Book Name:Sirat ul jinan jild 6

حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم پر طوفان آیا تو اس وقت وہ آسمان پر اٹھا لی گئی۔ پھر جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکعبہ شریف کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو  اللہ تعالیٰ نے اس کا مقام بتانے کے لئے ایک ہوا مقرر کی جس نے اس کی جگہ کو صاف کر دیا جہاں  پہلے کعبہ معظمہ کی عمارتموجود تھی اور ایک قول یہ ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جو خاص زمین کے اس حصے کے اوپر تھا جہاں  پہلے کعبہ معظمہ کی عمارت تھی ،  اس طرح حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو کعبہ شریف کی جگہ بتائی گئی اور آپ نے اس کی پرانی بنیاد پر کعبہ شریف کی عمارت تعمیر کی ۔( مدارک ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۷۳۶ ،  خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۳ / ۳۰۵ ،  ملتقطاً)

{ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا:اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔} کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت  اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں  ،  قیام کرنے والوں  اور نماز پڑھنے والوں  کیلئے شرک سے  ،  بتوں  سے اور ہر قسم کی نجاستوں  سے خوب صاف ستھرا رکھو۔( خازن ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۳ / ۳۰۵)

انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام شرک سے پاک ہیں :

            یاد رہے کہ انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک آن کے لئے بھی شرک نہیں  کرتے ،  وہ شرک سے پاک ہیں  اور گناہوں  سے بھی معصوم ہیں  اور اس آیت میں  جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے فرمایا گیا کہ ’’ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘‘اس سے یہ مراد نہیں  کہ آپ مَعَاذَ اللہ شرک میں  مبتلا تھے اور  اللہ تعالیٰ نے آپ کو ا س سے منع فرمایا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ  اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا یا اس سے مراد یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں   اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ کوئی دوسری غرض نہ ملانا۔( تفسیرکبیر ،  الحج ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۸ / ۲۱۹)

مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے فضائل:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسجد تعمیر کرنا ،  اسے صاف ستھرا رکھنا اور اس کی زینت کرنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں  مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے تین فضائل ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت ابو قرصافہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولِ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مسجدیں  تعمیر کرو اور ان سے کوڑا کرکٹ نکالو ،  پس جس نے  اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائی اللّٰہ

تعالیٰ اس کے لئے جنت میں  ایک گھر بنائے گا اور اس سے کوڑاکرکٹ نکالنا حورِ عِین کے مہر ہیں ۔( معجم الکبیر ،  مسند جندرۃ بن خیشنۃ ،  ۳ / ۱۹ ،  الحدیث: ۲۵۲۱)

(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے مسجد سے اَذِیَّت دینے والی چیز (جیسے مٹی  ، کنکر ) نکالی تو  اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں  ایک گھر بنائے گا۔( ابن ماجہ ،  کتاب المساجد والجماعات ،  باب تطہیر المساجد وتطییبہا ،  ۱ / ۴۱۹ ،  الحدیث: ۷۵۷)

(3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :ایک عورت مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی ،  اس کا انتقال ہو گیا اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسے دفن کرنے کی اطلاع نہ دی گئی توآپ نے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں  کسی کا انتقال ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دیا کرو ،  پھر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس عورت پر نماز پڑھی اور فرمایا ’’میں  نے اسے جنت میں  دیکھا ہے کیونکہ وہ مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی(معجم الکبیر ،  عکرمۃ عن ابن عباس ،  ۱۱ / ۱۹۰ ،  الحدیث: ۱۱۶۰۷)۔([1])

مسجد کا متولّی کیساہونا چاہئے؟

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد کا متولی نیک آدمی ہونا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’متولی بننے کے لائق وہ ہے جو دیانت دار ،  کام کرنے والا اور ہوشیار ہو۔ اس پر وقف کی حفاظت اور خیر خواہی کے معاملے میں  کافی اطمینان ہو۔ فاسق نہ ہو کہ اس سے نفسانی خواہش یا بے پرواہی یا حفاظت نہ کرنے یا لَہْو ولَعب میں  مشغول ہونے کی وجہ سے وقف کو نقصان پہنچانے یاپہنچنے کا اندیشہ ہو۔ بد عقل  ،  عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت ،  نادانی  ،  کام نہ کر سکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کردے۔ فاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار  ، کام کرنے والا اور مالدار ہو ہر گز متولی بننے کے لائق نہیں  کہ جب وہ شریعت کی نافرمانی کی پرواہ نہیں  رکھتا تو کسی دینی کام میں  ا س پر کیا اطمینان ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ حکم ہے کہ وقف کرنے والا اگر خود فسق کرے تو واجب ہے کہ وقف اس کے قبضے سے نکال لیا جائے اور کسی امانت دار اور دیانت دار کو سپرد کیا جائے۔(فتاوی رضویہ ،  ۱۶ / ۵۵۷ ، ملخصاً)وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ(۲۷) لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِۚ-فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىٕسَ الْفَقِیْرَ٘(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں  میں  حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں  گے پیادہ اور ہر دُبلی اونٹنی پر کہ ہر دُور کی راہ سے آتی ہیں ۔تاکہ وہ اپنا فائدہ پائیں  اور  اللہ کا نام لیں  جانے ہوئے دنوں  میں  اس پر کہ انہیں  روزی دی بے زبان چوپائے تو ان میں  سے خود کھاؤ اور مصیبت زدہ     محتاج کو کھلاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں  میں  حج کا عام اعلان کردو  ،  وہ تمہارے پاس پیدل اور ہر دبلی اونٹنی پر(سوار ہوکر) آئیں  گے جوہر دور کی راہ سے آتی ہیں ۔ تاکہ وہ اپنے فوائد پر حاضر ہوجائیں  اور معلوم دنوں  میں   اللہ کے نام کو یاد کریں  اس بات پر کہ  اللہ نے انہیں  بے زبان مویشیوں  سے رزق دیا تو تم ان سے کھاؤ اور مصیبت زدہ     محتاج کو کھلاؤ۔

{وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ:اور لوگوں  میں  حج کا عام اعلان کردو ۔} کعبہ شریف کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوحکم دیا گیا کہ اب لوگوں  کومیرے گھرآنے کی دعوت



[1] ۔۔۔ مسجد کی صفائی ستھرائی سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسالے ’’مسجدیں  صاف رکھئے‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔



Total Pages: 235

Go To