ تا کہ شرک چھوڑ کر ایمان قبول کر لو۔( روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۶ / ۸۱ ،  ملخصاً)

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَﭪ (۳۳)وَ لَىٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے اس قوم کے سردار جنہوں  نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں  دنیا کی زندگی میں  چین دیا کہ یہ تو نہیں  مگر تم جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں  سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں  سے پیتا ہے۔ اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو جب تو تم ضرور گھاٹے میں  ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس کی قوم کے وہ سردار بولے جنہوں  نے کفرکیااورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انہیںدنیا کی زندگی میں  خوشحالی عطا فرمائی (بولے:) یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے ،  جو تم کھاتے ہو اسی میں  سے یہ کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں  سے یہ پیتا ہے۔ اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی اطاعت کرو گے جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔

{وَ قَالَ: اور بولے۔} یہاں  سے حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے کافر سرداروں  کے شبہات بیان کئے گئے ہیں  ،  ا س آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت سن کر ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں  نے کفرکیااورآخرت کی ملاقات اور وہاں  کے ثواب و عذاب وغیرہ کو جھٹلایا حالانکہ  اللہ تعالیٰ نے انہیں  عیش کی وسعت اور دنیا کی نعمت عطا فرمائی تھی ،  یہ اپنے نبی عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  اپنی قوم کے لوگوں  سے کہنے لگے ’’یہ تو تمہارے جیسے ہی ایک آدمی ہیں  ،  جو تم کھاتے ہو اسی میں  سے یہ کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں  سے یہ پیتا ہے۔ یعنی اگر یہ نبی ہوتے تو فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے پاک ہوتے۔ ان باطن کے اندھوں  نے کمالاتِ نبوت کو نہ دیکھا اور کھانے پینے کے اوصاف دیکھ کر نبی کو اپنی طرح بشر کہنے لگے اور یہی چیز اُن کی گمراہی کی بنیادہوئی ،  چنانچہ اسی سے انہوں  نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپس میں  کہنے لگے’’اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی بات مان کر اس کی اطاعت کرو گے جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ص۷۵۷ ،  روح البیان ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ۶ / ۸۲ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ‘‘ سے معلوم ہونے والی باتیں :

            اس سے دو باتیں  معلوم ہوئیں  

(1)… ہمیشہ مالدار ،  سردار ،  دنیاوی عزت والے زیادہ تر لوگ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مخالف ہوئے۔ غُرباء و مَساکین زیادہ مومن ہوئے ،  اب بھی یہی دیکھا جا رہا ہے کہ عموماًغریب لوگ ہی دینی کام زیادہ کرتے ہیں ۔

(2)… نبی کو اپنے جیسا بشر کہنا اور ان کے ظاہری کھانے پینے کو دیکھنا ،  باطنی اَسرار کو نہ دیکھنا ،  ہمیشہ سے کفار کا کام رہا ہے۔ پہلی بارشیطان نے نبی کو بشر کہا ،  پھر ہمیشہ کفار نے ایساکہا۔

 



Total Pages: 235

Go To