Book Name:Sirat ul jinan jild 6

کر دیا کہ تلواروں  سے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے اوروہ بجھی ہوئی آ گ کی طرح ہو گئے ۔( جلالین ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۲۷۰)

کون سی توبہ فائدہ مند ہے؟

             اس سے معلوم ہوا کہ عذاب آجانے پر توبہ اوراپنے جرم کا اقرار کرنا بے فائد ہ ہے۔ جیسے پھل وہی درخت دیتا ہے جو وقت پر بویا جائے اور بے وقت کی بوئی ہوئی کھیتی پھل نہیں  دیتی اسی طرح توبہ وہی فائدہ مند ہے جو عذاب آنے سے پہلے کی جائے اور جو توبہ بے وقت کی جائے وہ عذاب دور نہیں  کرتی۔

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنائے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب فضول پیدا نہیں  کیا۔

{وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب فضول پیدا نہیں  کیا۔}  اللہ تعالیٰ نے آسمان  ،  زمین اور جو کچھ ان کے درمیان عجائبات ہیں  ، ان سب کو فضول پیدا نہیں  کیاکہ ان سے کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ انہیں  پیدا کرنے میں  اس کی کثیر حکمتیں  ہیں  اوران بے شمار حکمتوں  میں  سے چند یہ ہیں  کہ ان اَشیاء سے  اللہ تعالیٰ کے بندے اس کی قدرت و حکمت پر اِستدلال کریں  اور انہیں اللہ تعالیٰ کے اوصاف و کمال کی معرفت حاصل ہو  ،  حق وباطل میں  فرق ہو جائے  ، لوگ غوروفکرکریں  ،  غفلت سے بیدارہوں   ، نیک اعمال کریں  اور آخرت میں  اچھی جزا پائیں  اور اس طرح کے خیال کوذہن میں  نہ آنے دیں  کہ عالَم کا سارانظام ایک کھیل تماشہ ہے اور ہرشخص دنیامیں  جوبھی کرتاپھرے اس سے کوئی پوچھنے والانہیں اورنہ ہی آخرت میں  اس سے سوال وجواب ہوگا جیسا کہ بطورِ خاص دَہریوں  کا عقیدہ ہے اور روز بروز ان لوگوں  کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ ﳓ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ(۱۷)بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌؕ-وَ لَكُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں  کرنا ہوتا۔ بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں  تو وہ اس کا بھیجہ نکال دیتا ہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہاری خرابی ہے ان باتوں  سے جو بناتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر ہم کوئی کھیل ہی اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے ہی اختیار کرلیتے اگر ہمیں  کرنا ہوتا۔ بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں  تو وہ اس کادماغ توڑ دیتاہے تو جبھی وہ مٹ کر رہ جاتا ہے اور تمہارے لئے بربادی ہے ان باتوں  سے جو تم کرتے ہو۔

{لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا:اگر ہم کوئی کھیل ہی اختیار کرنا چاہتے ۔}یعنی اگر ہم آسمان و زمین اور ان کے درمیان موجود اَشیاء کو کسی حکمت کے بغیر بے مقصد بنا کر کسی ایسی چیز کو اختیار کرنا چاہتے جس سے کھیلا جائے تو ہم ان کی بجائے اپنے پاس سے ہی کسی چیز کو اختیار کر لیتے ،  لیکن یہ اُلوہِیّت کی شان اور حکمت کے منافی ہونے کی وجہ سے ہمارے حق میں  محال ہے لہٰذا ہمارا کھیل کے لئے کسی چیز کو اختیار کرنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔

            بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  کھیل سے مراد بیوی اور بیٹا ہے اور یہ آیت ان عیسائیوں  کے رد میں  ہے جو حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکو مَعَاذَ اللہ ،   اللہ تعالیٰ کی بیوی اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو  اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں ، چنانچہ اس قول کے مطابق آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر  اللہ تعالیٰ بیوی اور بیٹا اختیار کرنا چاہتا تو وہ انسانوں  میں  سے نہ کرتا بلکہ اپنے پاس موجود حورِ عِین اور فرشتوں  میں  سے کسی کو بیوی اور بیٹا بنا لیتا ،  یونہی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت مریم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہاکی طرح انہیں  لوگوں  کے پاس نہ رکھتا بلکہ اپنے پاس رکھتا کیونکہ بیوی اور بیٹے والے بیوی اوربیٹے اپنے پاس رکھتے ہیں  ، لیکن چونکہ  اللہ تعالیٰ بیوی اور اولاد سے پاک ہے ،  نہ یہ اس کی شان کے لائق ہے اور نہ اس کے حق میں  یہ کسی طرح ممکن ہے ،  اس لئے  اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا ہی نہیں ۔( ابو سعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۳ / ۵۰۹ ،  تفسیر کبیر ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۸ / ۱۲۵ ،  خازن ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۳ / ۲۷۳ ،  ملتقطاً)

{بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ:بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں ۔}یعنی ہماری شان یہ نہیں  کہ ہم کھیل کے لئے کوئی چیز اختیار کریں  بلکہ ہماری شان تو یہ ہے کہ ہم حق کو باطل پر غالب کر تے ہیں  تو وہ باطل کوپورا مٹادیتا ہے اوراسی وقت باطل مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اے کافرو! تمہارے لئے اُن باتوں  کی وجہ سے بربادی ہے جو تم  اللہ تعالیٰ کی شان میں  کرتے ہو اور اس کے لئے بیوی اور بچہ ٹھہراتے ہو۔( ابو سعود ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۳ / ۵۰۹)

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ لَا یَسْتَحْسِرُوْنَۚ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی کے ہیں  جتنے آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  اور اس کے پاس والے اس کی عبادت سے تکبر نہیں  کرتے اور نہ تھکیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  سب اسی کی ملک ہیں  اورجو اللہ کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں  کرتے اور نہ تھکتے ہیں ۔

{وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:اور جوآسمانوں  اور زمین میں  ہیں  سب اسی کی مِلک ہیں ۔}ارشاد فرمایا کہ آسمانوں  اور زمین کی تمام مخلوقات کا مالک  اللہ تعالیٰ ہے اور سب اس کی ملک ہیں  تو کوئی اس کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے ! ملکیت ہونے اور اولاد ہونے میں  مُنافات ہے اور مقرب فرشتے جنہیں   اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس کی بارگاہ میں  قرب و منزلت کا ایک خاص مقام حاصل ہے وہ اس کی عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں  اور نہ ہی عبادت کرنے سے تھکتے ہیں ۔( مدارک ،  الانبیاء ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ، ص۷۱۲)

یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان:رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں  اور سستی نہیں  کرتے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں   ، وہ سستی نہیں  کرتے۔

 



Total Pages: 235

Go To