Book Name:Sirat ul jinan jild 6

ادائیگی ،  جب کُفُومل جائے تو لڑکی کی شادی اور میتکی تجہیز و تکفین کرنے میں  جلدی کرنا ۔ ([1])

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۸)لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۳۹)بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کہتے ہیں  کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔ کسی طرح جانتے کافر اس وقت کو جب نہ روک سکیں  گے اپنے مونہوں  سے آگ اور نہ اپنی پیٹھوں  سے اور نہ ان کی مدد ہو۔بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں  بے حواس کردے گی پھر نہ وہ اسے پھیرسکیں  گے اور نہ انہیں  مہلت دی جائے گی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں  : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب ہوگا ؟اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں  سے اور اپنی پیٹھوں  سے آگ کو نہ روک سکیں  گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔ بلکہ وہ (قیامت)ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں  حیران کردے گی پھر نہ وہ اسے رد کرسکیں  گے اور نہ انہیں  مہلت دی جائے گی۔

{وَ یَقُوْلُوْنَ:اور کہتے ہیں  ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین نے جلدی مچاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا :اے مسلمانوں  کے گروہ! اگر تم سچے ہوتو عذاب یا قیامت کا یہ وعدہ کب پورا ہو گا؟ ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں  سے اور اپنی پیٹھوں  سے دوزخ کی آگ کو نہ روک سکیں  گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی ،  تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور عذاب طلب کرنے میں  جلد ی نہ کرتے۔( قرطبی  ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ : ۳۸-۳۹  ،  ۶ / ۱۶۱  ،  الجزء الحادی عشر  ،  تفسیر کبیر  ،  الانبیاء  ،  تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹ ،  ۸ / ۱۴۵-۱۴۶ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹ ،  ۳ / ۲۷۷ ،  ملتقطاً)نیز کفار کو اپنے عذاب کا حقیقی علم ہوجاتا تو قیامت کا وقت نہ پوچھتے بلکہ اس کیلئے تیاری کرتے۔

{بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً:بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی ۔} کفار کے طلب کردہ عذاب کی شدت بیان کرنے کے بعد  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ کفار کو اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں  بلکہ وہ قیامت ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں  حیران کردے گی ،  پھر نہ وہ اسے کسی حیلے سے ردکرسکیں  گے اور نہ انہیں  توبہ و معذرت کی مہلت دی جائے گی۔( تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۸ / ۱۴۶)

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک تم سے اگلے رسولوں  کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تو مسخرگی کرنے والوں  کا ٹھٹھا انہی کو لے بیٹھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک تم سے اگلے رسولوں  کا مذاق اڑایا گیا تو جس (عذاب ) کا مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا۔

{وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ:اور بیشک تم سے اگلے رسولوں  کا مذاق اڑایا گیا ۔}  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو مزید تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ اے پیارے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  جس طرح آپ کی قوم نے آپ کا مذاق اڑایا اسی طرح ان سے پہلے کے کفار بھی اپنے انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مذاق اڑایا کرتے تھے تو مذاق اڑانے والوں  کا مذاق انہیں  کو لے بیٹھا اور وہ اپنے مذاق اڑانے اور مسخرہ پن کرنے کے وبال و عذاب میں  گرفتار ہوئے۔لہٰذا آپ رنجیدہ نہ ہوں   ،  آپ کے ساتھ اِستہزاء کرنے والوں  کا بھی یہی انجام ہونا ہے۔(تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۸ / ۱۴۶ ،  الانعام ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴ / ۴۸۷ ،  ملتقطاً)

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِؕ-بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ شبانہ روز تمہاری کون نگہبانی کرتا ہے رحمٰن سے بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: رات اور دن میں  رحمٰن کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرے گا؟ بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

{قُلْ:تم فرماؤ۔} اے حبیب! صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،  آپ ان مذاق اڑانے والے مغرور کافروں  سے فرما ئیں  کہ اگر  اللہ تعالیٰ رات اور دن میں  تم پر اپنا عذاب نازل کرے تواس کے عذاب سے تمہاری کون حفاظت کرے گا؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور ایسا ہے جو تمہیں  عذاب سے محفوظ رکھ سکے؟ تو حقیقت میں  یہ لوگ سراسر غفلت میں  پڑے ہوئے ہیں  اور اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَاؕ-لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا ان کے کچھ خدا ہیں  جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں  وہ اپنی ہی جانوں  کو نہیں  بچاسکتے اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:کیا ان کے کچھ خدا ہیں  جو انہیں  ہم سے بچالیں  گے ؟ وہ اپنی ہی جانوں  کی مدد نہیں  کرسکتے اور نہ ہی ان کی ہماری طرف سے مدد و حفاظت کی جاتی ہے۔

{اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا:کیا ان کے کچھ خدا ہیں  جو انہیں  ہم سے بچالیں  گے ؟} ارشاد فرمایا کہ کیا ان کافروں  کے خیال میں  ہمارے سوا ان کے کچھ خدا ہیں  جو انہیں  ہم سے بچاتے ہیں  اور ہمارے عذاب سے محفوظ رکھتے ہیں ؟ ایسا تو نہیں  ہے اور اگر وہ اپنے بتوں  کے بارے میں  یہ اعتقاد رکھتے ہیں  تو ان بتوں  کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہی جانوں  کی مدد نہیں  کرسکتے  ، اپنے پوجنے والوں  کو کیا بچا سکیں  گے اور نہ ہی ان کی ہماری طرف سے مدد و حفاظت کی جاتی ہے۔( خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۳ / ۲۷۸ ،  تفسیرکبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۸ / ۱۴۷ ،  ملتقطاً)

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُؕ-اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں  تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں  دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں  سے گھٹاتے آرہے ہیں  تو کیا یہ غالب ہوں  گے ۔

 



[1] ۔۔۔۔مستقل مزاجی کی اہمیت اور جلد بازی کے نقصانات سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’جلدبازی کے نقصانات‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔



Total Pages: 235

Go To