Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جن کی آنکھوں  پر میری یاد سے پردہ پڑا تھا اور حق بات سن نہ سکتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جن کی آنکھیں  میری یاد سے پردے میں  تھیں  اور حق بات سن نہ سکتے تھے ۔

{اَلَّذِیْنَ:وہ لوگ جو۔}  اس سے پہلی آیت میں  کفار کے بارے میں  فرمایا کہ ہم قیامت کے دن ان کے سامنے جہنم لائیں  گے ، اب اس آیت میں  کافروں  کے بارے میں  مزید فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں  جن کی آنکھیں  میری یاد سے پردے میں  تھیں  اور وہ آیاتِ الہٰیہ اور قرآن  ، ہدایت و بیان  ،  دلائلِ قدرت اور ایمان سے اندھے بنے رہے اور ان میں  سے کسی چیز کو وہ نہ دیکھ سکے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے رسول کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ عداوت رکھنے کے باعث حق بات سن نہ سکتے تھے۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۱ ،  ۳ / ۲۲۶-۲۲۷)

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَؕ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا(۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا کافر یہ سمجھے ہیں  کہ میرے بندوں  کو میرے سوا حمایتی بنالیں  گے بیشک ہم نے کافروں  کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں  کہ میرے بندوں  کو میرے سوا حمایتی بنالیں  گے بیشک ہم نے کافروں  کی مہمانی کیلئے جہنم تیار کر رکھی ہے۔

{اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا:تو کیا کافر سمجھتے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافر یہ سمجھتے ہیں  کہ میرے بندوں  جیسے حضرت عیسیٰ ،  حضرت عزیر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں  کو میرے سوا حمایتی بنالیں  گے اور ان سے کچھ نفع پائیں  گے؟ ان کایہ گمان فاسد ہے  ، بلکہ وہ بندے انہیں  اپنا دشمن سمجھتے اور ان سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں ۔( روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۲ ،  ۵ / ۳۰۳ ،  خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۲ ،  ۳ / ۲۲۷ ،  ملتقطاً)اور کافروں  کا گمان فاسد ہونے کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ،  اولیاء رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ  اور ملائکہ ،  ایمان والوں  کے مددگار ہوکر ان کی شفاعت کریں  گے نہ کہ کافروں  کی۔

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا ہم تمہیں  بتادیں  کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں  بتادیں  کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟

{قُلْ:تم فرماؤ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ہم تمہیں  بتادیں  کہ وہ کون لوگ ہیں  جنہوں  نے عمل کرنے میں  مشقتیں  اُٹھائیں  اور یہ امید کرتے رہے کہ ان اعمال پر فضل و عطا سے نوازے جائیں  گے مگر ا س کی بجائے ہلاکت و بربادی میں  جا پڑے ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا وہ لوگ یہودی اور عیسائی ہیں  ۔بعض مفسرین نے کہا کہ وہ راہب لوگ ہیں  جو گرجوں  میں  خَلْوَت نشین رہتے تھے ۔ حضرت علی مرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ یہ لوگ اہلِ حَروراء یعنی خارجی لوگ ہیں ۔( خازن ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۳ ،  ۳ / ۲۲۷ ،  روح البیان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۰۳ ،  ۵ / ۳۰۴ ،  ملتقطاً)اورحقیقت میں  سب ایک ہی مفہوم کی مختلف تعبیریں  ہیں  کیونکہ اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو عبادت یا ظاہری اچھے اعمال میں  محنت و مشقت تو کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ کسی ایسی چیز کا مرتکب بھی ہوتا ہے جس سے اس کا عمل مردود ہوجائے جیسے کفر۔

ظاہری اعمال اچھے ہونا حق پر ہونے کی دلیل نہیں :

            اس سے اشارۃً یہ معلوم ہو اکہ کسی کے ظاہری اعمال اچھے ہونا اس کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں  ،  اور صحیح بخاری میں  تو خارجیو ں  سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں  کو ان کی نمازوں  کے مقابلے میں  اور اپنے روزوں  کو ان کے روزوں  کے مقابلے میں  حقیر جانو گے  ، یہ قرآن پڑھیں  گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں  اترے گا ،  یہ دین سے ایسے نکل جائیں  گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔( بخاری ،  کتاب المناقب ،  باب علامات النبوّۃ فی الاسلام ،  ۲ / ۵۰۳ ،  الحدیث: ۳۶۱۰)

خارجیوں  کا مختصر تعارف :

            خارجیوں  میں  سب سے پہلا اور ان میں  سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں  گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور ا س کے ساتھیوں  کے بارےمیں  حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں  گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں  خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار ،  شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں  مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ بھی حیران ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کاایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں  نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھی مَعَاذَ اللہ  مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر آپ کَرَّمَ  اللہ  تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جنگ کی تھی۔ صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضت ، تقویٰ و طہارت اور رات رات بھر تلاوت ِقرآن کرنے کو خاطر میں  نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں  قتل کیا۔

            اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں  ،  رقت انگیز اور درد بھری آواز میں  قرآنِ مجید کی تلاوتیں  ،   اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں  اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابلِ قبول نہیں  جب تک ا س کے عقائد درست نہ ہوں  ،  لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرتِ عبادت ،  تقویٰ و طہارت اور دیگر نیک نظر آنے والی چیزوں  سے ہر گزمتأثِّر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں  کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دورہی رہے کہ اسی میں  اس کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴)

 



Total Pages: 239

Go To