Book Name:Sirat ul jinan jild 6

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم نے فرمایا اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔

{قُلْنَا:ہم نے فرمایا۔} جب حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آگ میں  ڈالا گیا تو  اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ چنانچہ آگ کی گرمی زائل ہو گئی اور روشنی باقی رہی اور اس نے ان رسیوں  کے سوا اور کچھ نہ جلایا جن سے آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو باندھا گیا تھا۔( جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ص۲۷۴)

            حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اگر اللہ تعالیٰ ’’سَلٰمًا‘‘نہ فرماتاتوآگ کی ٹھنڈک کی وجہ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  انتقال فرما جاتے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۳ / ۲۸۲)

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں  نے اس کا برا چاہا تو ہم نے انہیں  سب سے بڑھ کر زیاں  کار کردیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے ابراہیم کے ساتھ برا سلوک کرنا چاہا تو ہم نے انہیں  سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے بنادیا۔

{وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا:اور انہوں  نے ابراہیم کے ساتھ برا سلوک کرنا چاہا ۔} ارشاد فرمایا کہ انہوں  نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ برا سلوک کرنا چاہا تو ہم نے انہیں  سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے بنادیا کہ ان کی مراد پوری نہ ہوئی اور کوشش ناکام رہی اور  اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر مچھر بھیجے جو ان کے گوشت کھا گئے اور خون پی گئے اور ایک مچھر نمرود کے دماغ میں  گھس گیا اور اس کی ہلاکت کا سبب ہوا۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ۳ / ۲۸۳)

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ(۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے اور لوط کو نجات بخشی اس زمین کی طرف جس میں  ہم نے جہان والوں  کے لیے برکت رکھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات عطا فرمائی جس میں  ہم نے جہان والوں  کے لیے برکت رکھی تھی۔

{وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا:اور ہم نے اسے اور لوط کو نجات عطا فرمائی ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت ابراہیمعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نمرود اور ا س کی قوم سے نجات عطا فرمائی اور انہیں  عراق سے اس سرزمین کی طرف روانہ کیا جس میں  ہم نے جہان والوں  کے لیے برکت رکھی تھی۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ۳ / ۲۸۳)

حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مختصر تعارف:

            حضرت لوط عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بھتیجے تھے  ، آپ کے والد کا نام ہاران ہے اوریہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا بھائی تھا ۔جب یہ دونو ں  حضرات ملک ِشام پہنچے تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فلسطین کے مقام پر ٹھہرے اور حضرت لوطعَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مُؤْتَفِکَہ میں  قیام فرمایا اور ان دونوں  مقامات میں  ایک دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔( جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ص۲۷۴)

برکت والی سرزمین:

            اس سر زمین سے شام کی زمین مراد ہے اور اس کی برکت یہ ہے کہ یہاں  کثرت سے انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوئے اور تمام جہان میں  ان کے دینی برکات پہنچے اور سرسبزی و شادابی کے اعتبار سے بھی یہ خطہ دوسرے خطوں  پر فائق ہے ،  یہاں  کثرت سے نہریں  ہیں ،  پانی پاکیزہ اور خوش گوار ہے اور درختوں  ،  پھلوں  کی کثرت ہے۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ص۷۲۱ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ص۲۷۴ ،  ملتقطاً)

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةًؕ-وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے اسحق عطا فرمایا اور یعقوب پوتا اور ہم نے ان سب کو اپنے قربِ خاص کا سزاوار کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق عطا فرمایا اور مزید یعقوب (پوتا) اور ہم نے ان سب کو اپنے خاص قرب والے بنایا۔

{وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَؕ-وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً:اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب مزید عطا فرمایا۔} یہاں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پرکی گئی مزید نعمتوں  کابیان فرمایا گیا کہ ہم نے انہیں  حضرت اسحق عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیٹا اور حضرت یعقوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپوتا عطا فرمائے ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے  اللہ عَزَّوَجَلَّسے بیٹے کے لیے دعا کی تھی مگر  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں  بیٹے کے ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جوکہ بغیرسوال کے عطا کیا گیا اور ان سب کو  اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص قرب والا بنایا۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ص۷۲۱-۷۲۲)

نیک اولاد کا فائدہ:

            اس سے معلوم ہوا کہ نیک اولاد  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاص رحمت ہے ۔ نیک اولاد وہ اعلیٰ پھل ہے جو دنیا اور آخرت دونوں  میں  کام آتا ہے ،  اس لئے  اللہ تعالیٰ سے جب بھی اولاد کے لئے دعا کریں  تو نیک اور صالح اولاد کی ہی دعا کریں ۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِۚ-وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ(۷۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے انہیں  امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں  اور ہم نے انہیں  وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے انہیں  امام بنایا کہ ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے ہیں  اور ہم نے ان کی طرف اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ ہماری



Total Pages: 239

Go To