Book Name:Bemar Abid

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بخار میں جسمانی تکلیف ضَرور ہے مگر اُخروی فائدے بے شمار ہیں ،  لہٰذا گھبرا کر شکوہ وشکایت کرنے کے بجائے صَبْر کر کے اَجر کمانا چاہئے۔    حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے: جو ایک رات بخار میں مبتلا ہواور اس پر صَبْر کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی رہے تو اپنے گناہوں سے ایسے نکل جائے جیسے اُس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جناتھا۔    (شُعَبُ الْاِیمان  ج۷ ص ۱۶۷حدیث ۹۸۶۸)

بخار محشر کی آگ سے بچائے گا

      حضور تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مریض کی عیادت فرمائی تو فرمایا:   تجھے بشارت ہو کہ اللہ تَعَالٰیفرماتا ہے:   بخار میری  آگ ہے اس لئے میں اسے اپنے مومِن بندے پر دنیا میں مُسَلَّط کرتا ہوں تا کہ قیامت کے دن ا س کی آگ کا حصّہ (یعنی بدلہ)  ہو جائے۔    (ابنِ ماجہ ج۴ص۱۰۵ حدیث ۳۴۷۰ )

  بخار کو برا نہ کہو

          سر کا رِ مدینہ ، قرا رِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سائب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پا س تشر یف لے گئے ۔   فر ما یا : تمہیں کیا ہو گیا ہے جو کانپ رہی ہو ؟عر ض کی :   ’’بخا ر آگیا ہے ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں بَرَ کت نہ کرے ۔    ‘‘ اِس پرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:   ’’بخار کو بُر ا نہ کہو کہ یہ تو آدمی کی خطاؤ ں کو اس طر ح دور کر تا ہے جیسے بھٹّی لوہے کے میل کو ۔   ‘‘ ( مسلم  ص۱۳۹۲حدیث ۲۵۷۵)

       مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:   بیماریاں ایک یا دو عُضْوْ کو ہوتی ہیں مگر بخار سر سے پاؤں تک ہر رَگ میں اثر کرتا ہے،  لہٰذا یہ سارے جسم کی خطاؤ ں اور گناہوں کومُعاف کرائے گا ۔      (مراٰۃ المناجیح ج ۲ ص ۴۱۳)

یہ ترا جسم جو بیما ر ہے تشو یش نہ کر

یہ مَرَ ض تیر ے گنا ہو ں کو مٹاجاتا ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سرکار کو دو مَردوں کے برابر بخار آتا تھا

     حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور جب میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو چھواتو عرض کی:   یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!  آپ کو تو بہت تیز بخار ہے!  فرمایا: ہاں !  مجھے تمہارے دومردوں کے برابر بخار ہوتا ہے ۔    میں نے عرض کی:   کیایہ اِس لئے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے دُگناثواب ہوتاہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں!  ( مُسلم ص ۱۳۹۰حدیث ۲۵۷۱ )

ہم نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا!

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بعض لوگ بیماریوں اور پریشانیوں پر بے صبر ی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا ،  کسی کا کچھ نہیں بگاڑا پھربھی نہ جانے ہم پر یہ پریشانیاں کیوں ! ایسوں کیلئے بیان کردہ حدیثِ پاک میں کافی ووافی درس موجود ہے ،  یقینا ہمارے معصوم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی کسی کاکچھ نہیں بگاڑا تھا،  پھر بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیگر مردوں کے مقابلے میں دُگنا بخار آتا تھاتو معلوم ہو اکہ ’’دوسروں کا کچھ بگاڑنا‘‘ ہی بیماریوں اورمصیبتوں کا باعث نہیں ہوتا،  نیز بیماریاں او رپریشانیاں مسلمان کو ثواب کا خزانہ دلاتیں ،  گناہوں کو معاف کرواتیں اورصَبْر کرنے والے مسلمان کو جنّت کا حقدار بناتی ہیں ۔  

مریض اور کلمۂ کفر

     بعض اوقات نادان لوگ بیماری اور مصیبت سے تنگ آ کراللہ تَعَالٰی پر اعتراض کرتےہوئے کفریات بک دیتے ہیں ،  یقینا اِس طرح ان کی بیماری یا مصیبت دُور تو ہوتی نہیں اُلٹا ان کی اپنی آخِرت داؤ  پر لگ جاتی ہے۔    مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب،  ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال



Total Pages: 20

Go To