Book Name:Sirat ul jinan jild 6

۶۹ ،  خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۳ / ۳۲۱ ،  ملتقطاً)

6چیزوں  کی ضمانت دینے پر جنت کی ضمانت:

            حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے لیے چھ چیزوں  کے ضامن ہوجاؤ ،  میں  تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ (1)بات بولو تو سچ بولو۔ (2)وعدہ کرو تو پورا کرو۔ (3)تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو ادا کرو اور(4) اپنی شرمگاہوں  کی حفاظت کرو اور (5)اپنی نگاہوں  کو پَست کرو اور (6)اپنے ہاتھوں  کو روکو۔( مستدرک ،  کتاب الحدود ،  ستّ یدخل بہا الرجل الجنّۃ ،  ۵ / ۵۱۳ ،  الحدیث: ۸۱۳۰)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی نمازوں  کی نگہبانی کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنی نمازوں  کی حفاظت کرتے ہیں ۔

{هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ: جو اپنی نمازوں  کی حفاطت کرتے ہیں ۔} یعنی کامیابی حاصل کرنے والے وہ مومن ہیں  جو اپنی نمازوں  کی حفاطت کرتے ہیں  اور انہیں  اُن کے وقتوں  میں  ،  ان کے شرائط و آداب کے ساتھ پابندی سے ادا کرتے ہیں  اور فرائض و واجبات اور سُنن و نوافل سب کی نگہبانی رکھتے ہیں ۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۳ / ۳۲۱ ،  مدارک ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ص۷۵۲ ،  ملتقطاً)

 عظیم الشّان عبادت:

            ایمان والوں  کا پہلا وصف خشوع وخضوع کے ساتھ نما زادا کرنا بیان کیا گیا اور آخری وصف نمازوں  کی حفاظت کرنا ذکر کیا گیا ،  اس سے معلوم ہوا کہ نماز بڑی عظیم الشان عبادت ہے اور دین میں  اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ،  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ پانچوں  نمازیں  پابندی کے ساتھ اور ان کے تمام حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ادا کرے۔ حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’پانچ نمازیں   اللہ تعالیٰ نے بندوں  پر فرض کیں  ،  جس نے اچھی طرح وضو کیا اور وقت میں  سب نمازیں  پڑھیں  اور رکوع و خشوع کو پورا کیا تو اس کے لیے  اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمۂ کرم پر عہد کر لیا ہے کہ اسے بخش دے ،  اور جس نے نہ کیا اس کے لیے عہد نہیں  ،  چاہے بخش دے ،  چاہے عذاب کرے۔( ابو داؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب المحافظۃ علی وقت الصلوات ،  ۱ / ۱۸۶ ،  الحدیث: ۴۲۵)

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یہی لوگ وارث ہیں ۔ کہ فردوس کی میراث پائیں  گے وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی لوگ وارث ہیں ۔یہ فردوس کی میراث پائیں  گے ،  وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

{اُولٰٓىٕكَ: یہی لوگ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جن ایمان والوں  میں  ما قبل آیات میں  مذکور اَوصاف پائے جاتے ہیں  یہی لوگ کافروں  کے جنتی مقامات کے وارث ہوں  گے۔یہ فردوس کی میراث پائیں  گے اوروہ جنت الفردوس میں  ہمیشہ رہیں  گے ، نہ انہیں  اس میں  سے نکالا جائے گا اور نہ ہی وہاں  انہیں  موت آئے گی۔( خازن ،  المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۳ / ۳۲۱)

ہر شخص کے دو مقام ہیں  ،  ایک جنت میں  اور ایک جہنم میں:

             حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ہر شخص کے دو مقام ہوتے ہیں  ، ایک جنت میں  اور ایک جہنم میں  ، جب کوئی شخص مر کر(ہمیشہ کے لئے) جہنم میں  داخل ہو

جائے تو اہلِ جنت اس کے جنتی مقام کے وارث ہوں  گے۔ یہی اس آیت ’’اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ‘‘ کا مقصد ہے۔(ابن ماجہ ،  کتاب الزہد ،  باب صفۃ الجنّۃ ،  ۴ / ۵۴۲ ،  الحدیث: ۴۳۴۱)

 اللہ تعالٰی سے سب سے اعلٰی جنت کا سوال کریں :

            یاد رہے کہ فردوس سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اسی کا سوال کرنے کی حدیث پاک میں  ترغیب دی گئی ہے ،  چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  حضور نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جنت میں  سو درجے ہیں  ، دو درجوں  کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔فردوس سب سے اعلیٰ اور درمیانی جنت ہے اورا س سے اوپر رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں  نکلتی ہیں ۔جب تم  اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنّۃ ،  باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنّۃ ،  ۴ / ۲۳۸ ،  الحدیث: ۲۵۳۸) لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب  اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا مانگے تو جنت الفردوس کی ہی دعا مانگے ،  اگر  اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے یہ دعا قبول فرما لی تو آخرت میں  ملنے والی یہ سب سے عظیم نعمت ہو گی۔

            دعا:اے  اللہ ! ہمیں  فردوس کی میراث پانے والوں  اوراس کی عظیم الشان نعمتوں  سے لطف اندوز ہونے والوں  میں  سے بنا دے اور جہنم کی طرف لے جانے والے تمام اَسباب سے ہماری حفاظت فرما ، اٰمین۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ(۱۲) ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪(۱۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے آدمی کو چُنی ہوئی مٹی سے بنایا۔ پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انسان کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا۔پھر اس کوایک مضبوط ٹھہراؤ میں پانی کی بوند بنایا۔

 



Total Pages: 235

Go To