Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان نہایت رحم والا ۔

ترجمۂکنزالعرفان:  اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ،  رحمت والاہے۔

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ(۱) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ مذکور ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پر کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: كٓهٰیٰعٓصٓ۔ یہ تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔

{ كٓهٰیٰعٓصٓ: } یہ حروفِ مُقَطَّعات ہیں  ، ان کی مراد  اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

{ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ:یہ تیرے رب کی رحمت کا ذکر ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  ہم آپ کے سامنے جو بیان کررہے ہیں  یہ آپ کے ربعَزَّوَجَلَّ کی اس رحمت کا ذکر ہے جو اس نے اپنے بندے حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمائی۔( خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۳ / ۲۲۸)

نیک بیٹا  اللہ تعالٰی کی بڑی رحمت ہے:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مراد نیک اور صالح بیٹا عطا فرمانا ہے اور بیٹا عطا فرمانے کے تذکرے کو رحمت ِ الہٰی کا تذکرہ فرمایا گیا ہے  ، اس سے معلوم ہوا کہ نیک اور صالح بیٹا  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بڑی رحمت ہے خصوصاً جب کہ بڑھاپے میں  عطا ہو۔ یاد رہے کہ نیک اولاد سے جس طرح دنیا میں  فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے اور بڑھاپے میں  ان کا سہارا بنتی ہے  ،  اسی طرح مرنے کے بعد بھی نیک اولاد اپنے والدین کو نفع پہنچاتی ہے ،  جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اَعمال مُنقطع ہو جاتے ہیں  لیکن تین عمل منقطع نہیں  ہوتے (1) صدقۂ جاریہ۔ (2) علمِ نافع۔ (3) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہتی ہے۔( مسلم ،  کتاب الوصیۃ ،  باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ،  ص۸۸۶ ،  الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱))  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی  اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا مانگے تو نیک اولاد کی دعا مانگے یونہی اسے چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ اولاد کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرے تاکہ جب وہ دنیا سے جائے تو اس کے پیچھے اس کی بخشش کی دعا مانگنے والابھی کوئی ہو۔

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اس نے اپنے رب کو آہستہ سے پکارا ۔

{اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا:جب اس نے اپنے رب کوآہستہ سے پکارا۔} یعنی حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آہستہ آواز میں   اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی  ،  مفسرین نے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آہستہ آواز میں  دعا مانگنے کی چند وجوہات ذکر کی ہیں:

(1)…آہستہ دعا مانگنے میں  اخلاص زیادہ ہوتا ہے اور دعا مانگنے والا ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اس لئے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے آہستہ دعا فرمائی ۔

 (2)…لوگ اولاد کی دعا مانگنے پر ملامت نہ کریں  کیونکہ اس وقت حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمرشریف 75 یا 80 سال تھی ۔

(3)…حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی آوازکمزوری کے باعث آہستہ ہوگئی تھی۔( مدارک ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ص۶۶۷ ،  خازن ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۲۲۹ ،  ملتقطاً)

آہستہ آواز میں  دعامانگنے کی فضیلت اوردعا مانگنے کا ایک ادب:

            اس آیت میں  حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آہستہ دعا مانگنے کا ذکر ہے  ، آہستہ دعا مانگنے کی فضیلت کے بارے میں  حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’آہستہ آواز میں  دعا کرنا 70 بلند آواز کے ساتھ دعاؤں  کے برابر ہے۔( مسند الفردوس ،  باب الدال ،  ۲ / ۲۱۴ ،  الحدیث: ۳۰۴۶)

            نیزاس سے معلوم ہوا کہ آہستہ آواز میں  دعا مانگنا دعا کے آداب میں  سے ہے۔ اسی ادب کی تعلیم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً‘‘ (اعراف:۵۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہآواز سے دعا کرو ۔

            اور حضرت علامہ مولانا نقی علی خاں  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ دعا کے آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  ’’دعا نرم و پَست آواز سے ہو کہ  اللہ تعالیٰ سمیع و قریب ہے ،  جس طرح چِلانے سے سنتا ہے اسی طرح آہستہ (آواز بھی سنتا ہے) اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’ بلکہ وہ اسے بھی سنتا ہے جو ہنوز (یعنی ابھی) زبان تک اصلاً نہ آیا یعنی دلوں  کا ارادہ ،  نیت ،  خطرہ کہ جیسے اس کا علم تمام موجودات و معدومات کو محیط (یعنی گھیرے ہوئے) ہے یونہی اس کے سَمع و بَصر جمیع موجودات کو عام و شامل ہیں  ،  اپنی ذات و صفات اور دلوں  کے ارادات و خطرات اور تمام اَعیان و اَعراضِ کائنات ہر شئے کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ،  نہ اس کا دیکھنا رنگ و ضَوء (یعنی روشنی) سے خاص نہ اس کا سننا آواز کے ساتھ مخصوص۔(فضائل دعا ،  فصل دوم آدابِ دعا واسبابِ اجابت میں  ،  ص ۷۶-۷۷)

            مشورہ:دعا کے فضائل و آداب اور اس سے متعلق دیگر معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کے والد ماجد حضرت علامہ نقی علی خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ کی شاندار کتاب’’فضائل دعا‘‘([1])اور راقم کی کتاب’’ فیضانِ دعا‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔

 



[1] ۔۔۔ یہ تسہیل و تخریج کے ساتھ مکتبۃ المدینہ نے بھی شائع کی ہے،وہاں  سے خرید کر مطالعہ کر سکتے ہیں ۔



Total Pages: 235

Go To