Book Name:Sirat ul jinan jild 6

بدلہ نہ لینے سے متعلق تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سیرت:

            سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں  کی خطاؤں  سے در گزر فرماتے اور ان کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں  کا بدلہ لینے کی بجائے معاف کر دیاکرتے تھے ، چنانچہ حضرت ابو عبد اللہ جدلی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا سے رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اخلاقِ مبارکہ کے بارے میں  پوچھا تو آپ نے فرمایا’’حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طبعی طور پر فحش باتیں  کرنے والے نہ تھے اور نہ ہی تَکَلُّف کے ساتھ فحش کہنے والے تھے اور آپ بازاروں  میں  شور کرنے والے بھی نہ تھے۔آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دیا کرتے بلکہ معاف کر دیتے اور در گزر فرمایاکرتے تھے۔( ترمذی ،  کتاب البر والصلۃ ،  باب ما جاء فی خلق النبی صلی  اللہ علیہ وسلم ،  ۳ / ۴۰۹ ،  الحدیث: ۲۰۲۳)

            حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں  :رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی معاملے میں  اپنی ذات کاکبھی انتقام نہیں  لیا خواہ آپ کو کیسی ہی تکلیف دی گئی ہو ، ہاں  جب  اللہ تعالیٰ کی حرمتوں  کو پامال کیا جاتا تو  اللہ تعالیٰ کے لئے (ان کا) انتقام لیا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب المحاربین من اہل الکفر والردۃ ،  باب کم التعزیر والادب ،  ۴ / ۳۵۲ ،  الحدیث: ۶۸۵۳)

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ  اللہ تعالیٰ رات کو ڈالتا ہے دن کے حصہ میں  اور دن کو لاتا ہے رات کے حصہ میں اور اس لیے کہ  اللہ  سنتا دیکھتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے  اللہ رات کو دن کے حصے میں  داخل کردیتا ہے اور دن کو رات کے حصہ میں  داخل کرتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ  اللہ سننے والا ،  دیکھنے والا ہے۔

{ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ:یہ اس لیے ہے  اللہ رات کو دن کے حصے میں  داخل کردیتا ہے۔} یعنی مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ جو چاہے اس پر قادر ہے اور اس کی قدرت کی نشانیاں  اس سے ظاہر ہیں  کہ وہ کبھی دن کو بڑھاتا ،  رات کو کم کر دیتا ہے اور کبھی رات کو بڑھاتا ،  دن کو کم کر دیتاہے ،  اس کے سوا کوئی اس پر قدرت نہیں  رکھتاتو جو ایسا قدرت والا ہے وہ جس کی چاہے مدد فرمائے اور جسے چاہے غالب کرے۔نیز مظلوم کی مدد فرمانا اس لئے ہے کہ  اللہ تعالیٰ سب کی باتیں  سننے والا اورسب کے اعمال دیکھنے والاہے ، اس سے نہ کسی کی کوئی بات پوشیدہ ہے اور نہ کسی کا کوئی عمل چھپا ہوا ہے۔(مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ص۷۴۶ ،  طبری ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۹ / ۱۸۳ ،  ملتقطاً)

کافروں  کے غلبے سے دل تنگ نہیں  ہونا چاہئے :

            اس آیت میں  اشارۃًفرمایاگیا کہ جیسے کبھی دن بڑے کبھی راتیں  ایسے ہی کبھی کفار کا غلبہ ہوتا ہے اور کبھی مومنوں  کا تسلط۔ لہٰذا کافروں  کا غلبہ دیکھ کر مسلمانوں  کو دل تنگ نہیں  ہونا چاہیے بلکہ اپنے اَقوال ،  اَعمال اور اَفعال کی اصلاح کرنے میں  مشغول ہونا چاہئے تاکہ  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے صدقے مسلمانوں  کو کفار پر غلبہ اور فتح ونصرت عطا فرمائے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ  اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جسے پوجتے ہیں  وہی باطل ہے اور اس لیے کہ  اللہ ہی بلندی بڑائی والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے ہے کہ  اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں  وہی باطل ہے اور اس لیے کہ  اللہ ہی بلندی والا ، بڑائی والا ہے۔

{ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ: یہ اس لیے ہے کہ  اللہ ہی حق ہے۔} یعنی یہ مدد فرمانا اس لیے بھی ہے کہ  اللہ تعالیٰ ہی حق والا ہے تو ا س کا دین حق ہے اور ا س کی عبادت کرنا بھی حق ہے اور مسلمانوں  سے چونکہ  اللہ تعالیٰ نے مدد کرنے کا سچا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا یہ  اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق ہیں  اورمشرکین جن بتوں  کی عبادت کرتے ہیں  وہی باطل ہیں  اوروہ عبادت کئے جانے کا کوئی حق نہیں  رکھتے اور یہ مدد فرمانا اس لیے بھی ہے کہ  اللہ تعالیٰ ہی اپنی قدرت سے ہر چیز پر غالب ہے ،  اس کی کوئی شبیہ نہیں  اورنہ ہی کوئی اس کی مِثل ہے اور وہ کافروں  کی منسوب کردہ ان تمام باتوں  سے پاک ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں  اور وہی عظمت و جلال اور بڑائی والا ہے۔( تفسیر قرطبی ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۶ / ۶۹-۷۰ ،  الجزء الثانی عشر)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً٘-فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةًؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ(۶۳) لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نے آسمان سے پانی اُتارا تو صبح کو زمین ہریالی ہوگئی بیشک  اللہ پاک خبردار ہے۔ اسی کا مال ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے اور بیشک  اللہ ہی بے نیاز سب خوبیوں  سراہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ  اللہ نے آسمان سے پانی اتارا تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے بیشک  اللہ بڑا مہربان ،  خبردار ہے۔ جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے سب اسی کا ہے اور بیشک  اللہ ہی بے نیاز ، تمام تعریفوں  کامستحق ہے۔

{اَلَمْ تَرَ: کیا تو نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلے  اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی دن اور رات کو کم زیادہ کرنا ذکر کی گئی اور اب یہاں  سے  اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مزید دلائل ذکر کئے جا رہے ہیں  ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا تو نے نہ دیکھا کہ خشک زمین پر جب  اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش کا پانی نازل فرماتا ہے تووہ نباتات سے سرسبز و شاداب ہو جاتی ہے اور یہ  اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ بیشک  اللہ تعالیٰ پانی کے ذریعے زمین سے نباتات نکال کر اپنے بندوں  پربڑا مہربان ہے اور بارش میں  تاخیر ہونے کی وجہ سے جو کچھ ان کے دلوں  میں  آتا ہے اس سے خبردار ہے۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۳ ،  ۸ / ۲۴۶ ،  جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۳ ،  ص۲۸۵ ،  ملتقطاً)

{لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ: جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے سب اسی کا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے سب کا حقیقی مالک وہی ہے اور اِ س ملکیت میں  اُس کا کوئی شریک نہیں  اور بیشک  اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز سے بے نیاز اور اپنے اَفعال و صِفات میں تمام تعریفوں  کا مستحق ہے۔( جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۴ ،  ص۲۸۵ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۶۴ ،  ۶ / ۵۶ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To