Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس کی قوم کے کافرسرداروں  نے کہا:یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم پر بڑا بن جائے اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے اتارتا۔ ہم نے تو یہ اپنے پہلے باپ داداؤں  میں  نہیں  سنی۔ یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس پر جنون (طاری) ہے تو ایک مدت تک اس کاانتظار کرلو۔ نوح نے عرض کی: اے میرے رب!میری مدد فرما کیونکہ انہوں  نے مجھے جھٹلایاہے۔

{فَقَالَ: تو کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے کافر سرداروں  نے اپنی قوم کے لوگوں  سے کہا کہ یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے کہ کھاتا اور پیتا ہے ،  یہ چاہتا ہے کہ تم پر

بڑا بن جائے اور تمہیں  اپنا تابع بنالے اور اگر  اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہتا کہ رسول بھیجے اور مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائے تو وہ فرشتے اتاردیتالیکن اس نے ایسا تو نہیں  کیا ،  نیز ہم نے تو اپنے پہلے باپ داداؤں  میں  یہ بات نہیں  سنی کہ بشر بھی رسول ہوتا ہے۔ یہ ان کی حماقت کی انتہاء تھی کہ بشر کا رسول ہونا تو تسلیم نہ کیا ،  پتھروں  کو خدا مان لیا اور انہوں  نے حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے بارے میں  یہ بھی کہا ’’یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس پر جنون طاری ہے تو ایک مدت تک انتظار کرلو یہاں  تک کہ اس کا جنون دور ہو جائے ،  ایسا ہوا تو خیر ورنہ اس کو قتل کر ڈالنا۔(مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۴-۲۵ ،  ص۷۵۵ ،  ملخصاً)

{قَالَ: عرض کی۔} جب حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوان لوگوں  کے ایمان لانے اور اُ ن کے ہدایت پانے کی امید نہ رہی تو حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  میری مدد فرما اور اس قوم کو ہلا ک کر دے کیونکہ انہوں  نے مجھے جھٹلایاہے۔( مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۷۵۵)

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُۙ-فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْۚ-وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاۚ-اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اسے وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے اور تنور اُبلے تو اس میں  بٹھالے ہر جوڑے میں  سے دو اور اپنے گھر والے مگر ان میں  سے وہ جن پر بات پہلے پڑچکی اور ان ظالموں  کے معاملہ میں  مجھ سے بات نہ کرنا یہ ضرور ڈبوئے جائیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ ہماری نگاہ کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آئے اور تنور ابل پڑے تو کشتی میں  ہر جوڑے میں  سے دو اور اپنے گھر والوں  کو داخل کرلو سوائے اِن میں  سے اُن لوگوں کے جن پر بات پہلے طے ہوچکی ہے اور ان ظالموں  کے معاملہ میں  مجھ سے بات نہ کرنا ، یہ ضرور غرق کئے جانے والے ہیں۔

{فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ: تو ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا فرمائی تو  اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرماتے ہوئے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری حمایت و حفاظت میں  اور ہمارے حکم سے کشتی بنا ؤپھر جب ان کی ہلاکت کا ہماراحکم آئے اور عذاب کے آثار نمودار ہوں  اور تنور ابلنے لگ جائے اور اس میں  سے پانی برآمد ہو تو یہ عذاب کے شروع ہونے کی علامت ہے ،  تو اس وقت کشتی میں  ہر طرح کے جانوروں  کے جوڑے میں  سے نراور مادہ اور اپنے گھر والوں  یعنی اپنی مومنہ بیوی اور ایماندار اولاد یا تمام مومنین کو داخل کرلو ، البتہ ان میں  سے ان لوگوں  کو سوار نہ کرنا جن پر بات پہلے طے ہوچکی ہے اور کلامِ اَزلی میں  ان پر عذاب اور ہلاکت مُعَیّن ہوچکی ہے۔ اس سے مراد حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاکنعان نامی ایک بیٹا اور ایک بیوی ہیں  کہ یہ دونوں  کافر تھے ،  چنانچہ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے تین فرزندوں  سام ،  حام ،  یافث اور اُن کی بیویوں  کو اور دوسرے مؤمنین کو سوار کیا ،  کل لوگ جو کشتی میں  تھے اُن کی تعداد ایک قول کے مطابق 80تھی نصف مرد اور نصف عورتیں ۔ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے مزید ارشاد فرمایا کہ ان ظالموں  کے معاملہ میں  مجھ سے بات نہ کرنا اور اُن کے لئے نجات طلب کرنا نہ دعا فرمانا ،  یہ ضرور غرق کئے جانے والے ہیں ۔(خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ : ۲۷ ،  ۳  /  ۳۲۴  ،  مدارک  ،  المؤمنون  ،  تحت الآیۃ : ۲۷  ،  ص۷۵۵ - ۷۵۶ ،  جلالین مع صاوی ،  ہود ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۳ / ۹۱۳ ،  ملتقطاً)

            نوٹ:اس واقعے کی مزید تفصیل سورۂ ہود کی آیت نمبر37تا 40میں  ملاحظہ فرمائیں ۔

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ٹھیک بیٹھے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں   اللہ کو جس نے ہمیں  ان ظالموں  سے نجات دی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب تم اور تمہارے ساتھ والے کشتی پر ٹھیک بیٹھ جاؤ تو تم کہناتمام تعریفیں  اس  اللہ کیلئے جس نے ہمیں  ان ظالموں  سے نجات دی۔

{فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ: تو تم کہناتمام تعریفیں   اللہ کیلئے ہیں ۔} کافروں  سے نجات حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والے تمام لوگوں  کو نصیب ہوئی لیکن اس پر  اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنے کا حکم صرف حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیاگیا ،  اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے نبی اور امام تھے تو اِن کا حمد و ثنا کرنااُن ایمان والوں  کا حمد و ثنا کرنا ہے نیز اس میں  اللہ تعالیٰ کی کِبریائی اور رَبوبِیَّت اور نبوت کی عظمت و فضیلت کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا وہ عظیم رتبہ ہے جو فرشتے اور نبی کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں  ہوتا۔(تفسیرکبیر ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۸ / ۲۷۳)  نیز بحیثیت ِ نبی حمد کا حکم حضرت نوح عَلَیْہِ  السَّلَام کو ہوا تو امت نے اس کی پیروی کرنی تھی۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور عرض کرنا: اے میرے رب !مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔

{وَ قُلْ: اور عرض کرنا۔} یعنی کشتی سے اُترتے وقت یا اس میں  سوار ہوتے وقت عرض کرنا کہ: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔کشتی میں  سوار ہوتے وقت کی برکت عذاب سے نجات ہے اور کشتی سے اترتے وقت کی برکت نسل کی کثرت اور پے درپے بھلائیوں  کا ملنا ہے۔(مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  



Total Pages: 235

Go To