Book Name:Sirat ul jinan jild 6

تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ نے انہیں  مچھلی کے پیٹ میں  ڈال دیا ،  وہاں  کئی قسم کی تاریکیاں  تھیں  جیسے دریا کی تاریکی  ،  رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی  ،  ان اندھیروں  میں  حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّسے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ ،  تیرے سوا کوئی معبود نہیں  اور تو ہرعیب سے پاک ہے ،  بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں  اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ص۷۲۴)

 مقبول دعائیہ کلمات:

            حضرت سعدرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ، رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں  جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  ۸۱-باب ،  ۵ / ۳۰۲ ،  الحدیث: ۳۵۱۶)

            حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :ہم نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قریب بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں  تمہیں  ایسی چیز کے بارے میں  خبر نہ دوں  کہ جب تم میں  سے کسی شخص پر

کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں  میں  سے کوئی بلا نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کی گئی :کیوں  نہیں  !ارشاد فرمایا ’’(وہ چیز) حضرت یونس کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے۔(مستدرک ، کتاب الدعاء والتکبیر والتہلیل۔۔۔الخ ، من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب  اللہ لہ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث:۱۹۰۷)

            حضرت سعد بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں  چالیس مرتبہ  ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کے ساتھ دعا مانگے  ،  پھر وہ اس مرض میں  فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں  گے۔( مستدرک  ،  کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ  ،  ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ  ،  ۲  /  ۱۸۳  ،  الحدیث: ۱۹۰۸)

{فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ:تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں  گے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ  اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے ،  اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں  تو انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ  اللہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں  کہ حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ  اللہ تعالیٰ انہیں  پکڑنے پر قادر نہیں  بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ  اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں  فرمائے گا۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۷ ،  ۸ / ۱۸۰)

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے  ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  نے بھی اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  اور دیگر معتبر مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں  لفظ ’’لَنْ نَّقْدِرَ‘‘کا ترجمہ’’ہم تنگی نہ کریں  گے‘‘کیا ہے۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں  گے مسلمانوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں  کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔

{فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ:تو ہم نے اس کی پکار سن لی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں  کو ایسے ہی مصیبتوں  اور تکلیفوں  سے نجات دیتے ہیں  جب وہ ہم سے فریاد کریں  اور دعا کریں۔(مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ص۷۲۵ ،  ابو سعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۸ ،  ۳ / ۵۳۳ ،  ملتقطاً)

 حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعامسلمانوں  کے لیے بھی ہے:

            حضرت سعد بن مالک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے  ، رسولُ  اللہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا میں  تمہاری  اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں  جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے توعطاہوجائے ،  وہ حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں  نے اندھیروں  میں  تین بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ  اللہ ! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  یہ حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ خاص تھی یاتمام مسلمانوں  کے لیے ہے ؟ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا’’ کیاتم نے  اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں  سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں  کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔( مستدرک  ،  کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ  ،  ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ  ،  ۲  /  ۱۸۳  ،  الحدیث: ۱۹۰۸) مراد یہ ہے کہ یہ دعا حضرت یونس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے خاص نہیں  مسلمانوں  کے لیے بھی ہے ،  جب وہ ان الفاظ کے ساتھ دعامانگیں  گے تو ان کی دعا بھی قبول ہو گی۔

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا  ،  اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔

{وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ:اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔} یہاں سے حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے  اللہ



Total Pages: 235

Go To