Book Name:Bemar Abid

جواب‘‘ صَفْحَہ 179 پر ہے: اگر کسی نے بیماری، بے روزگاری ، غربت یا کسی مصیبت کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اِعتراض کرتے ہوئے کہا :   ’’اے میرے رب !  تو مجھ پر کیوں ظلم کرتا ہے ؟ حالانکہ میں نے تو کوئی گناہ کیا ہی نہیں ۔   ‘‘ تو وہ کافرہے۔  

زباں پر شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے

نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ثواب کے شوق میں مانگ کر بُخار لیا (حکایت)

        صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا ثواب کمانے کا جذبہ صد کروڑ مرحبا!  کہ ثواب کمانے کے شوق میں دعا مانگ کر بخار حاصِل کر لیا! چنانچِہ حضرتِسیِّدُناابو سَعِید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے عرض کی:   یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!  ہم جن بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں ہمارے لئے ان میں کیا ہے؟ارشاد فرمایا:   (یہ بیماریاں گناہوں کے )  کفّارے ہیں ۔   حضرت ِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:   یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!  اگرچِہ بیماری کم ہی ہو ؟ فرمایا:  ’’ اگر چِہ کانٹا چبھے یا کوئی اور تکلیف پہنچے۔    ‘‘  تو حضرت ِ سیِّدُنا اُبَی بن کَعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے لئے یہ دُعا کی (یااللہ)  :  ’’مرتے دم  تک بخار مجھسے جدا نہ ہو اور یہ بخار مجھے حج ، عمرہ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد اور فرضنماز باجماعت ادا کرنے سے نہ روکے۔   ‘‘ پھر ان کے وِصال تک جس نے بھی انہیں چُھوا بخار کی تَپِش محسوس کی ۔    (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل  ج۴ ص ۴۸ حدیث ۱۱۱۸۳) اللہُ ربُّ العزّت عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  

اٰمین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

یقیناً مسلمان کیلئے بیماریوں اور پریشانیوں میں دونوں جہانوں کی بھلائیاں ہیں ،  بخار ہو یا کوئی سی بیمارییا مصیبت اس سے گناہ مُعاف ہوتے اور جنّت کا سامان ہوتا ہے۔    

بخار تیرے لئے ہے گنہ کا کَفّارہ ([1])

کرے گا صبر تو جنّت کا ہو گا نظّارہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  راہِ خدا میں سردرد  پر صَبْرکی فضیلت

       نور کے پیکر،  تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں سر درد  میں مبتلاہو پھر اُس پر صَبْر کرے تو اُس کے پچھلے گناہ مُعاف کردئیے جائیں گے۔   ‘‘ (مُسنَدُ البَزّارج۶ص۴۱۳حدیث۲۴۳۷)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

طلبۂ علمِ دین اور مَدَنی قافِلوں کے مسافِرین کے لئے خوش خبری

        سُبْحٰنَ اللہ!  راہِ خدا میں نکلنے والوں کی بھی کیا شان ہے!  اِس حدیثِ پاک کے

تحت مجاہِدین کے علاوہ طلبۂ  علمِ دین ،  حج و عمرہ کیلئے گھر سے نکلنے والے اور سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں حصولِ علمِ دین کی غرض سے سفر کرنے والے عاشقانِ رسول بھی شامل ہیں چونکہ یہ سب راہِ خدا میں ہوتے ہیں لہٰذا ان میں سے بھی کسی کے سرکا درد ہوا تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے پچھلے گناہ (صغیرہ)  مُعاف کر دیئے جائیں گے ۔     

 



[1]      ’’گناہ کا کفارہ‘‘  یعنی گناہ کی معافی کا ذَرِیعہ۔



Total Pages: 20

Go To