Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا یہ لوگ زمین میں  نہ چلے کہ ان کے دل ہوں  جن سے یہ سمجھیں  یا کان ہوں  جن سے سنیں  پس بیشک آنکھیں  اندھی نہیں  ہوتیں  بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں  جو سینو ں  میں  ہیں ۔

{اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: تو کیا یہ لوگ زمین میں  نہ چلے۔} اس آیت میں  کفارِ مکہ کو زمین میں  سفر کرنے پر ابھارا گیا تاکہ وہ کفر کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں  کے مقامات دیکھیں  اور ان کے آثار کا مشاہدہ کر کے عبرت حاصل کریں  ،  چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا کفارِ مکہ نے زمین میں  سفر نہیں  کیا تاکہ وہ سابقہ قوموں  کے حالات کا مشاہدہ کریں  اور ان کے پاس ایسے دل ہوں  جن سے یہ سمجھ سکیں  کہ انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے اُن قوموں  کا کیا انجام ہوا اور اس سے عبرت حاصل کریں  یا ان کے پاس ایسے کان ہوں  جن سے پچھلی امتوں  کے حالات  ،  ان کا ہلاک ہونا اور ان کی بستیوں  کی ویرانی کے بارے میں  سنیں  تاکہ اس سے عبرت حاصل ہو۔ پس بیشک کفار کی ظاہری حِس باطل نہیں  ہوئی اور وہ ان آنکھوں  سے دیکھنے کی چیزیں  دیکھتے ہیں  بلکہ وہ ان دلوں  کے اندھے ہیں  جو سینو ں  میں  ہیں  اور دلوں  ہی کا اندھا ہونا غضب ہے اور اسی وجہ سے آدمی دین کی راہ پانے سے محروم رہتا ہے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ص۷۴۲-۷۴۳ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۳ / ۳۱۱-۳۱۲ ،  تفسیر کبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۸ / ۲۳۳-۲۳۴ ،  ملتقطاً)

عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لئے فائدہ مند دو چیزیں :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کو دیکھنا جہاں   اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے اوران قوموں  کے بارے میں  سننا جن پر  اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمایا ہے ، عبرت اورنصیحت حاصل کرنے کے لئے بہت فائدہ مند ہے اور اس دیکھنے اور سننے سے فائدہ اسی صورت میں  اٹھایا جا سکتا ہے جب دل سے غورو فکر کرتے ہوئے ان چیزوں  کو دیکھا اور ان کے بارے میں  سنا جائے اور جو شخص عذاب والی جگہوں  کا مشاہدہ توکرے اور عذاب یافتہ قوموں  کے بارے میں  سنے ،  پھر ان کے حالات وانجام میں  غورو فکر نہ کرے تو وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں  کر پاتا ، لہٰذا جب بھی کسی ایسی جگہ سے گزر ہو جہاں   اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تھا یا عذاب میں  مبتلا ہونے والی قوم کے واقعات سنیں  تو اس وقت دل سے ان پر غور و فکر ضرور کریں  تاکہ دل میں   اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف اور ڈر پیدا ہو اور  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے اور اس کی اطاعت گزاری کرنے میں  مدد ملے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ‘‘(ق:۳۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک اس میں  نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اوروہ حاضر ہو۔

            اورایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’ نصیحت کے ساتھ اپنے دل کوزندہ رکھو  ، غوروفکرکے ساتھ دل کومنورکرو ،  زُہد اوردنیاسے بے رغبتی کے ساتھ نفس کومارو ، یقین کے ساتھ اس کو مضبوط کرو ، موت کی یادسے دل کوذلیل کرو ، فنا ہونے کے یقین سے اس کوصبر کرنے والابناؤ ،  زمانے کی مصیبتیں  دکھاکراس کوخوفزدہ کرو ، دن اوررات کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے سے اس کوبیداررکھو ، گزشتہ لوگوں  کے واقعات سے اسے عبرت دلاؤ ، پہلے لوگوں  کے قصے سناکراسے ڈراؤ  ، ان کے شہروں  اوران کے حالات میں  اس کوغوروفکرکرنے کاعادی بناؤاوردیکھوکہ بدکاروں  اورگناہ گاروں  کے ساتھ کیسامعاملہ ہوا اوروہ کس طرح الٹ پلٹ کردئیے گے۔( ابن کثیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۵ / ۳۸۴-۳۸۵)

دل کے اندھے پن کا نقصان:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہو اکہ جس کا دل بصیرت کی نظر سے اندھا ہو وہ تمام ظاہری اَسباب ہونے کے باوجود دین کا راستہ پانے اور حق و ہدایت کی راہ چلنے سے محروم رہتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن جراد رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  سرکارِ دو عالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اندھاوہ نہیں  جوظاہری آنکھوں  سے محروم ہے بلکہ اندھاوہ ہے جوبصیرت سے محروم ہے۔( نوادرالاصول ،  الاصل التاسع والثلاثون ،  ۱ / ۱۵۷ ،  الحدیث: ۲۴۰)

            اورحضرت سہل رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :جس شخص کا دل بصیرت سے روشن ہو وہ نفسانی خواہشات اور شہوتوں  پر غالب رہتا ہے اور جب وہ دل کی بصیرت سے اندھا ہو جائے تو ا س پر شہوت غالب آ جاتی ہے اور غفلت طاری ہو جاتی ہے  ،  اس وقت اس کا بدن گناہوں  میں  گم ہو جاتا ہے اور وہ کسی حال میں  بھی حق کے سامنے گردن نہیں  جھکاتا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۶ / ۴۵)  اللہ تعالیٰ ہمیں  دل کی بصیرت عطا فرمائے اور دل کی بصیرت سے اندھا ہونے سے محفوظ فرمائے  ، اٰمین۔

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗؕ-وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان:اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں  جلدی کرتے ہیں  اور  اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے یہاں  ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں  کی گنتی میں  ہزار برس۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں  جلدی کرتے ہیں  اور  اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں  کرے گا اور بیشک تمہارے رب کے ہاں  ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں  کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے۔

{وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ: اور یہ تم سے عذاب مانگنے میں  جلدی کرتے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کفارِ مکہ جیسے نضر بن حارث وغیرہ مذاق اڑانے کے طور پر آپ سے جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں  کرے گااور وعدے کے مطابق ضرور عذاب نازل فرمائے گا چنانچہ یہوعدہ بدر میں  پورا ہوا اور مذاق اڑانے والے کفار ذلت کی موت مارے گئے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۶ / ۴۶)

{وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ: بیشک تمہارے رب کے ہاں  ایک دن ایسا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک  اللہ تعالیٰ کے ہاں  آخرت میں  عذاب کا ایک دن ایسا ہے جو تم لوگوں  کی گنتی کے ہزار سال کے برابر ہے ،  تو یہ کفار کیا سمجھ کر جلدی عذاب نازل کرنے کا تقاضا کرتے ہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ص۷۴۳)

            یاد رہے کہ اس آیت اور سورہِ سجدہ کی آیت نمبر 5میں  یہ بیان ہو اکہ قیامت کا دن لوگوں  کی گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہو گا اور سورہِ معارج کی آیت نمبر4میں  یہ بیان ہو



Total Pages: 235

Go To