Book Name:Sirat ul jinan jild 6

بندے اور رسول ہیں ۔ (ت)  بندے ہیں  خدا نہیں  ،  رسول ہیں  خدا سے جدا نہیں  ،  شَیْطَنَت اس کی کہ دوسرا کلمہ امتیازِ اعلیٰ چھوڑ کرپہلے کلمہ تواضع پر اِقتصار کرے۔( فتاوی رضویہ ،  ۱۴  /  ۶۶۲-۶۶۵)

            صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’صورتِ خاصہ میں  کوئی بھی آپ (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا مثل نہیں  کہ  اللہ تعالیٰ نے آپ ( صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کو حسن و صورت میں  بھی سب سے اعلیٰ و بالا کیا اور حقیقت و روح و باطن کے اعتبار سے تو تمام انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )اوصافِ بشر سے اعلیٰ ہیں  ،  جیسا کہ شفاء قاضی عیاض (قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  کی کتاب ’’شفاء‘‘) میں  ہے اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے شرح مشکوٰۃ میں  فرمایا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کے اَجسام و ظواہر تو حدِّ بشریت پر چھوڑے گئے اور اُن کے اَرواح و بَواطن بشریت سے بالا اور مَلاءِ اعلیٰ سے متعلق ہیں  ۔ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہِ  نے سورۂ  والضُّحیٰ کی تفسیر میں  فرمایا کہ آپ کی بشریت کا وجود اصلا ًنہ رہے اور غلبۂ انوارِحق آپ پر علی الدَّوام حاصل ہو۔ بہرحال آپ (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی ذات و کمالات میں  آپ کا کوئی بھی مثل نہیں ۔ اس آیتِ کریمہ میں  آپ کو اپنی ظاہری صورتِ بشریہ کے بیان کا اظہارِ تواضع کے لئے حکم فرمایا گیا ،  یہی فرمایا ہے حضرت ابن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے۔(خزائن العرفان ،  الکہف ،  تحت الآیۃ: ۱۱۰ ،  ص۵۶۹)

ترا مسند ِناز ہے عرشِ بریں  تِرا محرمِ راز ہے روحِ امیں

تو ہی سرورِ ہر دو جہاں  ہے شہا تِرا مثل نہیں  ہے خدا کی قسم

سیّد المرسَلینصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بشر کہنے سے متعلق 3 اَہم باتیں :

            یہاں  تاجدارِ رسالتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بشر کہنے سے متعلق 3 اَہم باتیں  یاد رکھیں :

            پہلی بات یہ کہ کسی کو جائز نہیں  کہ وہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اپنے جیسا بشر کہے کیونکہ جو کلمات عزت و عظمت والے اصحاب عاجزی کے طور پر فرماتے ہیں  انہیں  کہنا دوسروں  کے لئے روا نہیں  ہوتا۔ حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’واضح رہے کہ یہاں  ایک ادب او رقاعدہ ہے جسے بعض اَصفیا اور اہل ِتحقیق نے بیان کیا ہے اور اسے جان لینا اور اس پر عمل پیرا ہونا مشکلات سے نکلنے کا حل اور سلامت رہنے کا سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کسی مقام پر اللّٰہتعالیٰ کی طرف سے کوئی خطاب ،  عتاب ،  رعب ودبدبہ کا اظہار یا بے نیازی کا وقوع ہو مثلاً آپ ہدایت نہیں  دے سکتے ،  آپ کے اعمال ختم ہوجائیں  گے ،  آپ کے لئے کوئی شے نہیں  ،  آپ حیاتِ دُنْیَوی کی زینت چاہتے ہیں ،  اور اس کی مثل دیگر مقامات ،  یا کسی جگہ نبی کی طرف سے عبدیَّت ،  انکساری ،  محتاجی و عاجزی اور مسکینی کا ذکر آئے مثلاً میں  تمہاری طرح بشر ہوں  ،  مجھے اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے عبد کو آتا ہے اور میں  نہیں  جانتا اس دیوار کے اُدھر کیا ہے ،  میں  نہیں  جانتا میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا ،  اور اس کی مثل دیگر مقامات۔ ہم امتیوں  اور غلاموں  کو جائز نہیں  کہ ان معاملات میں  مداخلت کریں  ،  ان میں  اِشتراک کریں  اور اسے کھیل بنائیں  ،  بلکہ ہمیں  پاسِ ادب کرتے ہوئے خاموشی وسکوت اور تَوَقُّف کرنا لازم ہے  ،  مالک کا حق ہے کہ وہ اپنے بندے سے جو چاہے فرمائے ،  اس پر اپنی بلندی و غلبہ کا اظہار کرے ،  بندے کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے مالک کے سامنے بندگی اور عاجزی کا اظہار کرے ،  دوسرے کی کیا مجال کہ وہ اس میں  دخل اندازی کرے اور حدِّ ادب سے باہر نکلنے کی کوشش کرے ،  اس مقام پر بہت سے کمزور اور جاہل لوگوں  کے پاؤں  پھسل جاتے ہیں  جس سے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں  ،  اللّٰہتعالیٰ محفوظ رکھنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ و اللہ تعالٰی اعلم۔( مدارج النبوت ،  باب سوم در بیان فضل وشرافت ،  وصل در ازالۂ شبہات ،  ۱ / ۸۳-۸۴)

