Book Name:Sirat ul jinan jild 6

{وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ:اور یہ (سب) ہم ہی کرنے والے تھے۔} یعنی حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو معاملہ سمجھا دینا ،  حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو حکومت دینا اور پہاڑوں   ، پرندوں  کو حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام

کاتابع بنا دینا ،  یہ سب ہمارے ہی کام تھے اگرچہ تمہارے نزدیک یہ کام بہت عجیب و غریب ہیں ۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ۳ / ۲۸۵ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۹ ،  ص۲۷۵ ،  ملتقطاً)

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ(۸۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں  تمہاری آنچ سے بچائے تو کیا تم شکر کروگے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہارے فائدے کیلئے اسے ایک خاص لباس کی صنعت سکھا دی تاکہ تمہیں  تمہاری جنگ کی آنچ سے بچائے تو کیا تم شکر اداکروگے؟

{وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ:اور ہم نے تمہارے فائدے کیلئے اسے ایک خاص لباس کی صنعت سکھا دی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے فائدے کے لئے حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک لباس یعنی زرہ بنانا سکھا دیا جسے جنگ کے وقت پہنا جائے ،  تاکہ وہ جنگ میں  دشمن سے مقابلہ کرنے میں تمہارے کام آئے اور جنگ کے دوران تمہارے جسم کو زخمی ہونے سے بچائے ،  تو اے حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے گھر والو! تم ہماری اس نعمت پر ہمارا شکر ادا کرو۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۳ / ۲۸۵ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ص۷۲۳ ،  ملتقطاً)

انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیشے:

             انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مختلف پیشوں  کو اختیار فرمایا کرتے اور ہاتھ کی کمائی سے تَناوُل فرمایا کرتے تھے ،  چنانچہ حضرت ادریس عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسلائی کا کام کیا کرتے تھے ،  حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑھئی کا ،  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکپڑے کا ،  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاشتکاری کا ،  حضرت موسیٰ اور حضرت شعیب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبکریاں  چرانے کا ،  حضرت صالح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامچادر بنانے کا کام کیا کرتے تھے۔( روح البیان ،   الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۵ / ۵۰۹ ،  ۵۱۰  ،  قرطبی ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۸۰ ،  ۶ / ۱۸۵ ،  الجزء الحادی عشر ،  ملتقطاً)اور ہمارے آقا دو عالَم کے داتا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اگرچہ بطورِ خاص کوئی پیشہ اختیار نہیں  فرمایا لیکن آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بکریاں  چرائیں  ،  تجارت فرمائی اور کچھ دیگر کام بھی فرمائے ہیں  لہٰذا کسی جائز کام اور پیشے کو گھٹیا نہیں  سمجھنا چاہئے۔

حلال رزق حاصل کرنے کیلئے جائز پیشہ اختیار کرنے کے فضائل:

             حلال رزق حاصل کرنے کے لئے جو جائز ذریعہ ،  سبب ،  پیشہ اور صنعت اختیار کرنا ممکن ہو اسے ضرور اختیار کرنا چاہئے اور ا س مقصد کے حصول کے لئے کسی جائز پیشے یا صنعت کو اختیار کرنے میں  شرم و عار محسوس نہیں  کرنا چاہئے  ،  ترغیب کے لئے یہاں  حلال رزق حاصل کرنے کیلئے جائز پیشہ اختیار کرنے کے چار فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت مقدام رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،  نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کسی نے ہر گز اس سے بہتر کھانا نہیں  کھایا جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے اور بے شک  اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤدعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔( بخاری ،  کتاب البیوع ،  باب کسب الرّجل وعملہ بیدہ ،  ۲ / ۱۱ ،  الحدیث: ۲۰۷۲)

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اگر تم میں  سے کوئی اپنی پیٹھ پر لکڑیوں  کا گٹھا لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے ، پھر کوئی اسے دے یا کوئی منع کر دے۔( بخاری ،  کتاب البیوع ،  باب کسب الرّجل وعملہ بیدہ ،  ۲ / ۱۱ ،  الحدیث: ۲۰۷۴)

(3)…حضرت عبد اللہ بن عمررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں : کسی نے عرض کی :یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ ارشاد فرمایا ’’ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور اچھی خریدو فروخت (یعنی جس میں  خیانت اور دھوکہ وغیرہ نہ ہو)۔ ( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۵۸۱ ،  الحدیث:۲۱۴۰)

(4)…حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَاسے روایت ہے ، حضور پُر نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ پیشہ کرنے والے مومن بندے کو محبوب رکھتا ہے۔( معجم الاوسط ،  باب المیم ،  من اسمہ: مقدام ،   ۶ / ۳۲۷ ،  الحدیث: ۸۹۳۴)

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ(۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور سلیمان کے لیے تیز ہوا مسخر کردی کہ اس کے حکم سے چلتی اس زمین کی طرف جس میں  ہم نے برکت رکھی اور ہم کو ہر چیز معلوم ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تیز ہوا کوسلیمان کے لیے تابع بنادیا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں  ہم نے برکت رکھی تھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں ۔

{وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً:اور تیز ہوا کوسلیمان کے لیے تابع بنادیا۔} اس سے پہلے وہ انعامات ذکر کئے گئے جو  اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر فرمائے تھے اور اب یہاں  سے وہ انعامات بیان کئے جا رہے ہیں  جو  اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر فرمائے ،  چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے تیز ہوا کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تابع بنادیا اور یہ ہواحضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حکم سے شام کی اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں  ہم نے نہروں  ، درختوں  اور پھلوں  کی کثرت سے برکت رکھی تھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ۸ / ۱۶۹ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۸۱ ،  ص۷۲۳ ،  ملتقطاً)

حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بادشاہی اور عاجزی:

            اس سے معلوم ہو اکہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سلطنت عام تھی اور  اللہ تعالیٰ نے آپ کو انسانوں  اور جنوں  کے ساتھ ساتھ ہو اپر بھی حکومت عطا کی تھی ،  اتنی عظیم الشّان سلطنت کے مالک ہونے کے باوجود آپ فخرو تکبر سے انتہائی دور اور عاجزی واِنکساری کے عظیم پیکر تھے۔چنانچہ ایک روایت میں  ہے ،  حضرت سلیمان عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہمراہیوں  کے درمیان یوں  جارہے تھے کہ پرندوں  نے آپ پر سایہ کررکھا تھا اور جن و انسان آپ کی دائیں  بائیں  جانب تھے ۔ آپعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار کے



Total Pages: 235

Go To