Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ ہم نے انہیں  اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیایہاں  تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی تو کیا وہ نہیں  دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں  سے گھٹاتے آرہے ہیں ۔ تو کیا یہ غالب ہوں  گے ؟

{بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ:بلکہ ہم نے انہیں  اور ان کے باپ دادا کوفائدہ اٹھانے دیا۔} ارشاد فرمایا: بلکہ ہم نے ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیا اور دنیا میں  انہیں  نعمت و مہلت دی یہاں  تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی اور وہ اس سے اور زیادہ مغرور ہوئے اور انہوں  نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں  گے تو کیا وہ نہیں  دیکھتے کہ ہم کفرستان کی زمین کو اس کے کناروں  سے گھٹاتے آرہے ہیں اور روز بروز مسلمانوں  کو اس پر تَسَلُّط دے رہے ہیں  اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے  ،  حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں  اورکفر کی سرزمین گھٹتی چلی آتی ہے اور مکہ مکرمہ کے قریبی علاقوں  پر مسلمانوں  کا تسلط ہوتا جارہا ہے  ،  کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں  جلدی کرتے ہیں  اس کو نہیں  دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں  کرتے  ،  تو کیا یہ غالب ہوں  گے جن کے قبضہ سے زمین دَمْبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسول کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے اَصحاب جو  اللہ تعالیٰ کے فضل سے فتح پر فتح پا رہے ہیں  اور ان کے مقبوضہ علاقے رفتہ رفتہ بڑھتے چلے جارہے ہیں۔(خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۳ / ۲۷۸ ،  مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۷۱۷ ،  ملتقطاً)

غفلت و عذاب کا عمومی سبب:

            اس سے معلوم ہوا کہ لمبی عمر ،  مال کی زیادتی اور زیادہ آرام عموماً غفلت اور  اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب بن جاتے ہیں  اور یہی چیزیں  جب نیکیوں  میں  صَرف ہوں  تو  اللہ تعالیٰ کی رحمت بن جاتی ہیں  ،  جیسے شیطان کی لمبی عمر اس کے لئے زیادہ عذاب کا باعث ہے اور حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دراز عمر شریف عین رحمت ِپروردگار ہے۔

پہلے کافروں  اور اب مسلمانوں  پر زمین کے کناروں  کی کمی:

            ابتداءِ اسلام میں  مسلمان چونکہ قرآنِ مجید کے احکامات اور ا س کی تعلیمات پر کامل طریقے سے عمل پیرا تھے اور انہوں  نے حضور پُر نور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت وپیروی کو مضبوطی سے تھاما ہو اتھا جس کے نتیجے میں   اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں  پر یہ انعام فرمایا کہ کفار کی آبادیوں   ، بستیوں   ، شہروں  اور ملکوں  پران کاغلبہ ختم کرکے مسلمانوں  کو قبضہ عطا کر دیا اور رفتہ رفتہ روم اور ایران کی طاقتور ترین سلطنتیں  مسلمانوں  کے تَسَلُّط میں  آ گئیں  ،  عراق اور مصر کی سر زمین پر مسلمانوں  کا قبضہ ہو گیا ،  افریقی ممالک اور اندلس کے شہر مسلمانوں  کے اقتدار میں  آ گئے اور دنیا کے ایک تہائی حصے پر دینِ اسلام کا پرچم لہرانے لگا ۔

            صدیوں  تک مسلمانوں  کا یہی حال رہا اور اس عرصے میں  مسلمان علمی ،  فنی ،  حربی اور تعمیری میدان میں  ترقی در ترقی کرتے رہے اور یہ دور مسلمانوں  کی خوشحالی اور ترقی کا زریں  دور رہا۔ پھر جب مسلمان قرآنِ مجید کے احکامات اور اس کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونے لگے اور حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت و فرمانبرداری سے رو گردانی شروع کر دی ،  عیش و عشرت کی بزم گرم کرنے اور رَقْص و سُرور کی محفل سجانے لگ گئے ،  ایک دوسرے سے اقتدار چھیننے میں  مصروف ہوئے اور اقتدار کے حصول کی خاطر اسلام کے دشمنوں  کو اپنا مددگار بنانے اور ان سے مدد حاصل کرنے لگ گئے تو ا س کا انجام یہ ہوا کہ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہونا شروع ہو گئی اور آہستہ آہستہ مسلمانوں  کے مفتوحہ علاقے کفار کے قبضے میں  آنے لگ گئے  ، اسلامی سلطنت کی حدود سمٹنے لگ گئیں  اور اب دنیا بھر میں  مسلمانوں  کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے ماضی سے سبق نہ سیکھیں  گے تو کوئی بعید نہیں  کہ مسلمانوں  کا رہا سہا غلبہ و اقتدار بھی ان سے چھن جائے۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ ﳲ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ کہ میں  تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں  اور بہرے پکارنا نہیں  سنتے جب ڈرائے جائیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں  تم کو صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں  سنتے جب انہیں  ڈرایا جائے۔

{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان کافروں  سے فرما دیں  کہ میرا کام یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں  میری طرف جو وحی کی جاتی ہے اِس کے ذریعے میں  تمہیں  اُس عذاب سے ڈراؤں  جس کے آنے کی تم جلدی مچا رہے ہو ،  عذاب کولانا میرا کام نہیں ۔ آیت کے آخر میں  کافروں  کے متعلق فرمایا کہ جیسے بہروں  کو کسی خطرے میں  آواز دی جائے تو انہیں  یہ آواز فائدہ نہیں  دیتی کیونکہ ان میں  کسی کی آواز سے نفع اٹھانے کی صلاحیت نہیں  ہے اسی طرح کفار کی حالت ہے کہ انہیں  عذاب کی وَعِیدیں  فائدہ نہیں  دیتیں  کیونکہ انہوں  نے ہدایت کی بات سننے سے خود کو بہرا کیا ہوا ہے۔

آیت’’قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔

(1)… پیغمبر پر احکام سنا دینا لازم ہے ،  دل میں  اتارنا لازم نہیں  کہ یہ خدا کا کام ہے۔

(2)… جو وعظ سے نفع حاصل نہ کرے ،  وہ بہرا ہے یعنی دل کا بہرا ہے ،  اگرچہ بظاہر اس میں  سننے کی قوت موجود ہو۔

وَ لَىٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر انہیں  تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں  گے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر انہیں  تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں  گے: ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم ظالم تھے۔

{وَ لَىٕنْ مَّسَّتْهُمْ:اور اگر انہیں  چھو جائے۔} اس سے پہلی آیت میں  بیان ہوا کہ عذاب آنے کی خبر سن کرکافروں  پر کوئی اثر نہ ہوا اور یہاں فرمایا کہ جب عذاب آ جائے گاتو پھر انہیں  پتہ چلے گا کہ انہیں  کتنی جلدی اثر ہوتا ہے  ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ  اگر انہیں   اللہ تعالیٰ کے عذاب کا معمولی حصہ پہنچ جائے تو اس وقت یہ ضرور پکاریں  گے کہ ہائے ہم برباد ہو گئے  ، ہم ہلاک ہو



Total Pages: 235

Go To