Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان پر ہماری روشن آیتوں  کی تلاوت کی جاتی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جہالت کے ساتھ ساتھ کافروں  کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتوں  کی تلاوت کی جاتی ہے اور قرآنِ کریم انہیں  سنایا جاتا ہے جس میں  اَحکام کا بیان اور حلال و حرام کی تفصیل ہے تو تمہیں  کافروں  کے چہروں  میں  ناپسندیدگی کے آثار واضح طور پر نظر آئیں  گے اور غیظ و غضب سے ان کا حال یہ ہو تا ہے کہ جو ان کے سامنے ہماری آیتیں  پڑھتے ہیں  ،  انہیں  لپٹ جانے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کافروں  سے فرمادیں : کیا میں تمہیں  وہ چیز بتادوں  جو تمہیں  اُس غیظ اور ناگواری سے بھی زیادہ ناپسند ہے جو قرآنِ پاک سن کر تم میں  پیدا ہوتی ہے؟ وہ جہنم کی آگ ہے۔  اللہ تعالیٰ نے کافروں  سے اس کا وعدہ کیا ہے اور وہ کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۸ / ۲۵۰-۲۵۱ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۶ / ۵۹-۶۰ ،  ملتقطاً)

دل کا آئینہ اور مومن کی علامت:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ چہر ہ دل کا آئینہ ہے کیونکہ دل کے آثار چہر ے پر نمودار ہوتے ہیں ۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کی حمد اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت شریف سن کر چہرے پرخوشی کے آثار نمودار ہونا مومن ہونے کی علامت ہے اور حمد و نعت سن کر منہ بگاڑنا کفار کا طریقہ ہے۔

جنت اور جہنم کی طرف لے جانے والے اعمال:

            یاد رہے کہ تو حید و رسالت کا اقرارکرنا افضل ترین نعمت اور اعلیٰ ترین عمل ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بندے کو ابدی سعادت حاصل ہو گی اور بندہ  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت سے جنت کی عمدہ ترین نعمتوں  سے لطف اندوز ہو گا جبکہ توحید و رسالت کا انکار کرنا اور کفر و شرک کا اِرتکاب کرنا ایسے بد ترین اعمال ہیں  کہ ان کی وجہ سے بندہ ہمیشہ کے لئے بد بخت بن جاتا ہے اوراسے جہنم کے انتہائی درد ناک عذابات میں  مبتلا ہو نا پڑے گا ، لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ ان تمام اَقوال ، اَفعال اوراَعمال سے بچے جو کفر و شرک اور توحید و رسالت کے انکار کی طرف لے جاتے ہیں  اور اسے چاہئے کہ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والوں  کی صحبت اختیار کرے ،  اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں  سے محبت کرے ،  اسلام کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں  سے بچے ،  نیز گمراہوں  اور بد مذہبوں  کی صحبت سے دور بھاگے اور انہیں  خود سے دور رکھے اور  اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ان سے بغض رکھے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗؕ-وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْــٴًـا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُؕ-ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ(۷۳)

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۷۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اے لوگو! ایک کہاوت فرمائی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو وہ جنہیں   اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ایک مکھی نہ بناسکیں  گے اگرچہ سب اس پر اکٹھے ہوجائیں  اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں  کتنا کمزور چاہنے والا اور وہ جس کو چاہا۔ اللہ کی قدر نہ جانی جیسی چاہیے تھی بیشک  اللہ قوت والا غالب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!ایک مثال بیان کی گئی ہے تو اسے کان لگا کر سنو ،  بیشک  اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدا نہیں  کرسکیں  گے اگرچہ سب اس کیلئے جمع ہوجائیں  اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین کرلے جائے تو اس سے چھڑا نہ سکیں  گے۔کتنا کمزورہے چاہنے والا اور وہ جسے چاہا گیا۔ انہوں  نے  اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کا حق ہے ،  بیشک  اللہ قوت والا ،  غلبے والاہے۔

{یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ: اے لوگو!ایک مثال بیان کی گئی ہے۔} گزشتہ آیات میں  بیان کیاگیاکہ بتوں  کی عبادت کرنے پرمشرکین کے پاس کوئی عقلی ونقلی دلیل نہیں  ہے بلکہ یہ محض جہالت اوربیوقوفی کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں  اور اس آیت میں  ایک مثال کے ذریعے بتوں  کی عبادت کا باطل ہونا بیان کیا جا رہا ہے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو!ایک مثال بیان کی گئی ہے ،  تو اسے کان لگا کر سنو اور اس میں  خوب غور کرو ، وہ مثال یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے جن بتوں  کی تم عبادت کرتے ہو ، ان کے عاجز اور بے قدرت ہونے کا یہ حال ہے کہ وہ ہرگز ایک انتہائی چھوٹی سی چیز مکھی بھی پیدا نہیں  کرسکیں  گے اگرچہ سب مکھی پیدا کرنے کے لئے جمع ہوجائیں  تو عقلمند انسان کو یہ زیبا کب دیتا ہے کہ وہ ایسے عاجز اور بے قدرت کو معبود ٹھہرائے ،  ایسے کو پوجنا اور معبود قرار دینا کتنی انتہا درجے کی جہالت ہے !اور اگر مکھی ان سے وہ شہد و زعفران وغیرہ چھین کرلے جائے جو مشرکین بتوں  کے منہ اور سروں  پر ملتے ہیں  اور ان پر مکھیاں  بیٹھتی ہیں  تو وہ بت مکھی سے شہد و زعفران چھڑا نہ سکیں  گے توایسے بے بس کو خدا بنانا اور معبود ٹھہرانا کتنا عجیب اور عقل سے دور ہے۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۳ / ۳۱۷ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ص۲۸۶ ،  ملتقطاً)

{ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ: کتنا کمزورہے چاہنے والااور وہ جس کو چاہا گیا۔} آیت کے اس حصے میں  چاہنے والےسے بت پرست اور چاہے ہوئے سے بت مراد ہے،  یا چاہنے والے سے مکھی مراد ہے جو بت پر سے شہد و زعفران کی طالب ہے اور مطلوب سے بت مراد ہے ،  اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ طالب سے بت مراد ہے اور مطلوب سے مکھی۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۳ / ۳۱۷)

 اللہ تعالٰی کے نیک بندے اس کی اجازت سے عاجز اور بے بس نہیں :

            یاد رہے کہ اس آیت کا تعلق  اللہ تعالیٰ کے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِم سے نہیں  ہے ،  یہ عاجز اور بے بس نہیں  بلکہ یہ  اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اجازت اور قدرت سے مخلوق کو نفع پہنچانے اور ان سے نقصان دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں  حتّٰی کہ ان میں  سے بعض کو مردوں  کو زندہ کرنے کی قدرت بھی عطا ہوتی ہے ،  جیسا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ فرمان خود قرآنِ پاک میں  موجود ہے کہ

’’ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ‘‘(اٰل عمران:۴۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں  تمہارے لئے مٹی سے پرندے جیسی ایک شکل بناتاہوں  پھر اس میں  پھونک ماروں  گا تو وہ  اللہ کے حکم سے فوراً پرندہ بن جائے گی اور میں  پیدائشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں  کو شفا دیتا



Total Pages: 235

Go To