Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کا ذکر ہوتا ہے تو ا س کی ہیبت و جلال سے ان کے دل ڈرنے لگتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا خوف ان کے اَعضا سے ظاہر ہونے لگتا ہے اور  اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں  جو مصیبت و مشقت پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں  اور نماز کو ا س کے اوقات میں  قائم رکھتے ہیں  اور  اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں  سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۷۴۰ ،  تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۸ / ۲۲۵ ،  ملتقطاً)

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ ﳓ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّۚ-فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لیے  اللہ کی نشانیوں  سے کیے تمہارے لیے ان میں  بھلائی ہے تو اُن پر  اللہ کا نام لو ایک پاؤں  بندھے تین پاؤں  سے کھڑے پھر جب ان کی کروٹیں  گرجائیں  تو اُن میں  سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور بھیک مانگنے والے کو کھلاؤ ہم نے یونہی اُن کو تمہارے بس میں  دے دیا کہ تم احسان مانو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور قربانی کے بڑی جسامت والے جانوروں  کو ہم نے تمہارے لیے  اللہ کی نشانیوں  میں  سے بنایا۔ تمہارے لیے ان میں  بھلائی ہے تو ان پر  اللہ کا نام لواس حال میں کہ ان کا ایک پاؤں  بندھا ہوا ہو (اور) تین پاؤں  پر کھڑے ہوں  پھر جب ان کے پہلو گرجائیں  تو ان (کے گوشت) سے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ۔ اِسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے قابومیں  دے دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

{وَ الْبُدْنَ:اور قربانی کے بڑی جسامت والے جانور۔} اَحناف کے نزدیک بُدنہ کا اِطلاق اونٹ اور گائے دونوں  پر ہوتا ہے جبکہ امام شافعی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کے نزدیک بدنہ کا اطلاق صرف اونٹ پر ہوتا ہے۔( تفسیرات احمدیہ ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۵۳۷)

{جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ:ان جانوروں  کو ہم نے تمہارے لیے  اللہ کی نشانیوں  میں  سے بنایا۔} یعنی  اللہ تعالیٰ نے قربانی کے بڑی جسامت والے جانوروں  کو مسلمانوں  کے لئے اپنے دین کی نشانیوں  میں  سے بنایا ہے۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۶ / ۳۵)

             آیت کے اس حصے سے معلوم ہوا کہ جس جانور کو عظمت والے مقام سے نسبت ہو جائے ،  وہ شَعائر  اللہ بن جاتا ہے۔

{لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ:تمہارے لیے ان میں  بھلائی ہے۔} یعنی قربانی کے ان بڑی جسامت والے جانوروں  میں  تمہارے لیے بھلائی ہے کہ تمہیں  ان سے دنیا میں  کثیر نفع اور آخرت میں  اجر و ثواب ملے گا۔( روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۶ / ۳۵)

قربانی کا دُنْیَوی اور اُخروی فائدہ:

            قربانی کا دنیوی فائدہ تو وہ ہے جو اوپر بیان ہوا کہ ضرورت کے وقت قربانی کے جانور پر سواری کی جاسکتی ہے

اور حاجت کے وقت ان کے دودھ سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے اور اخروی فائدہ ثواب ہے۔

آیت ’’وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا‘‘ پر عمل سے متعلق بزرگانِ دین کے دو واقعات:

            یہاں  اس آیتِ مبارکہ پر عمل کے سلسلے میں  بزرگانِ دین کے دو واقعات ملاحظہ ہوں  

(1)…حضرت مالک بن انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے حج کیا اور ان کے ساتھ حضرت ابنِ حرملہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے حج کیا۔ اس موقع پر حضرت سعید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے مینڈھا خریدا اوراس کی قربانی دی جبکہ حضرت ابن ِحرملہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے چھ دینارمیں  ایک اونٹ خریدا اور اسے نَحر کیا۔ حضرت سعید رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے ان سے پوچھا: کیا آپ کو ہمارا طریقہ کافی نہ تھا؟ حضرت ابنِ حرملہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا:میں  نے  اللہ تعالیٰ کایہ ارشادسناہے ’’وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ‘‘ اس لئے میں  نے پسند کیا کہ میں  اس خیر کو حاصل کروں  جس کی طرف  اللہ تعالیٰ نے میری رہنمائی کی ہے۔ حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُان کی اس بات سے بہت خوش ہوئے اور آپ ان کی طرف سے یہ بات بیان کیا کرتے تھے۔( تفسیرابن ابی حاتم ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۸ / ۲۴۹۴)

(2)… حضرت سفیان بن عُیینہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُفرماتے ہیں  کہ حضرت صفوان بن سلیم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے حج کیا ،  ان کے پاس سات دینار تھے جس سے انہوں  نے ایک اونٹ خرید لیا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس صرف سات دینار تھے جن کاآپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے اونٹ خرید لیا ہے! انہوں  نے فرمایا: میں  نے  اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا ہے جس میں  وہ (تم سے) فرماتا ہے ’’لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ‘‘ تمہارے لیے ان میں  بھلائی ہے(اورمیں  نے اس بھلائی کو حاصل کرنے کے لئے ایساکیا ہے۔)( حلیۃ الاولیاء ،  ذکر طبقۃ من تابعی المدینۃ۔۔۔ الخ ،  صفوان بن سلیم ،  ۳ / ۱۸۷)

            لہٰذا جس مسلمان پر حج کی قربانی لازم ہو یا وہ حج کے موقع پر نفلی قربانی کرنا چاہتا ہو اور اونٹ یاگائے کی قربانی کرنا اس کے لئے ممکن ہو تو وہ اونٹ یا گائے کی قربانی کرے تاکہ اسے یہ فضیلت حاصل ہو۔

{فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا:تو ان پر  اللہ کا نام لو۔} یہاں  اونٹ َنحر کرنے کا طریقہ بیان فرمایا گیا کہ جب اونٹ کو نحر کرنے لگو تو ا ن کا ایک پاؤں  باند ھ دو اور تین کھڑے رکھو ،  پھر  اللہ تعالیٰ کا نام لے کر انہیں  نحر کرو اور اس کے بعد جب وہ زمین پر گر جائیں  اور ان کی حرکت ساکن ہو جائے تو اس وقت تمہارے لئے ان کا گوشت کھانا حلال ہے۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۷۴۰ ،  روح البیان ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۶ / ۳۵ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 235

Go To