Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ڈھادی جاتیں  خانقاہیں  اور گرجا اور کلیسا اور مسجدیں  جن میں   اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے اور بیشک  اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور  اللہ قدرت والا غالب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ جنہیں  ان کے گھروں  سے ناحق نکال دیا گیا صرف اتنی بات پر کہ انہوں  نے کہا : ہمارا رب  اللہ ہے اور اگر  اللہ آدمیوں  میں  ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور عبادت گاہوں  اور گرجوں  اور کلیساؤں  اور مسجدوں  کو گرادیا جاتاجن میں   اللہ کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے اور بیشک  اللہ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا ،  بیشک  اللہ ضرورقوت والا ،  غلبے والا ہے۔

{اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ: وہ جنہیں  ان کے گھروں  سے ناحق نکال دیا گیا۔} یعنی ان لوگوں  کو جہاد کی اجازت دے دی گئی جنہیں  ان کے گھروں  سے صرف اتنی بات پرناحق نکال دیا گیا اور بے وطن کیا گیا کہ انہوں  نے کہا ’’ہمارا رب صرف  اللہ ہے‘‘ حالانکہ یہ کلام حق ہے اور حق پر گھروں  سے نکالنا اور بے وطن کرنا قطعی طور پر ناحق ہے۔(جلالین ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۲۸۳ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۶ / ۳۹ ،  ملتقطاً)

{وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ:اور اگر  اللہ آدمیوں  میں  ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا۔}آیت کے اس حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر  اللہ تعالیٰ جہاد کی اجازت دے کر اور حدود قائم فرما کر آدمیوں  میں  ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ مشرکین غالب آجاتے اور کوئی دین و ملت والا ان کی سر کشی سے نہ بچ پاتا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  یہودیوں  کے کلیساؤں   ،  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  راہبوں  کیعبادت گاہوں  ،  عیسائیوں  کے گرجوں  اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں  مسلمانوں  کی ان مسجدوں  کو گرا دیا جاتا جن میں   اللہ تعالیٰ کاکثرت سے ذکر کیا جاتا ہے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۷۴۱ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۳ / ۳۱۰-۳۱۱ ،  ملتقطاً)

 جہاد کی برکت:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ اگر گزشتہ زمانہ میں  جہاد نہ ہوئے ہوتے تو نہ یہودیوں  کے عبادت خانے محفوظ رہتے اور نہ عیسائیوں  کے گرجے۔ ہرزمانے میں  جہاد کی ایک برکت یہ ہوئی کہ لوگوں  کی عبادت گاہیں  محفوظ ہوگئیں  ،  لیکن یہاں  یہ یاد رہے کہ اب ہمارے زمانے میں  گرجوں  وغیرہ غیر مسلموں  کی عبادت گاہوں  کا اس اعتبار سے کوئی احترام نہیں  کہ وہ کوئی مقدس جگہیں  ہیں   ،  صرف یہ ہے کہ اسلامی ملک میں  غیرمسلموں  کو اپنی عبادت گاہیں  بنانے کی اجازت ہے اور ہم انہیں  اس معاملے میں  چھیڑیں  گے نہیں  اور نہ ہی مسلمانوں  کو حق ہوگا کہ بلاوجہ دوسروں  کے عبادت خانے گرائیں ۔ہمیں  ہماری شریعت کا حکم یہ ہے کہ ہم کافروں  کو اور ان کے دین کو ان کے حال پر چھوڑ دیں  اور اسلام کا پیغام ان کی عبادت گاہیں  گرا کر نہیں  بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعے دیں ۔

{وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ:اور بیشک  اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرمائے گا جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔} ارشاد فرمایاکہ جو  اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرے گا  اللہ تعالیٰ اس کی ضرور مدد فرمائے گا ، چنانچہ  اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور مہاجرین و اَنصار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو عرب کے سرکش کافر سرداروں  پر غلبہ عطا فرمایا  ، پھر ایران کے کسریٰ اور روم کے قیصر پر غلبہ عنایت کیا اور ان کی سر زمین اور شہروں  کا مسلمانوں  کو وارث بنا دیا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۶ / ۴۰)

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں  زمین میں  قابو دیں  تو نما زبرپا رکھیں  اور زکوٰۃ دیں  اور بھلائی کا حکم کریں  اور برائی سے روکیں  اور  اللہ ہی کے لئے سب کاموں  کا انجام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں  زمین میں  اقتدار دیں  تو نما زقائم رکھیں  اور زکوٰۃ دیں  اور بھلائی کا حکم کریں  اور برائی سے روکیں  اور  اللہ ہی کے قبضے میں  سب کاموں  کا انجام ہے۔

{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ: وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں  زمین میں  اقتدار دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جنہیں  ان کے گھروں  سے ناحق نکالا گیا  ،  اگر ہم انہیں  زمین میں  اقتدار دیں  اور ان کے دشمنوں  کے مقابلے میں  ان کی مدد فرمائیں  تو ان کی سیرت ایسی پاکیزہ ہو گی کہ وہ میری تعظیم کے لئے نما زقائم رکھیں  گے  ،  زکوٰۃ دیں  گے  ،  بھلائی کا حکم کریں  گے اور برائی سے روکیں  گے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۶ / ۴۱)

            امام عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں  خبر دی گئی ہے کہ آئندہ مہاجرین کو زمین میں  تَصَرُّف عطا فرمانے کے بعد (بھی)ان کی سیرتیں  بڑی پاکیزہ رہیں  گی اور وہ دین کے کاموں  میں  اخلاص کے ساتھ مشغول رہیں  گے۔ اس میں  خلفاء ِ راشدین کے عدل و انصاف اور ان کے تقویٰ و پرہیزگاری کی دلیل ہے جنہیں   اللہ تعالیٰ نے اِقتدار اور حکومت عطا فرمائی اور عادلانہ سیرت عطا کی۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ص۷۴۲)

خلفاءِ راشدین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی پاکیزہ سیرت کی جھلک:

            حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں  چار صحابۂ کرام  ، حضرت ابو بکر صدیق ،  حضرت عمر فاروق ، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  دیگر صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے مقابلے میں  خاص قرب اور مقام حاصل تھا اور یہ چار صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ سیرت وعمل اور پاکیزہ کردار کے لحاظ سے بقیہ صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ پر فوقیت رکھتے تھے اور ان کی عبادت و ریاضت ، تقویٰ و پرہیزگاری اورعدل و انصاف بے مثل حیثیت رکھتے تھے ، پھر جب سیّد المرسَلین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ظاہری وصال ہوا تو بِالتَّرتیب ان چار صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے مسلمانوں  کی امامت و خلافت کی ذمہ داری کو سنبھالا ،  ان کی خلافت کو خلافت ِراشدہ کہا جاتا ہے۔ ان کے دورِ خلافت میں   اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  کو زمین پر غلبہ و اِقتدار عطا فرمایا اور مسلمانوں  نے  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد و نصرت



Total Pages: 235

Go To