Book Name:Bemar Abid

مصیبت رب کی طرف سے امتحان ہے اِسی لیے  (حضرتِ سیِّدنا)  ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے نمرود کی آگ میں جاتے وقت اور حضرتِ  ( سیِّدنا امام) حسین   (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے میدان کربلا میں دَفْعِیہ (دَف۔    عِی۔   یَہ۔   یعنی آزمائش دور ہونے)  کی دعا نہ کی،  ورنہ عام حالات میں دوا بھی سنّت ہے اور دعا بھی ۔     ( مراٰۃ المناجیح )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مِرگی  کا روحانی علاج

سُوْرَۃُ الشَّمْس کو پڑھ کر مرگی والے کے کان میں پھونک مارنا بہت مفید ہے۔     (جنتی زیور ص۶۰۲)

نَس چڑھ جانے کی فضیلت

          اُمّ الْمُؤمِنِینحضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے نور کے پیکر،  تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے سنا :   جب مومِن کی نس چڑھ جاتی ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کا ایک گناہ مٹادیتا ہے ،  اُس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کا ایک دَرَجہ بُلند فرماتا ہے۔    (مُعْجَم اَ وْسَط ج۲ ص ۴۸حدیث ۲۴۶۰ )

پیٹ کی بیماری میں مرنے کی فضیلت

      سرکارِ عالی وقار،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ راحت نشان ہے: مَنْ قَتَلَہٗ بَطْنُہٗ لَمْ یُعَذَّبْ فِیْ قَبْرِہٖ۔    یعنی جسے اس کے پیٹ (کی بیماری)  نے مارا اُسے عذاب ِقبر نہ ہوگا۔     (تِرمِذی ج۲ص۳۳۴حدیث۱۰۶۶)  

    مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس کی شرح میں فرماتے ہیں :   یعنی پیٹ کی بیماری سے مرنے والا عذابِ قبر سے محفوظ ہے کیونکہ اسے دنیا میں اس مَرَض کی وجہ سے بہت تکلیف پہنچ چکی ،  یہ تکلیف ِقبر کا دَفْعِیَّہ  (یعنی دُور کرنے والی) بن گئی ۔      ( مراٰۃ ج ۲ ص ۴۲۵)

     ’’یا حسین‘‘       کے چھ حروف کی نسبت سے 6طرح کی بیماریوں میں مرنے والے شہیدوں کی نشاندہی

بعض امراض میں مرنے والا شہید ہے

         {۱}  ’’ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔   ‘‘  (اِس کے حاشیے میں صَدرُالشَّریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے  ہیں : اِس سے مُراد اِستِسقا  (اِس۔   تِس۔   قا۔    یعنی ایسی بیماری جس میں پیٹ بڑھ جاتا ہے اور پیاس بہت لگتی ہے ) یا ’’ دست  (MOTION)  آنا ‘‘ دونوں قول ہیں اور یہ لفظ دونوں کو شامل ہو سکتا ہے لہٰذا ا ُس کے فضل سے امّید ہے کہ دونوں کو شہادت کااجر ملے )   {۲}  ذاتُ الْجَنب ( ذاتُ۔    لْ۔   جَمْبْ۔   یعنی پہلو یا پسلی کے درد )  میں مرنے والا  {۳}  سِل (کہ اس میں پھیپھڑوں میں زخم ہو جاتے اور منہ سے خون آنے لگتا ہے اس)  میں مرنے والا {۴} بخا ر میں مرنے والا  {۵}  مرگی میں مرنے والا {۶} جو مرض میں لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ ﳓ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ40بار کہے اور اسی مرض میں مر جائے  (وہ شہید ہے ) اور اچھا ہو گیا تو اُس کی مغفرت ہو جائے گی۔    (تفصیل کیلئے دیکھئے : بہارِ شریعت ج۱ ص ۸۵۷ تا ۸۶۳ مکتبۃ المدینہ)

 مریض کی عِیادت کا ثواب

  حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدِّیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک،  صاحبِ لَولاک،  سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:   موسیٰ (عَلَیْہِ السَّلَام)  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عرض کی:   مریض کیعِیادت کرنے والے کو کیا اجرملے گا؟  تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشادفرمایا :   ’’اس کے لئے دو فرشتے مقرَّر کئے جائیں گے جوقبر میں ہر روز اس کیعِیادت کریں گے حتّٰی کہ قِیامت آ جائے۔   ‘‘  (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۳ ص۱۹۳ حدیث ۴۵۳۶)

بیمار کو دعا کے لئے کہو

 



Total Pages: 20

Go To