            دوسری بات یہ کہ جسے  اللہ تعالیٰ نے فضائلِ جلیلہ اور مَراتبِ رفیعہ عطا فرمائے ہوں  ،  اُس کے ان فضائل و مراتب کا ذکر چھوڑ کر ایسے عام وصف سے اس کا ذکر کرنا جو ہر خاص و عام میں  پایا جائے  ،  اُن کمالات کو نہ ماننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس لئے سلامتی اسی میں  ہے کہ فضیلت و مرتبے پر فائز ہستی کا ذکر اس کے فضائل اور ان اوصاف کے ساتھ کیا جائے جن کی وجہ سے وہ دوسروں  سے ممتاز ہے اور یہی نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا طریقہ ہے  ، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : تاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبرستان میں  تشریف لے گئے تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ‘‘ بے شک اگر  اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں  ،  میری خواہش ہے کہ ہم اپنے (دینی) بھائیوں  کو دیکھیں ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  کیا ہم آپ کے (دینی ) بھائی نہیں ؟ ارشاد فرمایا ’’( دینی بھائی ہونے کے ساتھ تمہاری خصوصیت یہ ہے کہ) تم میرے صحابہ ہو اور ہمارے (صرف دینی) بھائی وہ ہیں  جو ابھی تک نہیں  آئے۔( مسلم ،  کتاب الطہارۃ ،  باب استحباب اطالۃ الغرّۃ والتحجیل فی الوضو ء ،  ص۱۵۰ ،  الحدیث: ۳۹(۲۴۹))

            اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُنے فرمایا ’’جب تم رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر درود بھیجا کرو تو اچھی طرح بھیجا کرو ،  تمہیں  کیا پتہ کہ شاید وہ حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے پیش کیا جاتا ہو۔ لوگوں  نے عرض کی: تو ہمیں  سکھا دیجئے ۔آپ نے فرمایا: یوں  پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَا تَکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَا تِکَ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ اِمَامِ الْخَیْرِ  وَقَائِدِ الْخَیْرِ وَرَسُولِ الرَّحْمَۃِ اَللّٰہُمَّ ابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًایَغْبِطُہُ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالآخِرُوْنَ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰہُمَّبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ‘‘(ابن ماجہ ،  کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا ،  باب الصلاۃ علی النبی صلی  اللہ علیہ وسلم ،  ۱ / ۴۸۹ ،  الحدیث: ۹۰۶ ،  مسند ابی یعلی ،  مسند عبد  اللہ بن مسعود ،  ۴ / ۴۳۸ ،  الحدیث: ۵۲۴۵ ،  ملتقطاً)

            اور حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو بشر کہنے میں  راہِ سلامت یہ ہے کہ نہ تو آپ کی بشریت کا مُطْلَقاً انکار کیا جائے اور نہ ہی کسی امتیازی وصف کے بغیر آپ کی بشریت کا ذکر کیا جائے بلکہ جب حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بشریت کا ذکر کیا جائے تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو افضل البشر یا سیّد البشر کہا جائے یا یوں  کہا جائے کہ آپ کی ظاہری صورت بشری ہے اور باطنی حقیقت بشریَّت سے اعلیٰ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’جو یہ کہے کہ رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہ وَسَلَّمَ کی صورتِ ظاہری بشری ہے (اور) حقیقت ِباطنی بشریت سے ارفع واعلیٰ ہے ،  یا یہ (کہے) کہ حضور اوروں  کی مثل بشر نہیں   ، وہ سچ کہتا ہے اور جو مُطْلَقاً حضور سے بشریت کی نفی کرے وہ کافر ہے ، قال تعالٰی

 



Total Pages: 235

Go To