Book Name:Sirat ul jinan jild 6

گئے  ، بے شک ہم نبی کی بات پر توجہ نہ دے کر اور ان پر ایمان نہ لا کر اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والے تھے۔( ابوسعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۳ / ۴۲۰ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ص۷۱۷-۷۱۸ ،  ملتقطاً)

 غفلت و بدبختی کا شکار لوگوں  کا حال:

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  :اس آیت میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غفلت و بدبختی کا شکار لوگ دنیا میں  انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تنبیہ اور اولیاءِ کرام رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِمکے وعظ سے نصیحت حاصل نہیں  کرتے یہاں  تک کہ موت کے بعد انہیں   اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آثار میں  سے کوئی اثر پہنچے ،  کیونکہ ابھی لوگ سو رہے ہیں  اور جب انہیں  موت آئے گی تو یہ بیدار ہو جائیں  گے  ، پھر یہ اپنے گناہوں  کا اعتراف کریں  گے اور اپنی جانوں  پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہائے بربادی ،  ہائے ہلاکت پکاریں  گے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ا س کی ناراضی کے اسباب سے بچے اور رحمت و نجات کے دروازے کی طرف آئے  ،  اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیز گاری کا راستہ اختیار کرے اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے سے بچے۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۵ / ۴۸۵)

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم عدل کی ترازوئیں  رکھیں  گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں  گے اور ہم کافی ہیں  حساب کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں  گے تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگااور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گی تو ہم اسے لے آئیں  گے اور ہم حساب کرنے کیلئے کافی ہیں ۔

{وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ:اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں  گے جن کے ذریعے اعمال کا وزن کیاجائے گا تاکہ ان کی جزا دی جائے تو کسی جان پراس کے حقوق کے معاملے میں  کچھ ظلم نہ ہوگااور اگر اعمال میں  سے کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گی تو ہم اسے لے آئیں  گے اور ہم ہر چیز کا حساب کرنے کیلئے کافی ہیں ۔( روح البیان ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۵ / ۴۸۵-۴۸۶ ،  جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ص۲۷۳ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ میزان کا معنی اوراعمال کے وزن کی صورتوں  نیز میزان سے متعلق مزید کلام سورہ اَعراف کی آیت نمبر 8 کی تفسیر کے تحت گزر چکا ہے ۔

میزان کے خطرے سے نجات پانے والا شخص:

            قیامت کے ہولناک مراحل میں  سے ایک انتہائی ہولناک مرحلہ وہ ہے جب لوگوں  کے اعمال کا وزن کیا جائے گااور یہاں  کسی کے ثواب میں  کمی کر کے یا کسی کے گناہوں  میں  اضافہ کر کے اس پر ظلم نہیں  کیا جائے گا بلکہ ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف ہو گا اور ہر ایک کو ا س کا حق دیاجائے گا لہٰذا اس مرحلے میں  کامیابی حاصل کرنے کے لئے دنیا میں  تیاری بہت ضروری ہے۔ ترمذی شریف میں  حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاسے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوا اور اس نے آپ کے سامنے بیٹھ کر عرض کی : یا رسولَ  اللہ !صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  میرے کچھ غلام ہیں  جو مجھ سے جھوٹ بولتے  ،  میرے ساتھ خیانت کرتے اور میری نافرمانی کرتے ہیں   ،  میں  انہیں  گالیاں  دیتا اور مارتا ہوں  ،  تو ان سے متعلق میرا کیا حال ہو گا؟ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’( جب قیامت کا دن ہو گا تو) ان لوگوں  نے جوتمہاری خیانت کی  ،  تمہاری نافرمانی کی اور تم سے جھوٹ بولا اور جوتم نے انہیں  سزا دی ،  ان سب کا حساب لگایا جائے گا ،  پھر اگر تیری سزا ان کے جرموں  کے برابر ہو گی تو حساب بے باق ہے ،  نہ تیرا ان کے ذمہ نہ ان کا تیرے ذمہ کچھ ہو گا ،  اور اگر تیرا انہیں  سزا دینا ان کے قصوروں  سے کم ہوگا تو تجھے ان پر بزرگی حاصل ہوگی اور اگر تیرا انہیں  سزا دینا ان کے قصور سے زیادہ ہوا تو زیادتی کا تجھ سے بدلہ لیا جائے گا۔ وہ شخص ایک طرف ہوگیا اور چیخیں  مار کررونے لگا ،  نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا ’’ کیا تم نے  اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں  پڑھا

’’وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـا‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو رکھیں  گے تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔‘‘

            اس شخص نے عرض کی :میں  اپنے اوران غلاموں  کے لیے ان کی جدائی سے بہتر کوئی چیز نہیں  پاتا  ، میں  آپ کو گواہ بناتا ہوں  کہ یہ سارے آزاد ہیں ۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الانبیاء علیہم السلام ،  ۵ / ۱۱۱ ،  الحدیث: ۳۱۷۶)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :میزان کے خطرے سے وہی بچ سکتا ہے جس نے دنیا میں  اپنا محاسبہ کیا ہو اور اس میں  شرعی میزان کے ساتھ اپنے اعمال  ،  اقوال اور خطرات و خیالات کو تولا ہو ،  جیسا کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا ’’اپنے نفسوں  کا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور (قیامت کے دن) وزن کرنے سے پہلے خود وزن کرلو۔‘‘ اپنے نفس کے حساب (یا محاسبہ) سے مراد یہ ہے کہ بندہ مرنے سے پہلے روزانہ سچی توبہ کرے اور  اللہ تعالیٰ کے فرائض میں  جو کوتاہی کی ہے اس کا تَدارُک کرے اور لوگوں  کے حقوق ایک ایک کوڑی کے حساب سے واپس کرے اور اپنی زبان ،  ہاتھ یا دل کی بدگمانی کے ذریعے کسی کی بے عزتی کی ہو تو اس کی معافی مانگے اور ان کے دلوں  کو خوش کرے حتّٰی کہ جب اسے موت آئے تو اس کے ذمہ نہ کسی کا کوئی حق ہو اور نہ ہی کوئی فرض ،  تو یہ شخص کسی حساب کے بغیر جنت میں  جائے گا۔ اور اگر وہ لوگوں  کے حقوق ادا کرنے سے پہلے مرجائے تو (قیامت کے دن) حق دار اس کا گھیراؤ کریں  گے ،  کوئی اسے ہاتھ سے پکڑے گا  ، کوئی اس کی پیشانی کے بال پکڑے گا ،  کسی کا ہاتھ اس کی گردن پر ہوگا ،  کوئی کہے گا :تم نے مجھ پر ظلم کیا ،  کوئی کہے گا: تو نے مجھے گالی دی  ،  کوئی کہے گا: تم نے مجھ سے مذاق کیا  ،  کوئی کہے گا :تم نے میری غیبت کرتے ہوئے ایسی بات کہی جو مجھے بری لگتی تھی ،  کوئی کہے گا: تم میرے پڑوسی تھے لیکن تم نے مجھے اِیذا دی ،  کوئی کہے گا :تم نے مجھ سے معاملہ کرتے ہوئے دھوکہ کیا ،  کوئی کہے گا :تو نے مجھ سے سودا کیا تو مجھ سے دھوکہ کیا اور مجھ سے اپنے مال کے عیب کو چھپایا  ، کوئی کہے گا: تو نے اپنے سامان



Total Pages: 235

Go To